Ata ul Haq Qasmi

میں چیئرمین سینیٹ بنوں گا!

میرا ایک دوست ہر الیکشن میں کبھی صوبائی اور کبھی وفاقی نشست کا امیدوار ہوتا ،وہ کافی لڑاکا تھا، ہر ایک سے بلاوجہ الجھنا اس کا وطیرہ بن چکا تھا،روزانہ کسی کو راستے میں پکڑ لیتا اور معمولی سی بات پر اسے پھینٹی لگا دیتا ،انتخابات ہوتے تو وہ ہار جاتا مگر وہ اپنی شکست کبھی نہ مانتا اور کہتا اسے ’’اوپر‘‘ سے ہرایا گیا ہے، اسے یقین تھا کہ وہ اکثریتی ووٹوں سے جیتا ہے۔ اس حوالے سے اس کی دلیل یہ تھی کہ عوام مولا جٹ قسم کے لیڈروں کو پسند کرتے ہیں جو بدتمیز بھی ہوں جن میں ’’آکڑ‘‘ بھی ہو ، خودپسند بھی ہوں، چنانچہ کس طرح ممکن تھا کہ ایسی صفات کے حامل لیڈر کو عوام مسترد کر دیتے ،بس اوپر والوں نے اس کے ساتھ ہاتھ کیا ہے، اپنے اسی یقین کے حوالے سے اس دور کی تمام جماعتوں کے سربراہوں کو للکارتا اور ان کا نام بہت تضحیک سے لیتا۔اگر آپ سمجھ رہے ہیں کہ وہ صرف صوبائی یا وفاقی اسمبلی کا رکن بننے کا خواہاں ہے تو یہ آپ کی غلط فہمی ہے، اس کی اصل منزل وزارت عظمیٰ تھی ۔
وزیر اعظم بننے کی صورت میں وہ جو اپنا منشور عوام کے سامنے رکھتا تھا وہ کچھ اس قسم کا تھا کہ وہ تمام جماعتوں کے سربراہوں کو چوک میں الٹا لٹکا دے گا۔ ان کی تمام جائیدادیں ضبط کر لے گا اور وہ کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہیں گے۔البتہ وزیر اعلیٰ بننے کی صورت میں اس کا کہنا تھا کہ وہ لڑائی مارکٹائی کو پسند نہیں کرتا بلکہ شریفانہ زندگی بسر کرے گا اور اس کے پاس جو کاغد بھی آئے گا وہ آنکھیں بند کرکے اس کی منظوری دے دیا کرے گا۔ تاہم وزارتِ اعلیٰ کے حوالے سے اپنا یہ ’’منشور‘‘ اس نے صرف میرے ساتھ شیئر کیا ورنہ وہ جلسے جلوسوں میںصرف وزیر اعظم مارکہ منشور بیان کیا کرتا تھا ۔
تاہم چند دن پہلے اس سے ملاقات ہوئی تو اس کے خیالات بدلے ہوئے تھے اس نے مجھے بتایا کہ اس کے دل میں وزارت ِعظمیٰ کی خواہش دم توڑ چکی ہے کیا فضول سا عہدہ ہے ،سابق وزیر اعظم یا قتل ہو جاتا ہے یا جیل کی تنگ وتاریک کوٹھری میں بند کر دیا جاتا ہے یا اس کے ساتھ ساتھ اسے جلاوطن بھی ہونا پڑتا ہے اور یا پھر اسے اپنے گھر سے باہر نکلنے جوگا چھوڑتے ہی نہیں، اس نے اس موقع پر قائد ملت لیاقت علی خان کا حوالہ بھی دیا کہ انہیں تو ان کی وزارتِ عظمیٰ کے دوران ہی شہید کر دیا گیا تھا۔میں اس کے خیالات سن کر حیران ہو گیا اور اس وقت تو بہت زیادہ جب اس نے کہا کہ یہ دنیا کُتی ہے ،میرے دل میں اب اس کی کوئی خواہش نہیں رہی۔میںچاہتا ہوں چیئرمین سینیٹ بن جائوں اور باقی زندگی یاد اللہ میں بسر کر دوں، اس کی بات سن کر مجھے ہنسی آ گئی کیونکہ میں نے چیئرمین سینیٹ کی تاحیات مراعات کی خبر اسی روز پڑھی تھی جس پر پارلیمینٹ کی تمام جماعتوںمع تحریک انصاف نے متفقہ طور پر بخوشی دستخط کئے تھے اور یہ مراعات نہیں قومی خزانے پر ڈاکہ تھا ،میں اس کی تفصیلات یہاں بیان کرکے خود کو اور آپ کو بدمزہ نہیں کرنا چاہتا یہ انتہائی شرمناک ہیں، اوپر میں نے جو جملہ اپنے دوست کے حوالے سے لکھا کہ ’’بس میں چیئرمین سینیٹ بننےکے بعد باقی زندگی یاد اللہ میں بسر کر دوں گا کہ یہ دنیا کُتی ہے ‘‘ اس کا پس منظر یہ ہے کہ بھٹو مرحوم کے زمانے میں ایک جید عالم ایک مرکزی وزیر سے ملنے اس کے آفس گئے ان کے ساتھ ایک اور عالم دین بھی تھے انہیں بہت دیر تک باہر بٹھائے رکھا گیا جس پر یہ بہت پریشان ہوئے اور اپنے ساتھی سے کہنے لگے ’’ہم ننگ اسلاف ہیں ہمارے اکابرین کے در پر یہ لوگ خود چل کر آیا کرتے تھے اور ایک ہم ہیں کہ خود چل کر ان کے پاس آئے ہیں اور یہ دو گھنٹے سے ہمیں انتظار کرا رہے ہیں، میں کل وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کو خط لکھوں گا کہ وہ مجھے کسی اچھی جگہ دس بیس ایکڑزمین الاٹ کرا دیں جہاں بیٹھ کرمیں اللہ اللہ کروں کہ یہ دنیا کُتی ہے ‘‘ مجھے سمجھ آ گئی کہ میرا یہ سیاسی دوست بھی ’’درویش ‘‘ ہو گیا ہے اور اب دنیا داری سے تائب ہونا چاہتا ہے ۔ اللہ میرے وطن کی معیشت پر بوجھ بننے والے موجودہ اور سابق چیئرمینوں کے دل میں اپنا خوف پیدا کرے اور وہ خود یہ اعلان کر دیں کہ ان مراعات کی منظوری دینے والے سب دوستوں کا شکریہ، مگر ہمیں یہ منظور نہیں کہ ہمارا آخری قیام تو دو گز زمین کا ٹکڑا ہے !آپ یقین کریں کہ یہ آخری جملہ لکھتے ہوئے میری اپنی ہنسی نکل گئی ہے۔اب ہم لوگ ہنسنے کے علاوہ کر بھی کیا سکتے ہیں؟

اپنا تبصرہ بھیجیں