Dr Ijaz Ahmad

آہنی ہاتھ

آہنی ہاتھ

یونان میں ہوا کشتی حادثہ کوئی نیا نہیں ہے۔ انسانی جانوں کا ضیاع تواتر سے ہو رہا ہے۔چند دن میڈیا پر واقعہ کو کیش کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد راوی چین ہی چین لکھتا ہے۔
اگر ہم اپنے ملک کو ایک جسم کی حثیت سے فرض کر لیں۔ تو پورا جسم اس کے اعضاء گل سڑ چکے ہیں۔ مختلف بیماریاں گھر کر چکی ہیں۔یہ جسم بستر مرگ پر پڑا ہے۔ ایسے میں ایسا طبیب چاہئے جو تشخیص مرض صیح سے کرے۔ جب تک مریض کی تشخیص صیح سے نہیں ہو گی علاج نہیں ہو گا۔ ہم تب تک یہی سنتے رہیں گے۔ (ملک نازک دور سے گزر رہا ہے)(فلاں سیکیورٹی رسک ہے) ( ملک کا خزانہ خالی ہے)( ہمارے پاس جادو کی چھڑی نہیں ہے جو سب ایک دم سے ٹھیک کر دے) ( اس بجٹ سے عوام پر کوئی بوجھ نہیں لادا جائے گا)(ہم ان عناصر سے آہنی ہاتھوں سے نپٹیں گے)( دودھ کا دودھ پانی کا پانی کیا جائے گا) ہمیں غریب عوام کی حالت کا اندازہ ہے غربت ختم کی جائے گی) وغیرہ وغیرہ
ہمارے ملک میں نوجوانوں کی تعداد زیادہ ہے۔ ہمیں ان نوجوانوں سےاپنے ملک کی ترقی میں رول ادا کروانا ہو گا۔ نا کہ جیلوں میں ڈال کے مزید نفرتوں کے بیج بوئےجائیں۔
بھٹو دور میں اس افرادی قوت کو ملک کی بہتری کے لئے استعمال کیا گیا اس وقت کے دیار غیر گئے ہوئے لوگ آج بھی ملک کی معشیت میں اہم رول ادا کر رہے ہیں۔
موجودہ صورتحال کاروباری افراد یا بیروزگار نوجوانوں کے لئے آئیڈیل نہیں ہے۔ نوجوان طبقہ مایوسی کا شکار ہو رہا ہے اسے اپنے ملک میں مستقبل اچھا نظرنہیں آرہا اور نہ ہی سرمایہ کار اس ملک میں اپنے سرمائے کو محفوظ سمجھ رہا ہے۔ جس ملک میں لا قانونیت عروج پر ہو۔ انسانی جان اور عزت نفس کا تحفظ نا پید ہو گیا ہو وہاں کیونکر کوئی رہنا چاہے گا۔
حضور انسانی اسمگلروں سے آہنی ہاتھ سے تب نپٹ لینا جب اپنے ملک کے نوجوان کو اچھا مستقبل دو گے۔
ہمارے دشمن ہمسائے نے اپنے ملک کی معاشی پالیسی کو ایک سمت دی اس کو مستقل ایک ڈگر پر چلا رہے ہیں۔ انہوں نے اپنی سفارتی مشینری کو بہت اچھے سے استعمال کیا ہے۔ سب ممالک میں اچھی پوسٹوں پر آپ کو اس ملک کی قومیت کے لوگ ملیں گے۔ ہمارے سفارت خانے الا ماشاءاللہ
کسی بھی پالیسی میں یکسوئی نہیں ہے۔شاید یہ ہماری ترجیحات ہی نہیں ہے۔ سب انا کے بت بنا کے کھڑے ہیں۔ لوگ مایوسی کی اتھاہ گہرائیوں میں جا چکے ہیں۔
جب تک ہماری نوجوان نسل کو مین سٹریم میں جگہ نہیں دی جائے گی۔ اس کو پالش نہیں کیا جائے گا۔ لوگ ملک چھوڑ جانے کو ترجیح دیتے رہیں گے۔ کشتیاں الٹتی رہے گی۔ ہم سوگ مناتے رہیں گے، تعزیت اور مالی امداد کے فوٹو سیشن چلتے رہیں گے، کیونکہ ووٹ پکا کرنا ضروری ہے۔
ہم میں اور دوسری ترقی یافتہ اقوام میں فرق یہی ہے کہ وہ ایک حادثے کے بعد دوبارہ اس حادثے سے بچنے کی حتی الامکان کوشش کرتے ہیں۔ہمارے ہاں ایسے دماغوں کا فقدان ہے یہی وجہ کہ پچھلے پچھتر سالوں سے یہی ڈائیلاگ بار بار سننے کو ملتے ہیں جو اوپر بیاں کئے گئے ہیں۔ ہم تو نئے الفاظ نئے بیاں تیار کرنے میں بانجھ ہیں کجا کہ اس ملک کی بہتری کے لئے کچھ نیا سوچیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں