ارشد اسدی الحسینی

بعثت ِ انبیاء کامقصدِ اعلیٰ

سورہ حدید آیت 25
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

*لَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَيِّنَاتِ وَأَنزَلْنَا مَعَهُمُ الْكِتَابَ وَالْمِيزَانَ لِيَقُومَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ وَأَنزَلْنَا الْحَدِيدَ فِيهِ بَأْسٌ شَدِيدٌ وَمَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَلِيَعْلَمَ اللہُ مَن يَنصُرُهُ وَرُسُلَهُ بِالْغَيْبِ إِنَّ اللہَ قَوِيٌّ عَزِيزٌ ۞*
یقیناً ہم نے اپنے رسولوں(ع) کو کھلی ہوئی دلیلوں (معجزوں) کے ساتھ بھیجا اور ان کے ساتھ کتاب اور میزان نازل کی تاکہ لوگ عدل و انصاف پر قائم ہوں اور ہم نے لوہا نازل کیا (پیدا کیا) جس میں بڑی قوت ہے (اور شدید ہیبت ہے) اور لوگوں کے لئے فائدے بھی ہیں تاکہ اللہ دیکھے کہ کون دیکھے بغیر اس کی اور اس کے رسولوں(ع) کی کون مدد کرتا ہے؟ بےشک اللہ بڑا طاقتور (اور) زبردست ہے۔ ۔

⭕ *تفسیر* ⭕

چونکہ پروردگار کی رحمت ،مغفرت اور بہشت کی طرف سبقت کرنا (جس کی طرف گزشتہ آیات میں اشارہ ہوا ہے ) رہبران ِ الہٰی کی رہبری کا محتاج ہے لہٰذا زیر بحث آیت میں ، جو قرآن کی زیادہ مفہوم رکھنے والی آیتوں میں سے ایک آیت ہے ، اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اور انبیا کے بھیجنے کا مقصد اور ان کے دستور العمل کو نہایت باریک بینی کے ساتھ پیش کرتے ہوئے فرماتا ہے :
“ہم نے اپنے رسُولوں کو واضح دلائل دے کر بھیجا ہے “۔(لَقَدْ ارْسَلْنا رُسُلَنا بِالْبَیِّنات)۔”اور ہم نے ان کے ساتھ آسمانی کتاب اور میزان کو نازل کیا “۔(وَانْزَلْنا مَعَہُمُ الْکِتابَ وَ الْمیزان)۔ “تاکہ لوگ عدل و انصاف کے ساتھ قیام کریں “۔(لِیَقُومَ النَّاسُ بِالْقِسْط)۔ “بیّنات” ( واضح دلائل ) اس کے معنی وسیع ہیں جن میں معجزات اور عقلی دلائل دونوں شامل ہیں اور جن کی صلاحیّت خدا کے رسول (ص ) اپنی ذات میں رکھتے تھے ۔ “کتاب” سے مراد وہی کُتبِ آسمانی ہیں اور چونکہ سب کی رُوح اور حقیقت ایک ہے لہٰذا لفظ کتاب مفرد آیا ہے ، اگرچہ زمانے کے گزرنے اور انسانوں کے علمی ارتقا سے اس کا مفہوم زیادہ وسیع ہو جاتا ہے ۔ باقی رہی میزان تو وہ وزن کرنے اور ناپ تول کے آلے اور ذریعہ کے معنی میں ہے ۔اس کا مادّی مصداق وہی ترازو ہے جس کے ذریعے چیزوں کے وزن کی ناپ تول ہوتی ہے۔ لیکن مسلّمہ طور پر یہاں اس کا مصداق اس کی معنوی حقیقت ہے یعنی ایسی چیز جس سے تمام انسانوں کے اعمال کی ناپ تول کی جا سکتی ہے اور وہ کُلّی طور پر خُدائی احکام و قوانین ہیں یا اس کا آئین و دستور ہے اور جو نیکیوں بُرائیوں، قدروں ، قیمتوں اور ان کی ضد کو جانچنے کا معیار ہے ۔اس اعتبار سے انبیا تین چیزیں اپنے ساتھ رکھتے تھے ،واضح دلائل ،کُتب ِ آسمانی اور حق و باطل کی ناپ تول کا معیار اور اس چیز میں کوئی مانع نہیں ہے کہ قرآن مجید “مبیتہ ” (معجزہ ) بھی ہو ۔ آسمانی کتاب بھی اور احکام و قوانین کو بیان کرنے والا بھی ۔ یعنی ایک ہی چیز میں تینوں پہلو موجود ہوں ۔بہرحال ان عظیم افراد (انبیاء)کو پورے سازو سامان کے ساتھ بھیجنے کا مقصد قسط و عدل کا اجرا ہے ۔دراصل یہ آیت رسُولوں کے بھیجنے کے متعدد مقاصد میں سے ایک مقصد کی طرف اشارہ کرتی ہے ۔ ہمیں معلوم ہے کہ انبیاء و مرسلین متعدد مقاصد کے لیے کام کرتے تھے ۔ان کے آنے کا ایک مقصد لوگوں کی تعلیم و تربیّت تھا جیسا کہ سُورہ جمعہ کی آیت ۲میں آیا ہے ۔(ھوَ الَّذی بَعَثَ فِی الْامِّیِّینَ رَسُولًا مِنْہُمْ یَتْلُوا عَلَیْہِمْ اٰیاتِہِ وَ یُزَکِّیہِمْ وَ یُعَلِّمُہُمُ الْکِتابَ وَ الْحِکْمَةَ ) وہی ہے جس نے مکہ والوں میں سے ایک فرد کو رسول بنا کر بھیجا تاکہ وہ ان کے سامنے اس کی آیتیں پڑھے ، ان کے نفوس کا تزکیہ کرے اور انہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دے ۔ دوسرا مقصد یہ ہے کہ انسان کی غلامی کی زنجیریں توڑ دے جیسا کہ سُورہ اعراف کی آیت ۱۵۷میں درج ہے :(وَ یَضَعُ عَنْہُمْ ِاصْرَھمْ وَ الْاغْلالَ الَّتی کانَتْ عَلَیْہِمْ ) پیغمبرِ اسلام (ص ) ان کے کاندھوں پر سے بہت بھاری بوجھ ہٹاتا ہے اور وہ زنجیریں جو ان کے ہاتھ پاؤں اور گردن میں ہیں ان کو توڑ دیتا ہے ۔ تیسرا مقصد اخلاقی اقدار کی تکمیل ہے جیسا کہ مشہور حدیث میں ہے : (بعثت لاتمم مکارم الاخلاق) میں اخلاقی فضائل کی تکمیل کے لیے مبعوث ہوا ہوں .۱؎
