عطا الحق قاسمی

جنت کی حوریں !

میرے قارئین جانتے ہیں کہ میں بہت دفعہ جنت میں گیا ہوں اور اس کے علاوہ دوزخ کی جھلکیاں بھی دیکھی ہیں،میرے قارئین کو یہ علم تو نہیں کہ میں جیتے جاگتے بھی جنت کی ٹھنڈی میٹھی فضائوں میں رہا ہوں اور دوزخ کی تپش بھی محسوس کی ہے تاہم میں نے اپنے یہ تجربات قارئین سے کبھی شیئر نہیں کئے، البتہ بہت دفعہ خواب کے عالم میں جنت کی راحتوں سے مستفید ہوا ہوں اور ایک دفعہ دوزخ میں بھی بھیجا گیا ہوں لیکن یہ پرانی بات ہے اس دور کا ذکر ہے جب میں نے مولانا طارق جمیل کی تقاریرِ دل پذیر نہیں سنی تھیں، ایک روز میں نے مولانا طارق جمیل کا بیان جنت کے موضوع پر سنا ان کا اندازِ بیان اور جنت کی نعمتوں کی تفصیل میرے دل ودماغ پر چھا گئی ،خصوصاً حوروں کا حوالہ اس قدر مختلف تھا کہ جب میں اس روز سویا تو میں نے خواب میں خود کو جنت میں پایا۔ میں نے ایک حور کو دیکھا کہ مولانا کے بیان کے مطابق اس نے ستر لباس پہنے ہوئے تھے مگر ہر لباس کے نیچے اس کا دوسرا لباس اور دوسرے لباس کے نیچے تیسرا لباس حتیٰ کہ ایک ایک کرکے اس کے ستر لباسوں کے نیچے بھی اس کا جسم نازنین پوری قیامت آفرینی کے ساتھ نظر آ رہا تھا یہ منظر دیکھ کر میرے پورے جسم میں ایک سنسناہٹ سی پیدا ہوئی مگر اس دوران ایک اور مولانا کی یہ بات بھی درست ثابت ہوئی کہ پیشتر اس کے کہ میں اس قیامت خیز حور کی طرف متوجہ ہوتا جو ستر لباسوں میں بھی اپنی عریانی چھپانے میں ناکام رہی تھی کہ اس اثنا میں ایک اور حور نے میرے کاندھے پر ہاتھ رکھا میں اس کی طرف متوجہ ہونے ہی کو تھا کہ ایک اور حور کا ہاتھ میرے دوسرے کاندھے پر تھا پیشتر اس کے کہ میں دوسری پر اپنی نظر کرم ڈالتا پہلی والی نے میری نیت بھانپ کر کہا آپ نا انصافی نہ کریں میں نے اس سے پہلے آپ کے کاندھے پر ہاتھ رکھا تھا!
میں عجیب مخمصےمیں تھا ایک طرف ستر لباس پہنے حورشمائل پوری بے حجابی کے ساتھ میرے سامنے کھڑی تھی دوسری طرف دو حوریں اپنی باری کے حوالے سے مجھے غصے سے دیکھ رہی تھیں خدا کا شکر ہے کہ اس اثنا میں مولانا طارق جمیل کی بیان کردہ حور پر میری نظر پڑی ،نظر ایسے ہی نہیں پڑی میں آسمان کی طرف منہ کرکے اللہ کا شکر ادا کر رہا تھا کہ اس نے مجھ ایسے گنہگار کو وہ لمحات عطا کئے جو میں نے شاید کبھی سوچے بھی نہیں تھے، اس حور پر میری نظر اس طرح پڑی کہ مولانا کے بیان کے مطابق اس کا قد پورے ایک سو تیس فٹ تھا تاہم اس کیلئے مجھے دیکھنا قطعاً مشکل نہ تھا کہ بقول شاعر
دل کے آئینے میں ہے تصویر یار
جب ذرا گردن جھکائی دیکھ لی
اور میں نے محسوس کیا کہ وہ مسلسل گردن جھکائے مجھے دیکھ رہی تھی مگر میں نے اس موقع پرغصِ بصرسے کام لیا مگر پھر میں نے سوچا کہ یہ کفران نعمت ہے چنانچہ میں نے ایک غلمان کو بلایا یہ بھی بہت دیر سے میری طرف تیکھی نظروں سے دیکھ رہا تھا شاید کسی حکم کا منتظر تھا میں نے اسے بلند قامت حور کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہیں سے سیڑھی کا بندوبست کرو اس نے اپنی ناک پر انگلی رکھ کر کہا آقا سیڑھی کی کیا ضرورت؟ وہ تو آپ کے اشارے کی منتظر ہے آپ اشارہ کریں وہ آپ کے قد کے برابر ہو جائے گی مگر میں نے یہ مناسب نہ سمجھا کہ میں ایسےہی اس عجیب الخلقت مخلوق کو دیکھنے کا خواہشمند تھا جس کا ذکر میں نے مولانا کی زبان سے سنا تھا، ادھر یہ خواہش میرے دل میں پیدا ہوئی اوراُدھر وہ حور میرے سامنے آ گئی یہ شرقاً و غرباً چالیس مربع فٹ میں پھیلی ہوئی تھی اور اس کے بارے میں ایک مولانا نے اپنی تقریر میں فرمایا تھا کہ جنتی کو اس کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک پہنچنے کے لئے چالیس دن لگیں گے میرے گھنٹوں میں بہت تکلیف ہے میں تو چند قدم ہی نہیں چل سکتا سو میں نے اس طویل اور بے معنی سفرکا خیال دل سے نکال دیا۔
اس دوران مجھے شدید بھوک لگ گئی تھی میں اللہ کی کس کس نعمت کا ذکر کروں ،میرے ارد گرد ودھ او رشہد کی نہریں بہہ رہی تھیں میں دودھ کی نہر پر گیا اور ایک گلاس دودھ پیا تو ساتھ ہی ایک خوانِ نعمت ایک غلمان نے جو کسی حور سے کم خوبصورت نہیں تھا، میرے سامنے لاکر سجا دیا اب میں تھک گیا تھا میں یاقوت و مرجان سے مزین اپنے محل میں گیا اور مخلمی بستر پر لیٹ گیا میں طلسمی حوروں کے سحر میں گم تھا مگر یہ ہی سوچ رہا تھا کہ بعض حوروں کا بیان مجھ ایسے گنہگار کی سمجھ میں کیوں نہیں آ رہا تھا تب اللہ نے میری رہنمائی کی کہ مولانا طارق جمیل نے بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ لوگوں کو نیکی کی تبلیغ کے دوران ضعیف حدیثوں کا بیان بھی جائز ہے اللہ کا شکر ہے کہ میں کسی غلط فہمی کا شکار ہونے سے بچ گیا! اور مزید شکریہ کہ اس کےساتھ ہی میری آنکھ کھل گئی اور میں واپس اپنی جنت اور دوزخ میں آ گیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں