کاشف اشفاق

آئی ایم ایف اور معاشی بحالی

حکومت اور انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کے مابین طے پانے والا تین ارب ڈالر کا سٹینڈ بائی معاہدہ اس لحاظ سے خوش آئند ہے کہ اس سے ناصرف پاکستان کے دیوالیہ ہونے کا خطرہ ٹل گیا ہے بلکہ اس سے ملک کی معاشی بہتری کی نئی راہیں کھلنے کی امید پیدا ہو گئی ہے۔ اس حوالے سے دوست ممالک اور حکومت کی سطح پر جو کوششیں کی گئی ہیں وہ لائق تحسین ہیں۔ یہ معاہدہ معاشی بہتری کے لئے ایک اچھا موقع ہے جس کی پاکستان کو بہت زیادہ ضرورت تھی۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ آئی ایم ایف سے معاہدے میں تاخیر کی وجہ سے پاکستان کو دیگر مالیاتی اداروں اور دوست ممالک سے ملنے والا معاشی تعاون بھی تعطل کا شکار تھا۔ علاوہ ازیں اس معاہدے سے پہلے درآمدات پر بہت زیادہ پابندیاں عائد تھیں جس کی وجہ سے صنعتوں کے لئے درکار خام مال کی دستیابی بھی مشکل ہو گئی تھی۔ تاہم اس معاہدے کے بعد امید ہے کہ درآمدات پر عائد غیر ضروری پابندیاں ختم ہو جائیں گی۔ صنعتوں کے لئے درکار خام مال کی قیمتوں میں کمی اور پیداواری عمل میں بہتری آئے گی جس سے برآمدات میں اضافہ ہو گا۔
اس وقت پاکستان کو جو سب سے بڑا مسئلہ درپیش ہے وہ زرمبادلہ کی کمی کا ہے۔ اس مسئلے کو حل کرنے کے لئے برآمدات میں اضافہ ضروری ہے جس سے ناصرف صنعتی ترقی کا عمل تیز ہو گا بلکہ اس سے روزگار کی فراہمی میں اضافہ ہوگا۔ اس حوالے سے بھی آئی ایم ایف پروگرام کی بحالی کلیدی کردار ادا کرے گی۔ اس سے مقامی ایکسپورٹ انڈسٹری اور بیرونی سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ ہو گا جس سے پاکستان کا معاشی بحران ختم کرنے میں مدد ملے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ ہمیں یہ بات یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ جب تک ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر مستحکم نہیں ہو گی اور ایکسپورٹ انڈسٹری کے لئے طویل المدت پالیسیاں نافذ نہیں کی جائیں گی ہماری برآمدات میں اضافہ نہیں ہو سکے گا۔ برآمدات بڑھانے کے لئے ضروری ہے کہ حکومت فوری طور پر ایکسپورٹ انڈسٹری کے لئے مسابقتی انرجی پیکج بحال کرے۔ اس کے علاوہ بنیادی خام مال کی فراہمی بہتر بنانے کی بھی ضرورت ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ اس معاہدے کو عملی جامہ پہنانے کے لئے حکومت نے آئی ایم ایف سے بہت سے نئے ٹیکس لگانے کا بھی وعدہ کیا ہے جس کا لازمی اثر عام آدمی کی زندگی پر پڑے گا۔ علاوہ ازیں پاکستان اور آئی ایم ایف معاہدے میں بجلی کی قیمت میں اضافہ بھی شامل ہے لیکن امید کرنی چاہئے کہ عالمی منڈی میں پیٹرول کی قیمتوں میں کمی اور مقامی سطح پر ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر بہتر ہونے سے حکومت یہ اضافہ کرنے کی بجائے پہلے سے نافذ ریٹ کو ہی برقرار رکھتے ہوئے ریونیو میں اضافے کا ہدف حاصل کر لے گی اور ان ٹیکسز کے نفاذ سے عام آدمی کی معاشی مشکلات میں مزید اضافہ نہیں ہونے دیا جائے گا۔ آئی ایم ایف سے معاہدے کے بعد ڈالر کی قیمت میں نمایاں کمی آئی ہے اور گزشتہ ماہ مہنگائی کی شرح میں بھی نو فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے جس سے ظاہرہوتا ہے کہ عوام کی معاشی مشکلات میں کسی نہ کسی حد تک کمی آنا شروع ہو گئی ہے۔ اس حوالے سے حکومت کو مزید کام کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ڈالر کی قدر میں کمی سے پیٹرولیم مصنوعات یا دیگر اشیائے ضرورت کی قیمتوں میں جو کمی آئی ہے اس کا فائدہ براہ راست عام آدمی تک پہنچایا جا سکے۔
یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ آئی ایم ایف پروگرام کے تحت حکومت پہلے ہی بجلی اور گیس کے نرخ بڑھا چکی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اضافی ٹیکس اکٹھا کرنے کے لئے تنخواہ دار طبقے اور پٹرولیم مصنوعات پر لیوی کی مد میں بھی ٹیکس بڑھایا گیا ہے جبکہ شرح سود بھی 22 فیصد تک بڑھائی جا چکی ہے۔ ان حالات میں جہاں عام آدمی، تنخواہ دار اور کاروباری طبقہ ملک کی خاطر قربانی دے رہا ہے وہیں حکومت کا بھی یہ فرض ہے کہ وہ اپنے غیر ضروری اخراجات کنٹرول کرے۔ حکومت کو اپنے وسائل میں اضافے کے لئے ایسے تمام اداروں کی نجکاری کی پالیسی پر فوری عمل شروع کرنا چاہئے جو اس وقت ملکی خزانے پر بوجھ بنے ہوئے ہیں۔ اس حوالے سے آئی ایم ایف کی طرف سے بھی پاکستان کو متعدد مرتبہ تجاویز اور سفارشات دی گئی ہیں لیکن سیاسی مصلحتوں کی وجہ سے ان پر تاحال عمل درآمد نہیں ہو پایا ہے۔
اس حوالے سے ہمارے ہاں اکثر آئی ایم ایف کو ولن یا دشمن بنا کر پیش کیا جاتا ہے حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ آئی ایم ایف نے ہمیشہ پاکستان کو اپنی مالیاتی پالیسیوں کو بہتر کرنے اور انتظامی اخراجات کو قابو کرنے کا مشورہ دیا ہے جو کسی طرح بھی قومی مفاد کے خلاف نہیں ہے۔ حکومت کو اس سلسلے میں تمام سیاسی قوتوں اور قومی اداروں کو اعتماد میں لے کر ایسی پالیسی تشکیل دینی چاہئے جو آنے والے عام انتخابات کے بعد بھی جاری رہ سکے۔ بدقسمتی سے ماضی میں یہ روایت رہی ہے کہ جب بھی کوئی سیاسی جماعت اقتدار میں آتی ہے تو وہ سابقہ حکومت کی پالیسیوں پر عمل درآمد کرتے ہوئے ترقی کے سفر کو آگے بڑھانے کی بجائے ہر وہ منصوبہ اور پالیس سرد خانے میں ڈال دیتی ہے جس پر سابق حکومت کی تختی لگی ہو۔ پاکستان کی موجودہ معاشی صورتحال پالیسیوں کے اسی عدم تسلسل کا شاخسانہ ہے۔ اس لئے اگر ہم نے ملک کو معاشی طور پر مستحکم کرنے کے لئے اب بھی اکٹھے مل کر چلنے سے انکار کیا تو ہماری یہ غلطی آنے والی نسلوں کو بہت زیادہ مہنگی پڑے گی۔ اس حوالے سے ہم پہلے ہی اس قدر زیادہ تاخیر کر چکے ہیں کہ اب مزید تاخیر کی گنجائش نہیں ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں