عوام

نفرتیں یونہی جنم نہیں لیتیں

اردو کے ممتاز شاعر احمد فراز کا شعر ہے کہ
میں آج زد پہ اگر ہوں تو خوش گمان نہ ہو
چراغ سب کے بجھیں گے ہوا کسی کی نہیں
گزشتہ تین روز سے جو مناظر دیکھ رہا ہوں اس سے دل دکھی ہے مگر پھر سوچتا ہوں آخر یہ مرحلہ آیا کیوں؟۔ آخر لوگوں نے سب سے پہلے فوجی چھاؤنیوں کا رخ کیوں کیا؟۔ یہ دونوں سوال میرے لئے بڑے اہم تھے۔ جنگ اخبار کے یہ صفحات گواہ ہیں کہ میں نے پچھلے ایک برس سے متعدد مرتبہ لکھا کہ حکمران ٹولے نے لوگوں کی زندگیوں میں پریشانی اتار کر زہر گھول دیا ہے۔ جن لوگوں نے قوم پر یہ حکمران مسلط کئے انہیں سوچنا چاہئے کہ لوگ اپنی تمام تر پریشانیوں کا ذمہ دار انہی کوسمجھتے ہیں ، بقول شیخ رشید،’’لوگ ان حکمرانوں کی شکلیں دیکھنا نہیں چاہتے جنہیں مسلط کر دیا گیا ہے‘‘۔ میں دوبارہ ان سوالوں پر غور کرتا ہوں تو ناجانے کیوں اپنے راوین سابق سیکرٹری خارجہ شمشاد احمد خان کے یہ جملے تیر بن کر دل میں پیوست ہو جاتے ہیں کہ’’میں نے پاکستان بنتے دیکھا پھر ٹوٹتے دیکھا اور اب بکھرتے ہوئے دیکھ رہا ہوں‘‘۔ پی ڈی ایم جماعتوں کے سارے کرداروں کا لوگوں کے خلاف جو بھی کھیل ہے اس کا ذمہ دار لوگ اسٹیبلشمنٹ ہی کو سمجھتے ہیں۔رجیم چینج کے موقع پر یہ کہنے کی کیا ضرورت تھی کہ’’جب حکومت تبدیل ہوتی ہے تو ملک کی معیشت اوپر جاتی ہے‘‘۔ پھر لوگوں نے دیکھا کہ پاکستانی معیشت کا کس طرح برا حال ہوا ، اس معاشی تباہی کے باوجود پاکستانی اسٹیبلشمنٹ اس کاریگر کرپٹ ٹولے کے پیچھے کھڑی رہی۔ اس رویے پر میری طرح دیگر حب الوطنوں کے دل تڑپتے رہے بلکہ پاک فوج میں خدمات انجام دینے والے جنرل(ر) امجد شعیب نے یہ تک کہہ دیا کہ’’ نیشنل سیکورٹی کونسل کی میٹنگ میں پی ڈی ایم نے نئے آرمی چیف سے مطالبہ کیا کہ اگر آپ چاہتے ہیں کہ ملک کی معیشت ٹھیک کریں اور پھر اس کیلئے ہم مشکل فیصلے کریں تو عمران خان کو ہر حالت میں نااہل کروانا ہوگا ۔ میں ایک سابق سینئر فوجی افسر کی حیثیت سے افواج پاکستان کا ہر لمحہ ہر جگہ دفاع کرتا ہوں، میں انہیں ایک بات بتانا چاہتا ہوں کہ ان کی گندی سیاست سے دور رہیں۔ یہ ذہن میں رکھیں کہ اگر آپ پی ڈی ایم کی سیاست میں رہیں گے تو سارا ملبہ افواج پاکستان پر آئے گا۔ آرمی یہ افورڈ نہیں کرتی کہ وہ عوام میں اپنی عزت گنوا بیٹھے ۔ جس طرح برا بھلا کہا جا رہا ہے یہ کسی بھی صورت میں ہمارے ادارے کے مفاد میں نہیں۔ عمران خان کے خلاف ہر طرح کے گھٹیا، غلیظ اور اخلاقی گراوٹ سے بھرپور حربے استعمال کئے گئے مگر عمران خان کی مقبولیت میں کمی کی بجائے اضافہ ہوا ،اس کے ساتھ ساتھ افواج پاکستان کی عزت و توقیرکم ہوئی ، بڑھی نہیں ۔جیسے جیسے آپ عمران خان کے خلاف گند اچھال رہے ہیں لوگ اس گند کو نہیں دیکھ رہے بلکہ اس کے خلوص کو دیکھ رہے ہیں،وہ یہ سمجھتے ہیں کہ وطن کے ساتھ اگر کوئی لیڈر مخلص ہے، اگر ملکی معاملات کو درست کرنے کیلئے کوئی شخص ہے تو وہ صرف عمران خان ہے۔اسی وجہ سے تیرہ جماعتوں کے امپورٹڈ ٹولے کو عوام نے مسترد کر دیا ہے۔ عمران خان پاکستان کے عوام کی ضد بن چکا ہے ۔اگر آپ یہ بات سمجھ لیں کہ عمران خان پاکستان کے عوام کی ضد بن چکا ہے تو پھر آپ مزید گند پھیلانے سے گریز کریں۔ میری سب سے التجا ہے کہ ملک میں مزید گندگی نہ پھیلائیں، یہ گندگی پہلے ہی آپ اتنی پھیلا چکے ہیں کہ اس ملک کو آپ نے پوری دنیا کے سامنے ایک مذاق بنا کر رکھ دیا ہے ۔ سیاست کا معیار اتنا گھٹیا آپ نے کر دیا ہے کہ اس کے بعد سوائے شرم سے سر جھکانے کے اور کچھ نہیں رہا اور سمجھ جائیں کہ اگر عمران خان کو آپ نے ایک مرتبہ نہیں سو بار بھی نااہل کردیا تو عوام پھر بھی اس کے پیچھے کھڑے رہیں گے۔ اگر یہ بات آپ کی سمجھ میں آ جائے تو آپ لازماً حقیقت کا ساتھ دیں گے اور ایسی مجرمانہ حرکتوں سے دور رہیں گے جس کے ذریعے آپ چوروںکیلئے سیاسی میدان صاف کرنا چاہتے ہیں‘‘۔
میں نے جنگ کے صفحات پر یہ بھی لکھا تھا کہ لوگوں کے گھروں پر راتوں کو چھاپے نہ مارے جائیں، لوگوں کے بچوں کو نہ اٹھایا جائے ، لوگوں کو ہراساں نہ کیا جائے ، اس سے نفرتیں بڑھتی ہیں مگر حکمرانوں کی حالت تو یہ ہے کہ گزشتہ دو راتوں سے عثمان ڈار کے گھر پر دھاوا بولا جا رہا ہے ، اس کی والدہ کی بے حرمتی کی جارہی ہے ، اس کے گھر میں سرکاری اہلکار توڑ پھوڑ کر کے گھر کی خواتین کو دھمکیاں دے رہے ہیں تو کیا اس سے محبت بڑھے گی ؟ اس سلسلے میں فضائی کمپنی کے چیئرمین فضل جیلانی کا کہنا ہے کہ ’’عثمان ڈار کے گھر کو دیکھ کر لگتا ہے جیسے ہم انڈیا میں رہ رہے ہوں‘‘۔ عمران خان کی گرفتاری کی شدید مذمت کرتے ہوئے ایک محب وطن پاکستانی سیاست دان اور ایم ڈبلیو ایم کے سربراہ علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کہتے ہیں کہ’’ہمیں گھروں سے باہر نکلنا ہو گا اپنے وطن کی خاطر، آئین کی خاطر، کچلے ہوئے لوگوں کی خاطر، ان کی خاطر جن کے بچے قتل کر دئیے جاتے ہیں، ان کی خاطر جن کے بچے اٹھا لئے جاتے ہیں اور وہ ان کی جدائی کا دکھ سہتے ہوئے مر جاتے ہیں ۔ ان شاء اللہ لوگ اپنے پیارے پاکستان کیلئے دنیا بھر سے نکلیں گے اور اقتدار کی کرسی سے چپکے لوگوں کو بتلائیں گے کہ پاکستان عوام کا ہے، لٹیروں اور راہزنوں کا نہیں‘‘۔
میں نے کوشش کی ہے کہ پاکستان کا درد دل رکھنے والوں کا موقف آپ کے سامنے پیش کروں۔ ابھی ابھی خبر آئی ہے کہ خان کی تمام مقدمات میں ضمانت ہو گئی ہے اور انہیں 17مئی تک کسی نئے مقدمے میں بھی گرفتار نہیں کیا جا سکتا ، بس اتنا عرض ہے کہ
تازہ ہوا کے شوق میں اے ساکنان شہر
اتنے نہ در بناو کہ دیوار گر پڑے

اپنا تبصرہ بھیجیں