ارشد اسدی الحسینی

۱۔ ایمان وعمل

سورۃ البقرۃ ،آیت 25
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
وَبَشِّرِ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ أَنَّ لَهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ كُلَّمَا رُزِقُوا مِنْهَا مِن ثَمَرَةٍ رِّزْقًا قَالُوا هَذَا الَّذِي رُزِقْنَا مِن قَبْلُ وَأُتُوا بِهِ مُتَشَابِهًا وَلَهُمْ فِيهَا أَزْوَاجٌ مُّطَهَّرَةٌ وَهُمْ فِيهَا خَالِدُونَ ۞
ترجمہ
اور (اے رسول) ان لوگوں کو خوشخبری دے دو جو ایمان لائے اور نیک عمل کئے۔ کہ ان کے لئے (بہشت کے) ایسے باغ ہیں کہ جن کے نیچے سے نہریں جاری ہیں۔ جب بھی انہیں ان (باغات) سے کوئی پھل کھانے کو ملے گا تو وہ (اس کی صورت دیکھ کر) کہیں گے کہ یہ تو وہی ہے جو اس سے پہلے ہمیں (دنیا میں) کھانے کو مل چکا ہے۔ حالانکہ انہیں جو دیا گیا ہے وہ (صورت میں دنیا کے پھل سے) ملتا جلتا ہے (مگر ذائقہ الگ ہوگا) اور ان کے لئے وہاں پاکیزہ بیویاں ہوں گی اور وہ ان (بہشتوں) میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ ۔
▫️تفسیر آیت▫️
قرآن کی بہت سی آیات میں ایمان اور عمل ِصالح ایک ساتھ بیان کئے گئے ہیں ۔ یہ ایک طرح کی اس بات کی نشان دہی ہے کہ ان میں جدائی نہیں ہو سکتی اور حقیقتاً ایسا ہی ہے کیونکہ ایمان و عمل صالح ایک دوسر ے کی تکمیل کرتے ہیں اگر ایمان روح کی گہرائیوں میں اتر جائے تو یقیناً اس کی شعاع انسان کے اعمال کو بھی روشن کرے گی اور اسکے عمل کو عمل ِصالح بنادے گی ۔جیسے کوئی چراغ پر نور کسی کمرے میں جلا دیں تو روشندان اور دریچو ں سے باہر بھی اس کی کرنیں دکھائی دیتی ہیں ۔
سورہ طلاق آیت ۱۱میں ہے “ومن یومن بااللہ ویعمل صالحا یدخلہ جنت تجری من تحتھاالانھار خلدین فیھا ابدا”
جو خدا پر ایمان لے آئے اور عمل صالح انجام دے اسے خدا باغات بہشت میں داخل کرے گا جہاں درختوں کے نیچے نہریں جاری ہیں اور جہا ں جانے والے ہمیشہ اس میں رہیں گے ۔سورہٴ نور آیت ۵۵ میں ہے:
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
وعداللہ الذین آمنوامنکم وعملوالصالحات لیستخفنہم فی الارض
جو افراد ایمان لے آئیں اور اعمال صالح انجام دیں خدا کا ان سے وعدہ ہے کہ وہ انہیں روئے زمین کا خلیفہ بنائے گا ۔ اصلی طور پر ایمان جڑ ہے اور عمل صالح اس کا پھل اور میٹھے پھل کا وجود جڑ کی سلامتی کی دلیل ہے اور جڑ کی سلامتی مفید پھل کی پرورش کا سبب ہے ۔ ممکن ہے بے ایمان لوگ کبھی کبھی عمل صالح انجام دیں لیکن یہ مسلم ہے کہ اس میں دوام اور ہمیشگی نہیں ہو گی ۔ایمان جو عمل صالح کا ضامن ہے ایسا ایمان ہے جس کی جڑیں وجود انسانی کی گہرائیوں میں پہنچی ہوئی ہوں اور ان کی وجہ سے انسان میں مسولیت پیدا ہو ؂

اپنا تبصرہ بھیجیں