Hina Pervaiz Butt

چونسا اور لنگڑی ٹیر !

جب بھی خیانت سر چڑھ کر بولتی ہے تو نہ کوئی وطن نظر آتا ہے نہ عوامی مفاد ، نہ ملک کی جغرافیائی سلامتی اور نہ معیشت کو برقرار رکھنے کی محبت باقی بچتی ہے ، پھر قوم کو دھوکہ دینے کیلئے بار بار جھوٹ کی آڑ لینا پڑتی ہے، عوام جان چکے ہیں کہ انھیں صرف خواب دکھائے گئے ، ایران کا انقلاب اور خمینی، رجب اردوان آئیڈیل، محمد بن سلمان ترقی کا استعارہ سب لولی پوپ تھے، ایک روزتو جمہوریت کی فرنی تقسیم کرنی شروع کردی، جمہوری فرنی ابھی مکمل بٹی نہ تھی کہ صدارتی نظام کے پائے پکنے کیلئے چولہے پر چڑھا دیئے جو آج تک پک نہیں پائے ہیں۔نریندر مودی کے جیتنے کی تمنا کرتا کرتا پیوٹن میں جاکر لگا،حیران کن بات تو یہ ہے کہ ایک رات سے زیادہ حوالات میں رہ نہیں پایا اور دعوے نیلسن منڈیلا بننے کے کررہا ہے، نام نہاد جمہوریت پسند پارٹی سے لیکر کابینہ تک عملی طور پر ہٹلر بنا رہا،اقتدار سے لیکر بیدخلی کی رسوائی تک اس نے جتنے بیانات بدلے ہیں اسکی مثال نہیں ملتی ہے،ہر روز تقریر سوشل میڈیا کے ذریعے مین اسٹریم میڈیا پر نشر کروانےکا نشہ اسے لے ڈوبا ، چمک کے زور پر بنایا گیا بھان متی کا کنبہ روڑا روڑا ہوگیا ہے جس پر پپٹ اپنا دماغی توازن کھو چکا ہے،اس کا ہر انٹرویو کسی سابقہ انٹرویو کی تردید اور مجسم شرمندگی ثابت ہوتا رہا ہے لیکن شرم تو شرم والوں کو ہی آتی ہے، بی بی سی کی اصلی گوری صحافی کے سامنے بڑھک مار بیٹھا کہ جو چاہے سوال کرلو، لیکن اس بار سارے سوال ہی آئوٹ آف کورس نکلے، نہ کوئی فرمائشی سوال آیا نہ لیڈنگ،اس نے جتنے بھی جوابات دیئے انکا سوالات سے کوئی تعلق ہی نہ تھا،عمر اکثر افراد کو عقلمند بنا دیتی ہے لیکن مجال ہے اسکی بڑھتی عمر سے لمحہ بھر کیلئے بھی شائبہ ہوا ہو کہ وہ ایک سنجیدہ ، عقلمند، مخلص اور روادار انسان ہے، کوئی اسے بتائو کہ عوام کو پتہ چل گیا ہےکہ اس نے خود بی بی سی کو انٹرویو نشر کرنے سے روکنے کی درخواست مسترد ہونیکی خبر چلوائی، 9 مئی کو جو اس نے عوام سے کروایا اس سے بھی لاتعلق ہوکر مکر جانا ہی متوقع تھا،غریبوں کے بچے ،بھائی، باپ ، مائیں اور بہنیں اسکے ٹریپ میں پھنس کر جیل چلے گئے لیکن مجال ہےاسکے کان پر کوئی جوں بھی رینگی ہو، لگتا ہے کسی روز وہ یہ بھی کہہ دے گا کہ مجھے تو پتہ ہی نہیں چلا کہ سارے الیکٹیبلز مجھے چھوڑ گئے ہیں، عوام کو یقین ہوگیا ہے کہ اس کو اقتدار میں لانا ایک عارضی بندوبست تھا جو پری میچور ہونے پر دم دے چکاہے، ایک وہ وقت تھا جب یہ اپوزیشن کے مذاکرات کے مطالبے کا مذاق اڑایا کرتا تھا، لیکن وہ بدستور یہ پروپیگنڈا کرتارہا کہ اسکا ووٹ بینک قائم ہے۔ کوئی اسے جگائو کہ جنھوں نے عوام سے ووٹ لیکر جیتنا تھا وہ کبھی نہ لوٹنے کیلئے جدا ہوچکے ہیں، پتہ تو اس وقت چلے گا کہ جب الیکشن کا اعلان ہوگا اور نہ وہ ملک میں ہوگا اور نہ اسکا کوئی نام لیوا،جعلی فائٹر کہہ رہا ہے کہ میری کمیٹی کو قائل کردو میں پیچھے ہٹ جائوں گا،حقیقت تو یہ ہے کہ وہ کنارے لگ چکا ہے، شاہ محمود قریشی کا ریکارڈ گواہ ہے کبھی انکے نہیں بنے جنھوں نے انہیںمقام ومرتبہ اور عزت دی، جب اکثر بچنے کیلئے پی ٹی آئی کے ڈوبتے ٹائی ٹینک سے چھلانگیں لگا رہے ہیں، وہ اس کا جھنڈا تھامے رکھنے کا دعویٰ کررہے ہیں۔ویسے موجودہ حالت ٹانگہ پارٹی کی سی ہوچکی ہے جسکی چھ سواریاں بھی پوری نہیں ہورہیں ، عوام کو جیلوں میں پھنسا کر ان سے لاتعلقی اختیار کرنیوالا پھر سفید جھوٹ بول رہا ہے کہ میں نے کبھی عوام کو نہیں کہا کہ وہ جلائو گھیرائو کریں،کوئی اسے بتائو اسکی سیاسی جدوجہد شروع ہوئے ابھی ایک ماہ ہی ہوا ہے اگر اسے نیلسن منڈیلا بننا ہے تو قید قبول کرنا پڑے گی، ذرائع کا کہنا ہے کہ تعویز لکھنے والی بھی جلد اسے داغ جدائی دے جائیگی جس کے بعد وہ بھی برضا و رغبت جلا وطن ہونے کا اعلان کرکے برطانیہ منتقل ہوجائیگا، آخر میں دو مزے کی باتیں، پہلی یہ کہ ایک مہینہ گزر گیا ہے سوشل میڈیا پر ریڈ لائن،ریڈ لائن کا شور مچانے والے غائب ہوگئے ہیں جس پر عوام کہہ رہےہیں شکریہ حافظ صاحب، دوسری بات تو بہت مزے کی ہے لطیفہ مشہور ہورہا ہے کہ شہباز شریف نے جب چونسے آم پیش کئے تو ترکی کےصدر اردوان نے پوچھا لنگڑے دی سنائو اوہ کہندا ہوندا سی کہ کلا ای کافی آں؟ شہباز شریف ہنس کر بولے ہاںوہ اب اکیلا ہی لنگڑی ٹیر کھیل رہا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں