muhammad khan abru

ایف بی آر اور غریب

عجب تیری سیاست عجب تیرا نظام جاگیرداروں سے بھی مل مالکان کو سلام جبکہ غریبوں کا کردیا ہے تو نے جینا حرام، ہماری ریاست کا کچھ یہ ہی حال ہے، ریاست کے پارلیمان میں بیٹھے ہوئے ہر شخص کا غریب سے اتنا ہی تعلق ہے جتنا عمران خان کا سچ سے رہا ہے۔ پارلیمان میں بیٹھے ہوئے لوگ ہوں یا اسلام آباد میں بیٹھا بابو، یہ تمام لوگ میرے تیرے پیسے پر عیاشیاں کررہے ہیں، ان ہڈ حراموں کی اولادیں بھی میرے تیرے پیسے پر دنیا بھر گھومتی ہیں، میرے اور آپ کے بچوں کا علاج پاکستان میں مفت نہیں ہوسکتا مگر ہمارے سیاسی لوگوں اور ان کی اولادوں کے علاج کے لیے بیرون ملک میں بھی انسانی ہمدردی کے نام پر گرانٹس جاری کردی جاتی ہیں۔ لیکن ہمارے پالیسی سازوں کا اگر ٹیکس چیک کیا جائے تو ان کے سر شرم سے جھکیں نہ جھکیں ہمارے سر شرم سے جھک جاتے ہیں کہ یہ ہیں ہمارے پالیسی ساز جو ہر حوالے سے ٹیکس چوری میں کسی سے کم نہیں ہیں مگر وہ کوئی ایسا موقع نہیں چھوڑتے جس سے عوام پر ٹیکسوں کا مزید بوجھ ڈالنے میں کمی ہو۔ ایسے میں ستم ظریفی تو یہ ہے کو بوڑھے اور سینئر سیٹیزن کو بھی نہیں بخشتے۔ حال ہی حکومت نے بہبودسرٹیفکیٹ ، شہداء فیملی اکاؤنٹ اور پنشنرز بینیفٹ اکاؤنٹ کی آمدن پر پر پانچ فیصد انکم ٹیکس عائد کردیا ہے ، جو ٹیکس سال 2023 سے لاگو ہوگا، یعنی شہداء کو بھی ٹیکس دینا ہوگا، جنہوں نے اپنا آج ہمارے کل پر قربان کردیا ہم نے انھیں بھی نہ بخشا، بنیادی طور پر ، اس طرح کی اسکیمیں شہداء کے اہل خانہ کو مالی فوائد فراہم کرنے کے لئے متعارف کروائی گئیں تھیں ، جنہوں نے قوم اور شہریوں کے لئے اپنی زندگی قربان کردیں یا پھر وہ سینئر سیٹیزن جو تنخواہ دار طبقے سے تعلق رکھتے ہیں ایک حصے کے طور پر, انکم ٹیکس باقاعدگی سے ادا کرتا رہے ہیں اور جب ان کے پاس آمدنی کا باقاعدہ ذریعہ ہوتا تھا تو قوم کی ترقی میں حصہ ڈالتے تھے ٹیکس کی صورت میں لیکن ریٹائرمنٹ کے بعد ان کی جمع پونجی کو ایسی اسکیموں میں ڈال کر انھیں فائدہ پہنچانا چاہا تاکہ وہ آخری عمر میں بھی اپنی جمع پونجی سے کچھ نہ کچھ فائدہ حاصل کرتے رہیں، یہ کلاس اب اس طرح کی اسکیموں سے حاصل ہونے والی آمدنی پر مکمل طور پر انحصار کرتی ہے ، جو زندگی کی موجودہ مسائل میں اپنی معمولی زندگی کو برقرار رکھنے کے لئے بھی کافی نہیں ہے, آرام دہ اور پرسکون زندگی گزارنے کے لیے اس طبقے میں مزید وسائل کی ضرورت ہے مگر ہونا تو چاہے تھا کہ ان کی بچت اسکیموں میں ٹیکس کی شرح صفر رہتی لیکن حکومت نے ان کی بھی نہ بخشا. ٹیکس لگانے سے ان اسکیموں پر منافع کے مارجن میں اضافے کے بعد اکاؤنٹ ہولڈرز کی قلیل زندگی کی خوشی ختم ہوجائے گی، فیڈرل بورڈ آف ریونیوپالیسی ونگ کو انسانی بنیادوں پر اس آمرانہ پالیسی کو ختم کرنا چاییے کیا ایف بی آر مل مالکان، جاگیرداروں یا سرمایہ کاروں سے ٹیکس وصول کرتا ہے ؟ کیا ایف بی آر خود اپنا کام ٹھیک کررہا ہے، آیف بی ار جیسے ادارے کا تو ملک سے فل فور خاتمہ ہونا چاہیے کیوں کہ سندھ میں 2011 میں قائم ہونے والا ایس ار بی ایف بی آر سے 1000 فیصد بہتر کارکردگی دکھا رہا ہے خیر موجود وزیر اعظم اور کابینہ سے گزارش ہے کہ بچت اسکیموں میں غریبوں کو پہنچنے والے فائدے پر دوبارہ سوچ بچار کیا جائے۔ اور پرانے نظام میں واپس آنا چاہئے جہاں اس طرح کی آمدنی سے غربت کا خاتمہ اور ساتھ لوگوں کے وسائل میں اضافہ ہورہا تھا. اور اس آمدنی پر ٹیکس مسلط کرکے یہ چھوٹے پیمانے پر سرمایہ کاروں پر بہت زیادہ بوجھ ثابت ہورہا ہے۔ موجودہ شرح ٹیکس پر 5 ملین روپے کی سرمایہ کاری پر, نئی نافذ شدہ پالیسی کے تحت قابل اطلاق انکم ٹیکس ، 41،400 روپے ہوگا ، جبکہ ، پرانے نظام کے تحت ، یہ 11،400 روپے ہوتا تھا. حکومت سے گزارش ہے کہ بچت اسکیموں میں بیواؤں، سینیئر سیٹیزن اور شہداء کی فیملیز کی سرمایہ کاری کو تحفظ دے اور فل فور ٹیکس کی مکمل چھوٹ کا اعلان کرے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں