Atta-ul-Haq Qasmi

کیسے کیسے لوگ؟

ایک حاتمِ دوراں جو زمانےکی نظروں سے پوشیدہ ہیں بحمداللہ مجھ پروہ ظاہر ہیں اور گاہے گاہے ان سے ملاقات بھی ہوتی رہتی ہے۔ ابھی گزشتہ روز ان سے شرف ملاقات حاصل ہوا۔ چنانچہ انہوں نے مجھے دیکھتے ہی گھنٹی دے کر چپڑاسی کو بلایا اور کہا صاحب کیلئے چائے لے کر آئو اور ہاں دیکھو، ساتھ ذرا اچھے سے بسکٹ بھی لانا، پھر اس کے بعد چائے پیتے ہوئے انہوں نے مجھے مخاطب کیا اور کہا ’’صاحب پتہ نہیں وہ کیسے لوگ ہیں جو پیسے جمع کرنے میں لگتے رہتے ہیں ،اپنی تو یہ عادت ہے کہ جو کمائو وہ خرچ کرو ،اب آپ چائے پی رہے ہیں بسکٹ کھا رہے ہیں مجھے خوشی ہو رہی ہے اگر دیکھا جائے تو ان چند روپوں کی بھلا کوئی وقعت ہے، اتنے روپے تو آدمی راہ چلتے فقیر کو بھی دے دیتا ہے لیکن جو لطف آپ کو چائے پیتے اور بسکٹ کھاتے دیکھ کر آ رہا ہے اس کا تو کوئی بدل نہیں ہے‘‘۔ اتنے میں ایک صاحب اور کمرے میں آگئے، میرے اس حاتمِ دوراں نے چپڑاسی کو ایک کپ اور لانے کیلئے کہا بسکٹوں کی پلیٹ ان کی طرف سرکائی اور بولے ’’جناب مہمان کو دیکھ کر میرے چہرے پر چمک آ جاتی ہے مہمان اللہ کی رحمت ہوتا ہے اور وہ اپنا رزق اپنے ساتھ لے کر آتا ہے اب آپ جو یہ بسکٹ کھا رہے ہیں ان پر آپ کی مہر لگی ہوئی تھی، میں تو صرف وسیلہ بن رہا ہوں یہ تو قلندروں کا ڈیرہ ہے یہاں سارا دن لوگ آتے ہیں اور جو ان کے مقدر میں ہے لے جاتے ہیں، یہ سب اس کی ذات کا کرم ہے میں بھلا کس قابل ہوں ‘‘اتنے میں ٹیلیفون کی گھنٹی بجی میرے اس حاتمِ دوراں نے ٹیلی فون اٹھایا اور دوسری طرف موجود صاحب کا حال احوال پوچھنے کے بعد کہا ’’بس گز رہی ہے قاسمی صاحب بیٹھے ہوئے چائے پی رہے ہیں بسکٹ کھا رہے ہیں یہ بس اس کی ذات کا کرم ہے، وہ دیتا ہے میں خرچ کرتا ہوں، یہ جائیں گے تو کچھ اور دوست آ جائیں گے جس نے چائے پینا ہوتی ہے وہ فقیر کے ڈیرے کا رخ کرتا ہے، اس کی ذات کا بڑا کرم ہے میں کس قابل ہوں‘‘۔ اس دوران میں نے ان سے اجازت چاہی مگر انہوں نے بڑی محبت بلکہ شفقت سے میرا ہاتھ پکڑ کر واپس کرسی پر بٹھا دیا اور کہا ایک کپ چائے اور پئیں، چائے تو آپ پئیں گے لیکن اس سےخون میرا بڑھے گا۔ میں نے ان کا اصرار دیکھا تو کہا کہ مجھے ایک جگہ جانا تھا۔ ان دنوں موبائل فون نہیں ہوتے تھے، سوچا میں فون کرکے انہیں مطلع کردیتا ہوں یہ سن کر انہوں نے خندہ پیشانی سے ٹیلی فون میری طرف سرکایا اور بولے بسم اللہ بسم اللہ آپ جیسے کتنے دوست یہاں سے دن میں بیسیوں کالیں کرتے ہیں مجھے مسرت ہوتی ہے کہ میرا ٹیلی فون کسی کے کام آ رہا ہے۔ اتنے پیسے تو انسان راہ چلتے یونہی گٹر میں پھینک دیتا ہے اور آپ تو ماشاء اللہ صاحب علم آدمی ہیں، یہ تو میں آپ کے سر سے وار کر پھینک دوں۔ اتنے میں دوسرےٹیلی فون کی گھنٹی بجی انہوں نے ریسیور اٹھایا اور کہا ’’اللہ کا شکر ہے، جی رہے ہیں،قاسمی صاحب بیٹھےہوئے ہیں چائے پی رہے ہیں بسکٹ کھا رہے ہیں، ٹیلی فون کر رہے ہیں، یہ تو قلندروں کا ڈیرہ ہے، یہ سب اس کی ذات کا کرم ہے میں کس قابل ہوں۔‘‘
ان حاتمِ دوراں کے علاوہ ایک صاحب اور بھی ہیں جو سخاوت اور دریا دلی میں اگر ان کی ٹکر کے نہیں تو ان کے قریب ضرور ہیں۔ انہوں نے ایک دفعہ میری دعوت کی، میں ان کے ہاں پہنچا تو دنگ رہ گیا، دیکھا دیگیں کھڑک رہی ہیں، شامیانے لگے ہوئے ہیں سو ڈیڑھ سو آدمی وہاں پہلے سے میرے منتظر ہیں۔ مجھے کئی بار اپنے بارے میں یہ شبہ گزارا تھا کہ میں خاصا مشہور اورمقبول انسان ہوں مگر اس روز اپنی آنکھوں سے اپنی اس قدر عزت افزائی دیکھ کر مجھے کچھ یقین سا ہوگیا کہ اپنے بارے میں میرے خدشات درست ہیں۔ ان حاتمِ دوراں (ثانی) نے بڑے پرتپاک طریقے سے میرا استقبال کیا۔ وہاں بیٹھے احباب سے میرا تعارف کرایا اور پھر اپنی جگہ پر کھڑے ہو کر مجھ سے درخواست کی کہ آپ اپنا تازہ کلا م سنائیں میں نے تعمیل ارشاد میں ایک غزل سنائی، اس پر وہ دوبارہ کھڑے ہوئے اور مجھے مخاطب کرکے کہا اب چند شعر فی البدیہہ عزیزی عاطف سلمہ اللہ کے لئے بھی کہ آپ کے اعزاز اور رسم ختنہ کی تقریب ایک ہی روز منعقد ہو رہی ہے۔ میرا جی تو چاہتا تھا کہ اس حسنِ اتفاق پر خود قربان ہو جائوں یا انہیںقربان کر دوں مگر افسوس ملکی قوانین میرے ارادے کی راہ میں حائل ہوگئے۔ انگریز کے زمانے کے ان قوانین پر نظرثانی کی اشد ضرورت ہے۔
آخر میں سعود عثمانی کی ایک غزل بارش کے نام:
تیز لہکتی بارش ہے ‘ رسی پر کپڑے بھیگتے ہیں
آؤ ہم بھی ایسے بھیگیں جیسے بچے بھیگتے ہیں
سرخ سنہری بیلڑیوں پر نقرئی کلیاںکھل اٹھیں
ایک گلابی سرمستی میں پھول اور پتے بھیگتے ہیں
دیکھو یوں بھیگا جاتا ہے شام کے سنگِ مرمر پر
دھوپ اور بارش ساتھ ہیں دونوں اور اکٹھے بھیگتے ہیں
کھڑکی کے باہر کا منظر بالکل کمرے جیسا ہے
رخساروں پر بہتی بوندیں جیسے شیشے بھیگتے ہیں
جانے آنسو ہیں یا بارش ‘ کون اب اس پر دھیان کرے
ہم تو بس بھیگے موسم میں آنکھیں میچے بھیگتے ہیں

اپنا تبصرہ بھیجیں