آخری ایک مقصد اور ہے اور وہ ہے” اقامہ قسط “جس کی طرف زیرِبحث آیت میں اشارہ ہوا ہے اور اس طرح بعثتِ انبیاء کے مقاصد کا سیاسی ، اخلاقی اور اجتماعی تعلیم و تربیّت کے عنوان کے ماتحت خلاصہ کیا جا سکتا ہے ۔یہ بات بالکل آشکار ہے کہ زیر بحث آیت میں تنزیل کتب کے قرینے کے پیش ِ نظر رسولوں سے مراد اُولوالعزم پیغمبر ہیں یا وہ پیغمبر ہیں جوان کے مانند ہیں ۔
ایک دُوسرا نکتہ”لیقوم الناس بالقسط “کے جملہ میں یہ ہے کہ لوگوں کی ترغیب کے بارے میں گفتگو کرتا ہے ۔ یہ نہیں فرماتا :”مقصد یہ تھا کہ انبیاء انسانوں میں قیامِ عدل کی تحریک پیدا کریں “بلکہ فرماتا ہے کہ:” لوگ انصاف کو بروئے کار لائیں “۔ جی ہاں اہم بات یہ ہے کہ لوگوں کی اس طرح تربیّت کی جائے کہ وہ خُود عدالت و انصاف کو جاری کرنے والے بن جائیں اور اس راہ کو اپنے قدموں سے طے کریں ۔لیکن چونکہ ایک انسانی معاشرہ میں بہرحال جس قدر بھی اخلاق ،اعتقاد اور تقویٰ کی سطح بلند ہو گی اس میں پھر بھی ایسے افراد پیدا ہوں گے جو طغیان و سرکشی کے لیے آمادہ ہوں اور قیامِ عدل کی راہ میں روڑے اٹکائیں اِس لیے اس آیت کو برقرار رکھنے اور دوام بخشنے کے لیے فرماتا ہے :” ہم نے لوہے کو نازل کیا جس میں شدید قوّت ہے اور لوگوں کے لیے منافع ہیں”۔ (وَانْزَلْنَا الْحَدیدَ فیہِ بَأْس شَدید وَ مَنافِعُ لِلنَّاسِ )۔ جی ہاں انبیائے خدا کی تین قوتیں اجرائے عدالت کے لیے اپنے اصلی مقصد کو اس وقت حاصل کر سکتی ہیں جب وہ لوہے جیسی طاقت اور شدید قوّت سے بہرہ وَر ہوں ۔ اگرچہ بعض مفسّرین نے یہ تصوّر کیا ہے کہ انزلنا کے الفا ظ یہ بتاتے ہیں کہ لوہا زمین پر دُوسرے کُرّوں سے آیا ہے لیکن حق یہ ہے کہ انزال کی تعبیر اس قسم کے مواقع پر ایسی نعمتوں کی طرف اشارہ کرتی ہے جو بلند مقام کی جانب سے پست مقامات کودی جائیں ۔ چونکہ ہر چیز کے خزائن خدا کے پاس ہیں اور وہی ہے جس نے لوہے کو اس کی گوناں گوں منفعتوں کے لیے پیدا کیا ہے ۔اس لیے لفظ انزال آیا ہے ۔ *اسی بنا پر ایک حدیث میں حضرت علی علیہ السّلام سے منقول ہے کہ آپ نے اس جملہ کی تفسیر میں فرمایا (انزالہ ذالک خلقہ ایاہ ) لوہے کو نازل کرنے سے مراد اس کو پیدا کرنا ہے* .۲؎
جیسا کہ سورۂ زمر کی آیت ۶ میں چوپاؤں کے بارے میں ہمیں ملتا ہے:
(وَ انْزَلَ لَکُمْ مِنَ الْانْعامِ ثَمانِیَةَ ازْواج)
“اور تمہارے چوپاؤں کے آٹھ جوڑے نازل کیے ہیں ”
بعض مفسّرین نے انزلنا کو”نزل” (بروزن شتر) کے مادّہ سے ایسی چیز کے معنی میں لیا ہے جسے مہمان کی تواضع کے لیے تیّار کرتے ہیں لیکن ظاہر وہی پہلے معنی ہیں ۔”بأس “لغت میں شدّتِ قدرت کے معنی میں ہے اور جنگ کو بھی باس کہا جاتا ہے اور اس لیے بعض مفسّرین نے جنگی وسائل کے معنی میں لیا ہے۔ عام اس سے کہ وہ دفاعی ہوں یا جنگجویانہ ۔
