محمد خان ابڙو

تارکین وطن یا سیکورٹی رسک ؟

پاکستان میں اور خصوصی طور پر کراچی میں ہونے والی بیشتر دہشتگردی کی کارروائیوں میں یا بھارت کا ہاتھ ملوث رہا ہے یا پھر افغانستان کا۔ کیوں کہ پاکستان میں برمی، بنگالی اور ہندوستان کے ایجنٹوں کے ساتھ ساتھ بڑی تعداد میں افغانی تارکین وطن موجود ہیں جو چند پیسوں کے لیے کچھ بھی کرنے کا تیار ہیں، ملک بھر میں 9 مئی کو ہونے والے سیاسی تشدد کے واقعات کے تناظر میں اگر بات کی جائے تو جی ایچ کیو پر حملہ کرنے والے پی ٹی آئی کے رہنماوں کے ساتھ بڑی تعداد میں افغانی بھی موجود تھے، جو اسلام آباد اور راولپنڈی میں بڑی تعداد میں رہائش پذیر ہیں اب تو راولپنڈی اور اسلام آباد جاو تو لگتا ہی نہیں کہ یہ پاکستان کا حصہ ہیں کیوں کہ ہر چند قدم پر آپ کو افغانی ملیں گے، ایک طویل عرصے سے غیر قانونی طور پر پاکستان میں مقیم افغان شہریوں کی موجودگی پر بحث ہوتی آئی ہے.

در حقیقت ، ان میں سے بہت سے آخری سوویت یونین کے خلاف طویل جنگ کے دوران پاکستان میں داخل ہونے کے بعد آخری کئی دہائیوں سے یہاں موجود ہیں اور دیگر افراد یہاں آتے جاتے رہتے ہیں اورآج بھی آمد جاری ہے، آفغانستان سے روزانہ بڑی تعداد میں لوگ پاکستان میں داخل ہوتے ہیں اور پھر واپس جانے کا نام نہیں لیتے کیوں کی وہاں بھوک افلاس کی وجہ سے موت کا رقص دیکھنے کیوں کوئی جائے گا۔ جتی بڑی تعداد میں اس وقت افغان کراچی سے پشاور تک موجود ہیں اس سے لگتا یہ ہی کہ آنے والے چند سالوں میں سندھی پٹھان اور بلوچ تو کیا پنجابی بھی اقلیت بن جائیں گے۔ ایک بات کو سمجھ سے بالاتر ہے کہ ہر افغانی کے پاس پاکستانی شناختی کارڈ کس طرح ہے ؟ کیا یہ جعلی شناختی کارڈ ہیں یا اصلی ؟ کیا ہماری صوبائی اسمبلیوں اور قومی اسمبلیوں کے پاس ڈیٹا موجود ہے کہ گذشتہ 20 سالوں میں کتنے افغانیوں کو پاکستان کی قومیت دی گئی یا شناختی کارڈ دیا گیا ؟ اور کیا ہر افغانی کی بائیو میٹرک ہوئی ہوئی ہے ؟ کیوں کہ اکثر ڈکیتی کی وارداتوں کے بعد بتایا جاتا کہ نادرہ کے سسٹم میں فنگر پرنٹس میچ نہیں ہورہے لہذا کوئی افغانی تھا اگر ایسا ہے تو ایک ایک کر کے تمام افغانیوں کی بائیو میٹرک کیوں نہیں کی جاتی کیوں کہ اس سے پولیس کے پاس ایک بہانہ ختم ہوجائے گا اور ساتھ نادرہ کے پاس ریکارڈ بھی مرتب ہوجائے گا۔
میرے نزدیک یہ حیرت کی بات بالکل بھی نہیں کہ یہ افغانی بغیر سی این آئی سی کے اسلام آباد کی سڑکوں پر گھوم رہے ہیں. جب بھی میں اسلام آباد کا سفر کرتا ہوں ، میں عام طور پر افغانیوں کا دیکھتا ہوں کی وہ ہر کاروبار میں موجود ہیں اور اسلام آباد میں ایک اچھا خاصہ آثر و رسوخ رکھتے ہیں، حیرت کی بات یہ ہے اسلام آباد اور راولپنڈی جیسے حساس شہروں میں ایسے افغانی بڑی تعداد میں موجود ہیں جنہیں اردو نہیں آتی نہ وہ سمجھ سکتے ہیں نہ بول سکتے ہیں مگر وہ اپنے گروپوں کے ساتھ ایک جگہ سے دوسری جگہ جارہے ہوتے ہیں، عام طور پر پاکستان کے پختون لگتے ہیں مگر پاکستان کے پختون بھائیوں کو اردو پر مکمل عبور حاصل ہے لیکن یہ افغانی تاثر دیتے ہیں کہ یہ پاکستانی پختون ہیں۔انہوں نے پاکستانی ثقافت کے مطابق اپنے آپ کو ڈھال لیا ہے اور ان میں سے کچھ یہاں بھی پیدا ہوئے تھے لیکن یہاں پیدا ہونے کے باوجود وہ اپنے آپ کو افغانی کہتے ہیں اور کرکٹ میں پاکستان بمقابلہ افغانستان میں وہ نہ صرف افغانستان کی حمایت کرتے ہیں بلکہ پاکستان کی جیت پر پاکستان کے خلاف زہر اگلتے بھی دکھائی دیتے ہیں اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان میں ہر جگہ افغان شہری مل سکتے ہیں ، لیکن جب تک وہ قانونی تقاضوں کو پورا نہیں کرتے ہیں ان کو دارالحکومت سے بہتر طور پر دور رکھنا چاہئے. انہیں کسی بائیو میٹرک عمل کے ذریعے اندراج کروانا بہت ضروری ہے کیونکہ اتنی بڑی تعداد میں وفاقی دارالحکومت میں آنا یقینا پاکستان کے لئے سیکیورٹی کے خطرے کی گھنٹی بجا رہاہے اور اسلام آباد میں سیکیورٹی کی صورتحال کو خراب کرے گا۔ ہمیں دیر ہونے سے پہلے احتیاطی تدابیر ابھی اٹھانی چائیں۔ افغان جو حال ہی میں غیر قانونی طور پر پاکستان ہجرت کر چکے ہیں وہ کسی حد تک ان لوگوں سے زیادہ مالی طور پر مستحکم ہیں جو طویل عرصے سے پاکستان میں مقیم ہیں. یہ غیر دستاویزی افغان پاکستان جیسے ملک میں اپنے مقاصد کے حصول کے لئے کوئی بھی رقم خرچ کرنے کے لئے تیار ہیں جہاں بدعنوانی بہت زیادہ ہے اور ان کے لئے کچھ بھی ممکن ہے, لہذا ایسا نہ ہو کہ یہ پیسہ استعمال کر کے شناختی کارڈ بنوانا شروع کردیں، نادرہ کو اپنے سسٹم کو مزید مضبوط کرنا ہوگا، یہاں جو افغانی آگئے ہیں ہم انھیں نکال تو نہیں سکتے، لیکن قانونی کاروائی اور ان سب کی بائیو میٹرک اور ان کے ویزے کی مدت ختم ہونے پر انھیں گرفتار نہ کیا گیا تو آنے والے دنوں میں افغانی تارکین وطن ہماری بقاء اور سلامتی کے لیے ہندوستان سے بڑا خطرہ ہوں گے۔ لوگوں اور پورے ملک کی سلامتی کو یقینی بنانے کا یہی واحد راستہ ہے کہ قومی اسمبلی کو بتایا جائے کہ نادرہ نے چند سالوں میں کتنے افغانیوں کا شناختی کارڈ جاری کیے اور مزید شناختی کارڈ بننے کو سلسلہ کیسے روکا جائے

اپنا تبصرہ بھیجیں