ارشد اسدی الحسینی

رمضان مبارک کی خصوصیت اور امتیاز

کیا سبب ہے کہ ماہ ِرمضان روزے رکھنے کے لئے منتخب کیا گیا ہے بلکہ اسی بناء پر اسے دوسرے مہینوں پر برتری حاصل ہے۔ زیر نظر آیت میں اس کی برتری کی وجہ بیان کی گئی ہے، وہ یہ کہ قرآن جو ہدایت اور انسانی رہبری کی کتاب ہے جس نے اپنے احکام اور قوانین کی صحیح روش کو غیر صحیح راستے سے جدا کر دیا ہے اور جو انسانی سعادت کا دستور لے کرآئی ہے اسی مہینے میں نازل ہوئی ہے۔ ٕٕ
اسلامی روایات میں ہے کہ تمام عظیم آسمانی کتب تورات ، انجیل ، زبور، صحیفے اور قرآن، اسی مہینے میں نازل ہوئیں۔امام صادقؑ فرماتے ہیں:تورات چھ رمضان، انجیل بارہ رمضان، زبور اٹھارہ رمضان اور قرآن شب قدر میں نازل ہواہے۔ (۱)اس طرح ماہ رمضان عظیم آسمانی کتب کے نزول اور تعلیم و تدریس کا مہینہ ہے کیونکہ صحیح تربیت تعلیم اور کچھ سیکھے بغیر ممکن نہیں ہے۔
روزے کا تربیتی پروگرام زیادہ سے زیادہ اور گہری آگاہی کے ساتھ آسمانی تعلیمات سے ہم آہنگ ہونا چاہئیے تاکہ اس سے انسانی روح و بدن کی آلودگیٔ گناہ دھل جائے۔ماہ شعبان کے ایک آخری جمعہ کو پیغمبر اسلامؐ نے اپنے اصحاب کو اس ماہ کے استقبال کے لئے آمادہ کرنے کی خاطر خطبہ دیا۔ اور اس کی اہمیت اس طرح ان کے گوش گزار کی:اے لوگو! خدا کی برکت، بخشش اور رحمت کا مہینہ تمہاری جانب آرہاہے۔
یہ مہینہ تمام مہینوں سے بہتر ہے۔ اس کے دن دوسرے مہینوں کے دنوں سے اور اس کی راتیں دوسرے مہینوں کی راتوں سے بہتر ہیں۔ اس ماہ کے لحظے اور گھڑیاں دوسرے مہینوں کے لحظوں اور گھڑیوں سے برتر ہیں۔یہ ایسا مہینہ ہے جس میں تمہیں خدا نے مہمان بننے کی دعوت دی ہے اور تمہیں ان لوگوں میں سے قرار دیا گیاہے جو خدا کے اکرام و احترام کے زیر نظر ہیں۔ ا
س میں تمہاری سانسیں تسبیح کی مانند ہیں، تمہارا سونا عبادت ہے اور تمہارے اعمال اور دعائیں مستجاب ہیں۔ لہٰذا خالص نیتوں اور پاک دلوں کے ساتھ خدا سے دعاء کرو تاکہ وہ تمہیں روزہ رکھنے اور تلاوت قرآن کی توفیق عطا فرمائے کیونکہ بدبخت ہے وہ شخص جو اس مہینے میں خدا کی بخشش سے محروم رہ جائے۔ اس ماہ میں اپنی بھوک اور پیاس کے ذریعے قیامت کی بھوک اور پیاس کو یاد کرو۔
اپنے فقراء اور مساکین پر احسان کرو۔ اپنے بڑے بوڑھوں کا احترام کرو اور چھوٹوں پر مہربانی کرو۔ رشتہ داری کے ناتوں کو جوڑ دو۔ اپنی زبانیں گناہ سے روکے رکھو۔ اپنی آنکھیں ان چیزوں کو دیکھنے سے بند رکھو جن کا دیکھنا حلال نہیں۔ اپنے کانوں کو ان چیزوں کے سننے سے روکے رکھو جن کا سننا حرام ہے اور لوگوں کے یتیموں پر شفقت و مہربانی کرو تا کہ وہ بھی تمہارے یتیموں سے یہی سلوک کریں۔
۲)۱۔ وسائل الشیعہ، ج۷، ابواب احکام شہرِ رمضان باب ۱۸، حدیث ۱۶۔۲۔ یہ وسائل الشیعہ جلد ۷ ابواب احکام شہرِ رمضان کے باب ۱۸ کی بیسویں حدیث ہے اس کا عربی متن یہ ہے:فقال۔ ایھا الناس انہ قد اقبل الیکم شہر اللہ بالبرکة و الرحمة و المغفرة شہر ہو عند اللہ افضل الشہور ، و ایامہ افضل الایام و لیالیہ افضل اللیالی، و ساعاتہ افضل الساعات، ہو شہر دعیتم فیہ الی ضیافة اللہ، و جعلتم فی من اھل کرامة اللہ، انفاسکم فیہ تسبیح ، و نومکم فیہ عبادة، و عملکم فیہ مقبول، و دعائکم فیہ مستجاب ، فاسئلوا اللہ ربکم بنیات صادقة و قلوب طاہرة: ان یوفقکم لصیامہ و تلاوة کتابہ، فان الشقی من حرم غفر ان اللہ فی ہذا الشہر العظیم، و اذکر و ابجوعکم و عطشکم فیہ جوع القیمة و عطشہ و تصدقوا علی فقرائکم و مساکینکم، و وقروا کبارکم و راحموا اصفارکم، و صلوا ارحامکم، و احفظوا السنتکم، و غضوا عما لا یحل النظر الیہ ابصارکم، و عما لا یحل الاستماع الیہ اسماعکم و تحفظوا علی ایتام الناس یتحنن علی ایتامکم۔
📚 تفسیر نمونہ

اپنا تبصرہ بھیجیں