ایک روایت میں حضرت علی علیہ السّلام سے منقول ہے کہ آپؑ نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا: (یعنی السلاح وغیرذالک) مراد اسلحہ وغیرہ ہے ۔ظاہر ہے کہ یہ بیان مصداق ہی کی قبیل میں سے ہے۔ “منافع “سے مراد ہر قسم کا نفع ہے جو انسان لوہے سے حاصل کرتا ہے ۔ہمیں معلوم ہے کہ لوہے کی اہمیّت انسانی زندگی میں اس قدر زیادہ ہے کہ اس کی انکشاف سے تاریخ بشر میں ایک نیا دَور شروع ہو گیا جو لوہے کے دَور کے نام سے مشہور ہے ۔چونکہ اس کے انکشاف سے انسانی زندگی کا چہرہ تمام رُوئے زمین پر دوسری سمتوں میں پھیل گیا ہے ۔ یہ صُورت ِ حال مذ کورہ آیت میں منافع کی وسعت کو بیان کرتی ہے ۔قرآن مجید میں بھی مختلف آیات میں انہی معانی کی طرف اشارہ ہوا ہے۔ ایک مقام پر فرماتا ہے :
“جس وقت ذوالقرنین نے اپنی مشہور دیوار کے بنانے کا پکا ارادہ کیا تو کہا: (اٰتونی زبر الحدید)”میرے لیے لوہے کے بڑ ے بڑے ٹکڑے لے آؤ”۔(کہف۔۹۶) اور جس وقت خدا نے داؤد پر اپنا کرم کیا تو لوہے کو اس کے لیے نرم کردیا تاکہ وہ اس سے زرہ بنا سکیں اور جنگ کے خطروں اور دشمنوں کے حملوں میں کمی واقع ہو سکے ۔ *(وَ الَنَّا لَہُ الْحَدیدَ انِ اعْمَلْ سابِغات )* (سبا ۱۰۔۱۱)۔اس کے بعد ارسال رسل، نزول ِ کتبِ آسمانی اور لوہے جیسے وسائل کی خلقت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے :” مقصد یہ ہے کہ خدا جان لے کہ کون لوگ اس کی اور اس کے رسُولوں کی اس کے غیب میں مدد کرتے ہیں”۔ (ولیعلم اللہ من ینصرہ و رسلہ بِالغیب)۔ یہاں خدا کے علم سے مراد اس کے علم کی تحقیق عینی ہے ۔یعنی یہ بات واضح ہو جائے کہ کون لوگ خدا کی اور اس کے مکتب ِ فکر کی مدد کے لیے آ مادہ ہوتے ہیں اور قیام بالقسط کرتے ہیں اور وہ کون لوگ ہیں جواس عظیم ذمہ داری سے رُو گردانی کرتے ہیں ۔ حقیقت میں اِس آیت کا مفہوم اُس کے مشابہ ہے جو سُورۂ آل ِ عمران کی آیت ۱۷۹میں آیا ہے ،(ما کانَ اللہُ لِیَذَرَ الْمُؤْمِنینَ عَلٰی ما انْتُمْ عَلَیْہِ حَتّٰی یَمیزَ الْخَبیثَ مِنَ الطَّیِّب)”ممکن نہیں تھا کہ خدا مؤمنین کو اس شکل میں جس میں تم ہو چھوڑ دے مگر یہ کہ نا پاک کو پاک سے الگ کر دے”۔ تو اس طرح انسانوں کی آزمائش اور امتحان کا مسئلہ اور مختلف صفوں کو الگ کرنا اور ان کا تصفیہ کرنا اس دستور العمل کا ایک عظیم مقصد تھا ۔خدا کی مدد کرنے کی جو تعبیر ہے وہ مسلمہ طور پر اس کے دین و آئین اور اس کے نمائندوں کی مدد کرنے اور دین ِ حق اور عدل و انصاف کو پھیلانے کے معنی میں ہے ، اس لیے کہ خدا کسی کی مدد کا محتاج نہیں ہے ۔سب اس کے نیاز مند ہیں ۔ اس لیے ان معانی کو ثابت کرنے کے لیے آیت کو اس جملے پر ختم کرتا ہے کہ” خدا قوی اور ناقابل ِ شکست ہے”۔ ( ان اللہ قوی عزیز ) ۔اُس کے لیے ممکن ہے کہ وہ ایک ہی اشارے سے سارے جہان کو زیر و زبر کرائے اور اپنے تمام دشمنوں کو ختم کردے اور اپنے اولیاء کو کامیابی عطا کرے لیکن وہ مقصدِ اصلی جسے انسان کی تربیّت اور اس کا ارتقا کہا جا سکتا ہے۔ اس طرح حاصل نہیں ہوتا اس لیے وہ انسان کو دین ِ حق کی مدد کے لیے دعوت ِ عمل دیتا ہے ۔

حوالہ جات:
۱؎بحارالانوار جلد۱۷ص ۳۷۳ باب حسن الخلق در ذیل حدیث اوّل ۔
۲؎تفسیر نورالثقلین جلد ۵ص ۲۵۰(حدیث ۱۰۱،۱۰۰) ۔

بعثت ِ انبیاء کامقصدِ اعلیٰ” ایک تبصرہ

  1. You’re truly a excellent webmaster. The website loading speed is incredible. It seems that you’re doing any distinctive trick. In addition, the contents are masterpiece. you have performed a wonderful activity in this subject! Similar here: sklep internetowy and also here: Sklep internetowy

اپنا تبصرہ بھیجیں