Mohammad Saeed Javed

فری اسٹائل ریسلنگ

ایک وقت ایسا بھی تھا جب کراچی میں انٹرنیشنل فری اسٹائل ریسلنگ کے مقابلے زور و شور سے ہوتے تھے۔ میں نے اپنی کتاب ایسا تھا میرا کراچی میں اسی دور کو یاد کیا ہے۔
دنگل
دنگل کا کھیل بھی کراچی کی عمومی زندگی میں بڑی ہلچل مچائے رکھتا تھا۔ یہاں قومی کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی سطح کے مقابلے بھی ہوا کرتے تھے۔ پاکستان کے نامور بھولو برادران ، جو رہنے والے تو لاہور کے تھے ، لیکن کراچی میں اس کھیل کی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے یہیں مستقل ڈیرے ڈال کر بیٹھ گئے تھے ۔ دنگل قیام پاکستان کے فوراً بعد ہی شروع ہو گیا تھا، خاص طور پر لاہور اور گوجرانوالہ تو اس کے گڑھ سمجھے جاتے تھے لیکن اس کو بین الاقوامی شہرت کراچی کے اکھاڑوں سے ہی ملی، جہاں دیسی کشتی کے برعکس فری اسٹائل کشتیوں کے مقابلے ہوتے تھے۔ اس کھیل کی اور بھولو برادران کی غیر معمولی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے اس وقت کے وزیر اعظم نے انہیں کراچی میں ایک عمارت اور اکھاڑا الاٹ کر دیا تھا جہاں وہ ہر وقت کسرت کرتے نظر آتے تھے ۔کچھ تو حقیقت تھی اور کچھ اخباروں اور پوسٹروں میں ان کی بہادری اور چابک دستی کے قصے اس طرح بیان کیے جاتے کہ وہ پاکستان کے ہیرو بن گئے تھے۔ جس راہ سے انہوں نے گزرنا ہوتا تھا وہاں سڑکوں پر لوگ ان کو دیکھنے کے لیے جمع ہو جاتے اور گھنٹوں انتظار کیا کرتے تھے ۔خواتین بھی پیچھے نہ تھیں، جو عمارتوں کی چھتوں سے یہ نظارہ دیکھا کرتی تھیں ۔
اکھاڑے میں بھی وہ اپنی بے پناہ طاقت کا مظاہرہ کرتے اور ہاتھوں پر دو دو بچے لٹکا کر ادھر سے ادھر بھاگے پھرتے تھے ۔اسی طرح ان کی خوراک کے بارے میں بڑے عجیب و غریب قصے زبان زد عام تھے اور وہ اکثر اس کا عملی مظاہرہ بھی کیا کرتے ۔ بالٹی بھر دودھ پی جانا ان کے بائیں ہاتھ کا کھیل تھا ۔ ان کا ایک بھائی اسلم تو بھنا ہوا سالم بکرا کھا کر دکھایا کرتا تھا جو گھر میں ایک پاؤ گوشت پکانے والے عوام کو حیرت زدہ کر دیتا تھا۔ وہ ہر وقت باداموں ، پستے اور چاروں مغزیات کی سردائی پیا کرتے تھے اور پھر کوئی ایک گھنٹے بعد منہ میں انگلی ڈال کر قے کر دیتے اور سارا کھایا پیا باہر نکال دیتے تھے۔ جب کوئی پوچھتا کہ ایسا کیوں کرتے ہیں، تو بتایا جاتا کہ اس سردائی سے جو طاقت حاصل کرنا ہوتی ہے وہ ایک گھنٹے میں پوری ہو جاتی تھی، اس لیے فاضل چیزوں کو نکال باہر پھینکتے ہیں تاکہ نئی سردائی یا کسی اور مرغن غذا کے لیے معدے میں جگہ بن جائے۔ ان کے مشکیزوں کی طرح لٹکے ہوئے پیٹ اور بھاری بھر کم بازو اور رانیں دیکھ کر بڑا خوف آتا تھا ۔جن کو تن سازی یا کشتیوں کا شوق تھا، وہ بڑی حسرت سے ان کے مضبوط جسموں کو دیکھا کرتے تھے ، اور ان جیسا بننے کی دعا کیا کرتے تھے۔
اسی دوران ایک روز اچانک یہ اعلان ہو جاتا تھا کہ امریکہ یا برطانیہ کے سب سے بڑے فلاں پہلوان نے رستم زمان بھولو کو للکارا ہے اور کشتی لڑنے کا پیغام بھیجا ہے۔
یہاں بھی بھولو برادران ایک کھیل کر جاتے تھے اور للکارنے والوں کو کہتے کہ بڑے بھائی سے تو تم بعد میں نبٹنا پہلے تم ہم سے لڑو ، اگر کامیاب ہو گئے تو
پھر آخر میں ہمارا بڑا بھائی یعنی رستم زماں بھولو پہلوان اکھاڑے میں اترے گا۔ راتوں رات اس غیر ملکی پہلوان کے رنگین فوٹو والے پوسٹر چھپ جاتے، مقابلے کی تاریخ اور مقام کا اعلان ہو جاتا جو شہر کے اندر ہی کوئی بڑا سا میدان ہوتا تھا ۔ جہانگیر پارک اور نشتر پارک اس مقصد کے لیے بہترین مقام تصور کیے جاتے کیونکہ وہ شہر کے اندر ہی تھے اور وہاں ذرائع آمدورفت آسان ہونے کی وجہ سے تماشائیوں کا آنا جانا آسان تھا ۔
شام کو سارے بھولو برادران اور ان کے پٹھے پہلوان اکٹھے ہو کر بگھیوں کا جلوس لے کر نکلتے اور شہر خصوصاً صدر کی سڑکوں پر ڈھول کی تھاپ پر بھنگڑا ڈالتے اور بکرے بلاتے نظر آتے تھے۔ اس موقع پر وہ ایک خاص پہلوانی رقص بھی کرتے تھے۔

wrestler
مغرب سے متاثر ہو کر کھیلی جانے والی ان فری اسٹائل کشتیوں کے لیے اکھاڑا بھی خاص ہی ہوتا تھا۔ یہ مٹی کی بجائے ایک قدرے بلند چوبی پلیٹ فارم پر تیار کیا جاتا جس پر سخت گدے بچھا کر چاروں طرف مضبوط رسے لگا دیئے جاتے تھے۔ مہنگے ٹکٹوں والے تماشائیوں کو اکھاڑے کے نزدیک کرسیوں پر بٹھایا جاتا ، باقی لوگ دور کھڑے ہو کر یہ دنگل دیکھتے تھے ۔ یہ کھیل اتنا مقبول ہو گیا تھا کہ ایک دفعہ صدر مملکت ایوب خان بھی اس کو دیکھنے کے لیے آئے تھے ۔
مقابلے سے ایک دن پہلے غیر ملکی پہلوانوں کا ٹولا بھی آن پہنچتا۔ ان کی خاص طور پر بڑے اہتمام سے رو نمائی ہوتی تھی، جس میں وہ چیختے چنگھاڑتے آتے اور بھولو برادران کو للکارتے اور انہیں سبق سکھانے کے بڑے بڑے دعوے کیا کرتے تھے۔
مقابلہ رات آٹھ بجے شروع ہوتا تھا۔ تب تک اسٹیڈیم کھچا کھچ بھر جاتا تھا ۔ پھر سوائے اکھاڑے کے وہاں کی ساری روشنیاں گل کردی جاتیں۔ پہلے درجہ سوئم کے مقامی پہلوانوں کے آپس میں جوڑ پڑتے، اس کے بعد دوسرے درجے کے غیر ملکی پہلوان آپس میں لڑ پڑتے۔ آخر میں بڑا اور اصلی مقابلہ شروع ہوتا جو عموماً بھولو برادران میں سے کسی ایک یعنی اسلم ، اعظم ، اکرم یا گوگا کو لڑنا ہوتا تھا۔ دونوں پہلوان دھم کرکے اکھاڑے میں آجاتے۔
ماحول کو گرمانے کی خاطر دنگل کے شروع ہی میں غیر ملکی پہلوان دو چار فلائنگ ککس لگا کر اور بازو مروڑ کر بھولو برادر کی چیخیں نکلواتا اور پھر وہ ایسا ہی کرکے اس کا بدلہ لے لیتا تھا۔ یہ مقابلہ کافی دیر تک چلتا رہتا اور دونوں ایک دوسرے کو خوب ضربیں لگاتے، اٹھا اٹھا کر پٹختے، ہاتھ پیر مروڑتے اور منھ پر مکے جڑتے۔ پھر اچانک کسی راؤنڈ میں وہ گورا پہلوان اپنے دیسی پہلوان کی کسی فلائنگ کک یا داؤ پیچ کا شکار ہو کر نیچے گرتا اور اس وقت تک گرا ہی رہتا جب تک کہ ریفری دس تک گنتی گن کر جیتنے والے پہلوان کا ہاتھ اٹھا کر اس کی جیت اور گورے پہلوان کی شکست کا اعلان نہ کر دیتا تھا۔

famous wrestlers of Pakistan
پھر دونوں پہلوان اٹھ کر گلے ملتے ۔ رسمی طور پر گورے انگریزی میں اور اپنے پہلوان پنجابی میں ایک دوسرے کی طاقت کا اعتراف کرتے۔ تماشائی اپنے پہلوان کی جیت پر دل کھول کر خوشی کا اظہار کرتے اور اسٹیڈیم نعروں سے گونج اٹھتا تھا ۔ ایک بار پھر ڈھول کی تھاپ پر جیت کا رقص کیا جاتا۔ اگلے دن اخباروں میں اس غیر ملکی پہلوان کی پٹائی اور اپنے پہلوانوں کی جیت کے قصے بڑی سرخیوں میں تصویروں کے ساتھ چھپ جاتے ۔
اس ”شرم ناک شکست ” کے بعد غیر ملکی پہلوان پس منظر میں چلے جاتے اور کراچی کے ہی کسی ہوٹل میں چھپ کر بیٹھے رہتے اور خوب عیاشیاں کرتے ۔ کچھ ہفتوں بعد ایک بار پھر بڑے مقابلے کا اعلان ہو جاتا اور انہی گھسے پٹے چیمپئن پہلوانوں کے ساتھ ایک بار پھر سے جوڑ پڑ جاتے۔
بہت بعد میں پتہ چلا کہ یہ سب کچھ ملی بھگت سے ہوتا تھا ۔پہلے سے اس بات کا فیصلہ کر لیا جاتا تھا کہ کون کتنے پیسے لے گا اور کون ” ایک زبردست دنگل ” کے بعد چت ہو جائے گا ۔ گویا سارا پروگرام پہلے ہی سے طے شدہ ہوتا تھا ۔پھر آہستہ آہستہ لوگوں کی اس کھیل میں دلچسپی کم ہوتی گئی اور اس بات کو محسوس کرکے بھولو برادران بوریا بستر اٹھا کر بجھے دل کے ساتھ لاہور واپس لوٹ گئے اور یہاں کے اکھاڑے ویران ہو گئے

اپنا تبصرہ بھیجیں