Fatima Mehru

“کولیکشن”

تمہارے پاس پِکاسو، نیرودا، لُورکا پڑے ہیں۔۔۔
فیض و فراز سے تو تُم شروع ہوئے،
بنگلہ دیش کی ساڑھی تم نے لفظوں میں بُنی ہوئی بھی دیکھی،
آدھی رات کو حسیں لڑکیاں، بُک شاپس پہ اُترتی کیسی لگتی ہیں،
شیلفوں پہ بیٹھی تتلیوں سے تم تو خوب واقف ہو۔۔
انگلش، پنجابی یوں بھی تمہاری پرانی دوست زبانیں ہیں،
تُم انہی میں پلے بڑھے ہو۔۔۔
بُلھے شاہ کے پُرانے جاننے والوں جیسی آنکھیں لیے،
مُحسن و قریشی، شمسی و آروندھتی، حافی و کافی میں رچے بسے،
سلامت و پُرن چند میں گُھلے ہوئے۔۔۔
ایملی کی نظموں، اوکری کے پُر خطر محبت کے راستوں کی دُھول سے اَٹے پڑے..
خود سے بھی بیزار سے۔۔۔!
میرے کمرے میں تو براؤنش کھڑکیوں سے نیلی روشنی بہتی ہے۔۔
ہَوا کم کم چلتی ہے۔۔۔
چراغ جلے تو تیز بھی چلنے لگتی ہے۔۔۔
کوئل صفت راتوں میں دوپہروں کی اکائی گونجتی ہے،
پردہ ہر بار کھڑکی سے لپٹ کر وہیں اٹک جانے کی التجاؤں میں اُلجھتا پھرتا ہے۔۔
رات پھر بھی نہیں ہوتی۔۔۔
صبح۔۔۔! ہر صبح جیسی،
آنکھوں پر ہاتھ دھرے ہر دیوار، دوسری سے نظریں چُراتی ہے۔۔
گرامو فون کے گیت، گرھن زدہ۔۔۔
طاق چُپ کی عادتوں میں ڈھلے۔۔۔
ہر ورق۔۔۔ سرورق بننے کے خوابوں میں پاگل
راہ داری بے چاپ۔۔۔
سفیدیاں، کالکوں میں ملی جُلی۔۔۔
ہر داستاں جُھوٹ سے بچا لیے جانے والے آخری سانسوں جیسی۔۔
میں سوچتی ہوں۔۔۔
مِری کتابیں کون پڑھے گا۔۔۔۔؟؟

فاطمہ مہرو

اپنا تبصرہ بھیجیں