کاشف اشفاق

فرنیچر کی برآمدات میں اضافہ کیسے؟

پاکستان کو اپنی برآمدات بڑھانے کیلئے جن شعبوں پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے ان میں فرنیچر کا شعبہ سر فہرست ہے۔ ہاتھ سے کندہ شدہ لکڑی کے پاکستانی فرنیچر کی عالمی منڈیوں میں بہت زیادہ مانگ ہے اور اسے ایک ا سٹیٹس سمبل سمجھا جاتا ہے۔ پاکستان کے لکڑی سے تیار فرنیچر کی امریکہ، برطانیہ، سری لنکا، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، عمان اور کویت میں بھی بہت مانگ ہے۔ امریکہ میں زیادہ تر بیڈ روم فرنیچر جبکہ برطانیہ اور خلیجی ممالک میں کچن اور آفس فرنیچر کی مانگ زیادہ ہے۔ اس کے باوجود چھ سو ارب ڈالر سے زائد کا حجم رکھنے والی فرنیچر کی عالمی مارکیٹ میں پاکستان کا شیئر ایک فیصد سے بھی کم ہے۔
فرنیچر کی عالمی مارکیٹ میں پاکستان کا شیئر بڑھانے کیلئے پاکستان فرنیچر کونسل گزشتہ ایک دہائی سے سرگرم کردار ادا کر رہی ہے۔ اس نان پرافٹ آرگنائزیشن کے سربراہ کے طور پر اپنے حالیہ دورہ امریکہ میں مجھے ذاتی طور پر پاکستانی فرنیچر کی مانگ کا مشاہدہ کرنے کا موقع ملا جس کے بعد مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں ہے کہ امریکہ کو پاکستانی فرنیچر کی برآمدات اس شعبے میں سالانہ ایک بلین ڈالر سے زیادہ کے برآمدی ہدف حاصل کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔ اس دورے میں میری امریکن فرنیچر ایسوسی ایشن کے اعلیٰ عہدیداروں سے بھی ملاقاتیں ہوئیں، انہوں نےپاکستانی فرنیچر مینوفیکچرز کو امریکی منڈیوں تک رسائی دینے کی بھی یقین دہانی کرائی ۔ علاوہ ازیں پاکستانی فرنیچر مینوفیکچرز کو امریکہ میں لگنے والی نمائشوں میں الگ ایریا دینے کی بھی پیشکش کی گئی، جہاں پاکستان کے لارج اسکیل فرنیچر مینوفیکچرز اپنے فرنیچر کی نمائش کر کے اس کے معیار اور پائیداری کو منوا سکیں گے۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ امریکہ دنیا بھر میں فرنیچر کی ڈیمانڈ کے لحاظ سے سب سے بڑا گاہک ہے جس کی فرنیچر مارکیٹ کا مجموعی حجم 250ارب ڈالر سے زیادہ ہے اور اس میں سالانہ چار فیصد سے زائد کا اضافہ ہو رہا ہے۔ علاوہ ازیں مارکیٹ میں بہتری کے رجحان کی وجہ سے فرنیچر کی برآمدات کے حجم میں اضافے کی وسیع گنجائش موجود ہے کیونکہ امریکی اور یورپی منڈیوں میں گھریلو صارفین کے ساتھ ساتھ دفتری اور فرنیچر و لکڑی کی مصنوعات کی مانگ بڑھ رہی ہے۔ ان حالات میں اگر حکومتی سطح پر بھی فرنیچر کی برآمدات میں اضافے کیلئے نئی غیر ملکی منڈیوں کی تلاش پر خصوصی توجہ دی جائے تو مزید بہتر نتائج حاصل کئے جا سکتے ہیں۔
اس حوالے سے گزشتہ چند برسوں میں کافی کام ہوا ہے اور رواں مالی سال کے دوران فرنیچر کی برآمدات میں گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ تاہم فرنیچر انڈسٹری کیلئے طویل المدت پالیسی تشکیل دینے کی کمی اب بھی شدت سے محسوس کی جا رہی ہے اور حکومت کو اس حوالے سے ترجیحی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ علاوہ ازیں ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان کو بھی چاہئے کہ وہ پاکستانی مصنوعات کی نمائش کیلئے امریکہ سمیت دیگر ممالک میں بھی سنگل کنٹری ایکسپوز کا انعقاد کرے اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کو مشترکہ منصوبوں کیلئے پاکستان مدعو کرے۔ ہمیں پاکستان میں فرنیچر انڈسٹری سے وابستہ افرادی قوت کو بھی جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی ضرورت ہے تاکہ بڑے پیمانے پر برآمدی آرڈرز حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی عالمی معیار کے مطابق تیاری اور بروقت ڈلیوری کو بھی یقینی بنایا جا سکے۔
اس شعبے کے پوٹینشل کو مدنظر رکھتے ہوئے نئے کاروباری مواقع کی تلاش اور پاکستانی مصنوعات کیلئے نئی منڈیوں تک رسائی کو ممکن بنانے کیلئےپاکستان فرنیچر کونسل کے پلیٹ فارم سے جون کے مہینے میں تقریبا ًایک سو سے زائد پاکستانی کمپنیاں چھ روزہ الجزائر ایکسپو میں شرکت کر رہی ہیں۔ یہ ایکسپو پاکستانی مصنوعات کی نمائش اور بین الاقوامی خریداروں کے ساتھ کاروباری معاہدے کرنے کا بہترین موقع ثابت ہو سکتی ہے۔ اس ایکسپو میں شرکت سے پاکستانی برآمد کنندگان کو یورپ اور امریکہ کی مسابقت سے بھرپور منڈیوں کے مقابلے میں ایک نئی منڈی میسر آئے گی۔ بنیادی طور پر اس طرح کی نمائشیں مینوفیکچررز کے لئے ایک سورسنگ پلیٹ فارم مہیا کرتی ہیں جہاں بنیادی اشیا سے لے کر انتہائی تخلیقی اور معیاری مصنوعات کی وسیع رینج کی نمائش شامل ہوتی ہے۔ اس طرح نہ صرف پاکستانی کمپنیوں کو اپنے کاروبار کو وسعت دینے کا موقع ملے گا بلکہ ان کی فرنیچر کی صنعت کے نئے تقاضوں کی سمجھ بوجھ میں بھی اضافہ ہو گا۔ اس حوالے سے ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان کا کردار بھی قابل تحسین ہے کہ وہ برآمدات میں اضافے کیلئے نئی منڈیوں کی تلاش میں برآمدی مصنوعات بنانےوالے ہر شعبے کو بھرپورتعاون فراہم کر رہی ہے۔
یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ پاکستان میں فرنیچر سازی کی صنعت کا زیادہ تر انحصار روایتی طریقوں پر ہے۔ دوسری طرف فرنیچر سازی کی جدید اور آٹو میٹک مشینری کی درآمد پر ڈیوٹی اور ٹیکس اتنے زیادہ ہیں کہ اگر کوئی ادارہ اسے خریدنے کا فیصلہ کر بھی لے تو یہ اس کیلئے گھاٹے کا سودا بن جاتا ہے۔ اگرچہ پاکستان کے ہاتھ سے بنائے گئے فرنیچر کی عالمی سطح پر بہت زیادہ مانگ ہے لیکن مختلف وجوہات کی بنا پر ہم اس شعبے کو وہ ترقی یا توجہ نہیں دے سکے جو دی جانی چاہئے تھی۔ سابق وزیر اعظم عمران خان نے پاکستان فرنیچر کونسل کی تجاویز پر فرنیچر کے شعبے میں استعمال ہونے والے بنیادی خام مال یعنی لکڑی کی درآمد پر ڈیوٹی ختم کر دی تھی۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ فرنیچر مینو فیکچرنگ کیلئے استعمال ہونیوالی مشینری اور ہارڈ وئیر کی مختلف درآمدی مصنوعات پر بھی ڈیوٹی ختم کی جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں