raja Shahid rasheed

میجر جنرل احمد شریف سے نواز شریف تک

سیاست ایک سلسلہ ہے مثبت سوچ و افکار اور سچائی و سر بلندی کا ، خلوص و وفا اور حب الوطنی و درد مندی کا ، سیاست نام ہے ادب و شائستگی ، علم و دانش و حکمت و حکومت کا ، سیاست نام ہے تہذیب و تمدن و تمیز و اخلاقیات کا ، اعلیٰ علمی و ادبی اور خالص اسلامی روایات و اقدار کا۔انسانیت کی بھلائی ، شعور کی بیداری اور مساوات و انصاف کے نفاذ کا نام ہے سیاست اور سیاست کام ہے اہل ادب و فکر و فلسفہ ، اہل عقل و عمل مبلغین ، دانشوروں اور علماو صوفیا کا ۔کیونکہ سیاست امن ہے ، ایمان ہے ، دیانت ہے اور دینیات ہے سیاست ،عبادت ہے ، خدمت ہے اور اخلاص و الفت و اخلاقیات ہے سیاست لیکن بقول اقبال:- جدا ہو دین سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی اور صد افسوس و ماتم کہ اب تو بس چنگیزی ہی رہ گئی ہے ، ایک بار پھر اقبال کے الفاظ میں:رہ گئی رسمِ اذاں روحِ بلالی نہ رہیفلسفہ رہ گیا ، تلقینِ غزالی نہ رہیمیں نے ماضی میں عمران خان کو کئی بار یہ نیک مشورہ مفت دیا تھا کہ تکبر و ھٹ دھرمی، میں نہ مانوں والی انا اور ضد و جذباتیت سے جاگیر داری ، بدمعاشی اور غنڈہ گردی تو ہو سکتی ہے لیکن سیاست و حکومت نہیں ہو سکتی لیکن وہ کسی کی سنتا اور مانتا کب ہے یہ عقلِ کُل کسی پتھر یا لوہے کا بنا ہے شاید اسی وجہ سے قطری کپتان کو رجل العدید کے القاب دیتے ہیں لیکن کوئی” قطری خط” نہیں دیتے ۔10اپریل ٔ2023ٔٔ ٔ کو ان ہی صفحات پر میرا کالم چھپا تھا بعنوان :-“عمران اور مریم ملک بچائیں ، اداروں کو نشانہ نہ بنائیں” پھر اس کے 29 دن بعد ان “کھوتوں” نے ان بیوقوفوں نے اپنے ہی ملک کو آگ لگا دی ، الغرض 9 مئی 2023ٔکو جو ہوا پوری دنیا نے دیکھا اور نتیجہ یہ کہ جو ساۓ کی طرح کپتان کے ساتھ رہتے تھے آج وہ سب کھلاڑی “پیٹریاٹ”ہو رہے ہیں اور پوتر بھی ان پت جھڑ موسموں میں. کسی بھی ادارے اپوزیشن و حکومت یا PDM نے نہیں مارا ، عمران خان نے خود اپنے پاؤں پہ کلہاڑا مارا ہے اور مروایا ہے ان کے اپنے مشیروں پیارے مُرشدوں نے جن کے مشوروں پر عمل کر کے وہ اس حال کو پہنچے اور جال میں پھنسے۔ افضل پرویز نے فرمایا تھا کہ:-جن کی باتوں میں تھی پائل کی چھنک ڈھونڈ اُنہیںاب تو ہر سمت سے لفظ آتے ہیں پتھر کی طرح خبر چھپی ہے کہ پاک فوج کے ترجمان نے چئیرمین پی ٹی آئی کو 9مئی کے حملوں کا ماسٹر مائنڈ بنا کر پیش کرنے کے تمام اشارے تو دیے لیکن نام لینے سے گریز کیا۔ ایک صحافی کی جانب سے 9مئی کے حملوں کے ماسٹر مائنڈز کے نام پوچھے گئے لیکن ڈی جی ایس پی آر نے کسی کا نام لئے بغیر واضع کیاکہ ماسٹر مائنڈز وہ تھے جو کئی ماہ سے عوام کو فوج اور اس کی قیادت کے خلاف گمراہ کرنے میں مصروف تھے ، اقتدار کی ہوس کی خاطر فوج کے خلاف ایک سال تک بیانیہ بتایا اور پھیلایا گیا جس کا نتیجہ 9مئی کے حملوں کی صورت میں سامنے آیا ۔ ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل احمد شریف چوہدری ایک مدبر اور باوقار فوجی جرنیل ہیں ، گزشتہ دنوں ان کی پریس کانفرنس کافی زوردار اور کڑاکے دار تھی اور بر وقت بھی جس میں انہوں نے کہا کہ ” ملٹری لیڈر شپ اور افواج پاکستان 9 مئی کے ذمہ داریوں سے مکمل آگاہ ہے ،ذمہ داروں کو کیفر کردار تک پہنچایا جاۓ گا، اس واقعہ کو بھلایا جاۓ گا نہ ملوث عناصر اور سہولت کاروں کو معاف کیا جاۓ گا ” پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل احمد شریف چوہدری جی نے فوجی عدالتوں کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوۓ کہا کہ “اس وقت ملک بھر میں 17فوجی عدالتیں فعال ہیں،ملٹری کورٹس 9مئی کے بعد نہیں بنیں بلکہ پہلے سے فعال ہیں ،ثبوت اور قانون کے مطابق سول کورٹس نے ان کیسز کو ملٹری کورٹس منتقل کیا، ملزمان کو مکمل قانونی حقوق حاصل ہیں ،اپیل کا حق بھی حاصل ہے ، ملزمان کو سپریم کورٹ میں بھی اپیل کا حق حاصل ہے، انٹر نیشنل کورٹس آف جسٹس نے اس کو پوری جانچ کے بعد ویلی ڈیٹ کیا ، سزا اورجزا انسانی معاشرے ، مذھب اور آئین پاکستان کا حصہ ہے ، ہمارے لئے آئین پاکستان سب سے مقدم ہے” ترجمان پاک فوج کی طرف سے فوجی عدالتوں کے حوالے سے یہ وضاحت انتہائی ضروری تھی کیونکہ ان دنوں نہ صرف میڈیا میں بلکہ ہر جگہ ملٹری کورٹس ہی زیر بحث ہیں۔ میں سویلین کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کو اچھا تو نہیں کہتا لیکن صرف سانحہ 9 مئی کے ذمہ داروں کیلیۓ ہی یہ بحث کیوں ، کیا ماضی میں ایسا نہیں ہوا ،عمران خان نے کہا تھا کہ اگر میرا بس چلے تو اس ملک کے ہر دہشت گرد کا فوجی عدالتوں میں ٹرائل کراؤں ، ماضی میں جسٹس سیٹھ وقار نے تقریباً 200 لوگوں کو ریلیف دیا تھا جنہیں فوجی عدالتوں سے سزائیں ملی تھیں ،تب عمرانی حکومت اور عمران خان سپریم کورٹ گئے تھے کہ یہ ریلیف ختم کیا جاۓ ۔ عمران خان کی نالائقیوں اور حماقتوں کی داستان بہت طویل ہے ، تاحیات نا اہلی ختم کر کے نااہلی کی مدت 5 سال ایسی آئین سازیاں یا سازشیں کرنا ممکن نہ ہوتا اگر عمران خان استعفےٰ دے کر اسمبلیوں سے باہر نہ آتے ۔ الغرض نواز شریف کیلیۓ أہستہ آہستہ سب راستے صاف ہو رہے ہیں ، وہ بیرون ملک خصوصی لوگوں سے خصوصی ملاقاتیں بھی کر رہے ہیں اور اس ضمن میں خوش آئند بات یہ ہے کہ ان ملاقاتوں میں سیاست پر کم اور معیشت پر زیادہ گفتگو ہو رہی ہے ، خبریں یہ ہیں کہ سابق PM نواز شریف سے ان ملاقاتوں میں ایسے ممالک کے مندو بین بھی شریک ہو رہے ہیں جو عالمی سیاست پر اپنا اثرو رسوخ آہستہ آہستہ بڑھا رہے ہیں جبکہ پاکستان کے دوست ممالک کی طرف سے ملک میں معاشی تعاون بژھانے اور سرمایہ کاری کرنے کا یقین دلایا گیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں