محمد ارشد جیلانی

’’معاشی مسائل کا حل کیسے ممکن”

کسی بھی ملک کی تعمیر و ترقی اور خوشحالی کا راز اندرونی اتحاد و اتفاق اور یگانگت میں پوشیدہ ہوتاہے۔ اتحاد ایک ایسی چیز ہے جس کے بغیر ترقی کی منازل طے کرنا ناممکن ہے ۔ ہمارا ملک اس وقت مختلف اندرونی مسائل اور خلفشار کا شکارہے۔ ہمارے اندر اتحاد و اتفاق کا جذبہ ختم ہوتا جارہا ہے ۔ حالانکہ ہمارے قائد نے پوری قوم کو اتحاد کی تلقین کی تھی ۔ انہوں نے فرمایا تھا کہ پاکستان صرف اور صرف اتحاد کے ذریعے ہی قائم رہ سکتاہے اور پاکستان کے قیام میں جو بنیادی عنصر کارفرما رہا وہ مسلمانان ہند کا اتحاد تھا۔ جسے ہندو اور انگریز کی مشترکہ کوششیں بھی زک نہ پہنچا سکیں۔ جس قوم میں یگانگت نہیں وہ قوم چند دنوں میں کھوکھلی ہوجاتی ہے اور اپنے زوال کی طرف اس تیزی سے گرتی ہے کہ پھر سنبھلنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔امداد باہمی کی تحریک کو ترقی دینے سے ہی قومی مشکلات و مسائل کو حل کیا جا سکتا ہے ۔ اسلام اور امداد باہمی میں چولی دامن کا ساتھ ہے ۔ اسلام خود اعتمادی ، اپنی مدد ااپ ، محبت اور ایک دوسرے کو سمجھنے کا سبق دیتا ہے اور ان ہی عناصر سے امداد باہمی بنتی ہے۔ چنانچہ تمام رائج اقتصادی نظاموں میں ہمارے لئے یہ اولیت کا درجہ رکھتی ہے ۔ لہٰذا پاکستان کی ترقی پذیر معیشت میں ہمیں جن مشکلات کا سامنا ہے وہ صرف امداد باہمی کے تحت ہی اجتماعی کوششوں سے دور ہو سکتی ہے ۔ کیونکہ تحریک ملک کو ہر شعبہ حیات میں خود کفالت سے ہمکنار کرنے میں موثر کردار ادا کر سکتی ہے ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ امداد باہمی کی تحریک درپیش مشکلات اور رکاوٹوں کے باوجود فروغ پا رہی ہے ۔ لیکن اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ اس ٹحریک نے متوقع کامیابی صاحل نہیں کی ۔ جس کی وجہ غالباََ یہی ہو سکتی ہے کہ تحریک عدم تو جہ کا شکار ہے ۔ کوآپریٹران کو درپیش مسائل کی اہمیت کا تقاضاہے کہ محکمہ امداد باہمی کے حکام اور سینئر کوآپریٹران باہم مل کر تحریک امداد باہمی کے معاملات اس کے مختلف مسائل کے حال تلاش کرنے اور اسے مزید فروغ اور وسعت دینے کے وسائل پر غور کریں۔ کیونکہ امداد باہمی صرف اس وقت موثر نتائج پیدا کر سکتی ہے جب اس میں شامل لوگ پوری طرح ہم خیال ہوں اور مکمل وفاداری اور انہماک سے عوام اور ملک کی بہبود کے لئے سرگرم عمل ہوں تو کوئی وجہ نہیں کہ ایک آزاد پاکستان جو ہماری منزل تھا ہم نہ صرف اس منزل کو پالیس گے بلکہ ترقی یافتہ اقوام عالم کی صف میں کھڑے ہوں گے ۔ جو ایک غیور قوم کا شیوہ ہے ۔قومیں جب پوری مستعدی سے اٹھ کھڑی ہوں تو ان کے سامنے بڑی سے بری مشکل بھی آسان ہو جاتی ہے ۔۔۔ لیکن بلحاظ قوم اسے ایسی سوچ اسی وقت میسر آسکتی ہے جب اس کے سامنے کوئی منزل ہو اور جس کے پانے کے لیے کسی قربانی سے دریغ نہ کیا جائے ۔ اگرچہ حکومت کے سامنے ملک کی اقتصادی صورت حال بہتر بنانے کا سوال ایک بہت بڑے چیلنج کی حیثیت رکھتا ہے ۔ لیکن اللہ کے فضل سے ہمارے پاس اتنے وسائل موجود ہیں اور ہماری قوم اتنی باصلاحیت ہے کہ اگر صحیح معنوں میں قومی زندگی کے تمام شعبوں پر محیط حقیقت پسندانہ منصوبہ سازی کی جائے اور اس پر پورے عزم و اعتماد کے ساتھ عمل درآمد کا تہیہ کر لیا جائے تو کوئی وجہ نہیں کہ ہم اپنی بڑی بڑی اقتصادی مشکلات پر قابو پانے میں کامیاب نہ ہو سکیں ۔ضرورت و حالات اس بات کے متقاضی ہیں کہ ملک کی اقتصادی و معاشی پالیسیوں کا رخ موڑا جائے اور ملکی معیشت کو اجتماعی اساس پر استوار کیا جائے ۔ لہٰذا حکومت کو چاہیے کہ اپنے پروگرام کی بنیاد تحریک امداد باہمی پر استوار کرتے ہوئے منصوبہ سازی کر کے ایک ایسے اجتماعی دور کا آغاز کرے جس میں محمود و ایاز ایک ہی صف میں کھڑے ہوں جو ایک اسلامی فلاحی مملکت کا مفہوم ہے ۔ !قوموں کی زندگی میں بڑے نازک مرحلے آتے ہیں اور ایسے مرحلے تقدیر متعین کرتے ہیں، اس لیے بہتر یہی ہے کہ انہی لمحوں میں ملک کے تابناک مستقبل کے لیے سہاروں کی بیساکھیوں سے نجات حاصل کرکے اپنے وسائل پر امداد باہمی کے ساتھ زندہ رہنے کی جدوجہد کے ایک نئے دور کا آغاز کیا جائے ۔ خلوص نیت سے شروع کی گئی ہماری ذرا سی کوشش خدا کی رحمت سے بہت بڑی کامیابی کا سبب بن سکتی ہے ۔ اللہ ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں