علی جاوید نقوی

دس روپے دیں کفن خریدنا ہے۔

راناصاحب سے میری ملاقاتوں کاسلسلہ پرانے لاہورپریس کلب سے شروع ہوا،راناصاحب ایک ایماندار سینیئرصحافی تھے۔وہ ایک قومی اخبار میں بحثیت سینیئر سیاسی رپورٹر کام کررہے تھے ،اس وقت کی وزیراعظم سے میری پہلی مرتبہ راناصاحب نے ہی کراوئی تھی ۔وہ راناصاحب کوذاتی طورپرجانتی تھیں اوربہت عزت کرتی تھیں ۔ میری قسمت اچھی تھی کہ مجھے بھی ان کے ساتھ اس اخبار میں کام کرنے کاموقع مل گیا۔سچی بات یہ ہے کہ میری زیادہ تنخواہ مقرر کروانے میں ان کاہی کردار تھا۔میری اورراناصاحب کی تنخواہ میں صرف چند ہزارکافرق تھا۔
راناصاحب شاہ اسٹریٹ کرشن نگرمیں رہتے تھے،وہ اکثر آخری اسٹاپ پر کھڑے نظرآتے۔مجھے جب پتہ چلاکہ وہ ویگن میں آتے ہیں تومیں نے پیشکش کی کہ انھیں پک کرلیاکروں گا۔وہ بہت مشکل سے راضی ہوئے مسلسل یہ کہتے رہےکہ آپ کوپریشانی ہوگی ۔
کئی دن گذر گئے،پتہ نہیں کیوں ایک دن باتوں ہی باتوں میں نے ان سے پوچھا راناصاحب یہ گھر آپ کااپناہے؟
وہ بولےنہیں کرائے کاہے۔
میرے منہ سے بے اختیارنکل گیاپھر آپ کاگذارا کیسے ہورہاہے؟
انہوں نے بغیرکسی لگی لپٹی کے جواب دیاگذارا بہت مشکل سے ہورہاہے۔
میں ان کاجواب سن کرخاموش اورافسردہ ہوگیا،مجھے بہت شرمندگی محسوس ہوئی میں نے ایساسوال ہی کیوں کیا۔
راناصاحب میری خاموش دیکھ کربولے، میری مسز ایک میڈیسن کمپنی میں کام کرتی ہیں۔وہاں سے انھیں دوڈھائی ہزار روپے مل جاتے ہیں۔بس زندگی گذررہی ہے۔
میں نے کہاراناصاحب آپ وزیراعظم سے بات کریں وہ مسز کوکہیں اچھی جگہ نوکری دلوادیں گی۔
راناصاحب ہنسنے لگے،بولے میری عزت نفس اس بات کی اجازت نہیں دیتی ۔
کئی ماہ یونہی گذرگئے،ایک دن پتہ چلاکہ آج اخبارمیں ایک وزیراور ایم پی اے کے خلاف خبرچھپی ہے،خبرتودرست ہے لیکن اخبارکے مالک نے راناصاحب کومعطل کردیاہے۔کچھ دنوں بعد راناصاحب کونوکری سے نکال دیا گیا۔مایوسی اورڈیپریشن کے باعث راناصاحب کومختلف بیماروں نے گھیر لیا۔میں جب ان سے ملا ہنسنے مسکرانے والے راناصاحب اندرسے ٹوٹ چکے تھے۔
ایک دن معمول کے مطابق میگزین سیکشن میں بیٹھااخبار پڑھ رہا تھا ،ایک ساتھی رپورٹر پریشان اورافسردہ کمرے میں داخل ہوئے ،ان کے ہاتھ میں کچھ پیسے تھے ۔انہوں نے میری طرف دیکھ کرکہا دس روپے دیں راناصاحب کے لیے کفن خریدناہے ۔۔۔۔۔

اپنا تبصرہ بھیجیں