ارشد اسدی الحسینی

👈 روزہ تقویٰ کا سرچشمہ ہے

سورہ بقرہ کی آیات 183 تا 185 کی تفسیر میں:
👈 چند اہم اسلامی احکام کے بیان کے بعد زیر نظر آیات میں ایک اور حکم بیان کیا گیا ہے جو چند اہم ترین اسلامی عبادات میں شمار ہوتا ہے اور وہ روزہ ہے ۔ اسی تاکید سے ارشاد ہوتا ہے: اے ایمان والو! روزہ تمہارے لئے اس طرح سے لکھ دیا گیا ہے جس طرح تم سے پہلے کی امتوں کے لئے لکھا گیا تھا ( یَااٴَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا کُتِبَ عَلَیْکُمْ الصِّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِینَ مِنْ قَبْلِکُمْ )۔ ساتھ ہی اس انسان ساز اور تربیت آفرین عبادت کا فلسفہ چھوٹے سے پر معنی جملے میں یوں بیان کرتا ہے: ہو سکتا ہے تم پرہیزگار بن جاؤ (لعلکم تتقون)۔جی ہاں۔ جیسا کہ اس کی تشریح میں آگے بیان کیاجائے گا کہ روزہ روحِ تقویٰ اور پرہیزگاروں کی تربیت کے لئے تمام جہات سے ایک مؤثر عامل ہے۔
اس عبادت کی انجام دہی چونکہ مادی لذائذ سے محرومیت اور مشکلات سے وابستہ ہے۔ خصوصاً گرمیوں میں یہ زیادہ مشکل ہے اس لئے روح انسانی کو مائل کرنے اور اس حکم کی انجام دہی پرآمادہ کرنے کے لئے مندرجہ بالا آیات میں مختلف تعبیرات کو استعمال کیاگیاہے۔
پہلے ”یا ایہا الذین امنوا“ سے خطاب کیا گیا ہے۔ اس کے بعد یہ حقیقت بیان کی گئی ہے کہ روزہ تم ہی سے مخصوص نہیں بلکہ گذشتہ امتوں میں بھی تھا اور آخر میں اس کا فلسفہ بیان کیا گیا ہے جس کے مطابق اس پُرمنفعت خدائی فریضہ کے اثرات سو فیصد خود انسان کے فائدے میں ہیں اس طرح اسے ایک پسندیدہ اور خوشگوار موضوع بنا دیا گیا ہے۔ ایک حدیث میں امام صادقؑ سے منقول ہے کہ آپؑ نے فرمایا:
لذة ما فی النداء ازال تعب العبادة و العناء۔
یعنی—-یا ایہا الذین امنوا کے خطاب کی لذت نے اس عبادت کی تکان ، سختی اور مشقت کو ختم کر دیا ہے۔(۱)
روزے کی سنگینی اور مشکل میں کمی کے لئے بعد کی آیت میں چند احکام اور بیان کئے گئے ہیں۔ ارشاد فرمایا : چند گنے چنے دن روزہ رکھو (ایاما معدوداة) ایسا نہیں کہ تم پورا سال روزہ رکھنے پر مجبور ہو یا یہ سال کا کوئی بڑا حصہ ہے بلکہ یہ تو سال کے ایک مختصر سے حصے میں تمہیں مشغول رکھتا ہے۔
دوسری بات جو اس آیت میں ہے یہ ہے کہ تم میں سے جو افراد بیمار ہیں یا مسافر ہیں کہ جن کے لئے روزہ باعث مشقت و زحمت ہے انہیں اس حکم میں رعایت دی گئی ہے کہ وہ ان دنوں کے علاوہ دوسرے دنوں میں روزہ رکھیں (سفر ختم ہو جانے اور بیماری سے صحت یابی کے بعد) (فمن کان منکم مریضا او علی سفر فعدة من ایام اخر)۔ تیسری بات یہ کہ جنہیں روزہ رکھنے میں انتہائی زحمت و تکلیف ہوتی ہے (مثلاً بوڑھے مرد ، بوڑھی عورتیں اور دائمی مریض جن کے تندرست ہونے کی امید نہیں) ان کے لئے ضروری نہیں کہ وہ روزہ رکھیں، بلکہ اس کے بجائے کفارہ ادا کرنے کے لئے مسکین کو کھانا کھلادیں (و علی الذین یطیقونہ فدیة طعام مسکین) (۲)
جو شخص اس سے زیادہ راہ خدا میں کھانا کھلانا چاہے تو یہ اس کے لئے بہتر ہے (فمن تطوع خیرا فہو خیر لہ)۔(۳) آیت کے آخر میں اس حقیقت کو واضح کیا گیا ہے کہ روزے کا تمہیں ہی فائدہ پہنچے گا: اور روزہ رکھنا تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم جانو (و ان تصوموا خیروہ لکم ان کنتم تعلمون) ۔ بعض چاہتے ہیں کہ اس جملے کو اس امر کی دلیل قرار دیں کہ روزہ ابتداء میں واجبِ تخییری تھا۔ مسلمانوں کو یہ اختیار دیا گیا تھا کہ وہ روزہ رکھیں یا اس کی بجائے فدیہ دے دیں تا کہ آہستہ آہستہ روزے کی عادت پڑجائے۔ بعد ازاں یہ حکم منسوخ ہوگیا اور روزے نے وجوب عینی کی شکل اختیار کرلی۔ لیکن ظاہر یہ ہے کہ یہ آیت روزے کے فلسفے کی تاکید کے طور پر آئی ہے اور اس کا مقصد یہ ہے کہ یہ عبادت بھی دوسری عبادات کی طرح خدا کے جاہ و جلال میں کوئی اضافہ نہیں کرتی بلکہ اس کا تمام فائدہ خود انسانوں کو ہے۔ اس کی شاہد وہ تعبیرات ہیں جو قرآن کی دیگر آیات میں نظر آتی ہیں۔ مثلاً : ذلکم خیر لکم ان کنتم تعلمون ۔ یہ تمہارے لئے ہی بہتر ہے اگر تم جان سکو ۔ (جمعہ ۔۶)
یہ آیت نماز جمعہ کے وجوب عینی حکم کے بعد (اجتماعِ شرائط کی صورت میں) آئی ہے۔
سورہ عنکبوت کی آیت ۱۶ میں ہے:
بِسمِ اللہِ الرَّحمٰنِ الرَّحِيم
وَإِبْرَاہِیمَ إِذْ قَالَ لِقَوْمِہِ اعْبُدُوا اللهَ وَاتَّقُوہُ ذَلِکُمْ خَیْرٌ لَکُمْ إِنْ کُنْتُمْ تَعْلَمُون
اور جب ابراہیم نے بت پرستوں کی طرف رخ کر کے کہا کہ خدا کی عبادت کرو اور اسی سے ڈرو۔ یہی تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم جان لو۔
اس سے واضح ہوجاتاہے کہ ”ان تصوموا خیر لکم“ سب روزہ داروں کے لئے خطاب ہے نہ کہ کسی خاص طبقے کے لئے ۔ زیر نظر آخری آیت روزے کے زمانے، اس کے کچھ احکام اور فلسفے کو بیان کرتی ہے۔ فرمایا: وہ چند گنے چنے دن جن میں روزہ رکھنا ہے ماہ رمضان کے ہیں (شہر رمضان) وہی مہینہ جس میں قرآن نازل ہوا ہے (الذی انزل فیہ القرآن) ۔وہی قرآن جو لوگوں کی ہدایت کا سبب ہے جو ہدایت کی نشانیاں اور واضح دلیلیں لئے ہوئے ہے اور جو حق و باطل کے امتیاز اور ان کے ایک دوسرے سے الگ ہونے کا معیار رکھتا ہے (ہدی للناس و بینات من الہدی و الفرقان)۔
اس کے بعد مسافروں اور بیماروں کے بارے میں روزے کے حکم کو دوبارہ تاکیداً بیان کیا گیا ہے: جو لوگ ماہ رمضان میں حاضر ہوں انہیں تو روزہ رکھنا ہوگا مگر جو مسافر یا بیمار ہوں وہ اس کے بدلے بعد کے دنوں میں روزہ رکھیں (فمن شہد منکم الشہر فلیصمہ و من کان مریضا او علی سفر فعدة من ایام اخر)۔(۴)
مسافر اور بیمار کے حکم کا تکرار اس سے پہلی اور اس آیت میں ممکن ہے اس وجہ سے ہو کہ بعض لوگوں کا گمان ہے کہ مطلقاً روزہ نہ رکھنا کوئی اچھا کام نہیں اور ان کا اصرار ہے کہ بیماری اور سفر میں بھی روزہ رکھاجائے لہٰذا قرآن اس حکم کے تکرار سے لوگوں کہ یہ سمجھانا چاہتاہے کہ جیسے صحیح و سالم افراد کے لئے روزہ رکھنا ایک فریضۂ الہٰی ہے ایسے ہی بیماروں اور مسافروں کے لئے افطار کرنا بھی فرمانِ الہٰی ہے جس کی مخالفت گناہ ہے۔ آیت کے آخر میں دوبارہ روزے کی تشریح اور فلسفے کا بیان ہے۔ فرمایا : خدا تمہارے لئے راحت و آرا م اور آسانی چاہتا ہے وہ تمہارے لئے زحمت و تکلیف اور تنگی نہیں چاہتا : (یرید اللہ بکم الیسر و لا یرید بکم العسر) یہ اس طرف بھی اشارہ ہے کہ روزہ رکھنا اگرچہ ظاہراً سختی و پابندی ہے لیکن انجام کار انسان کے لئے راحت و آسائش اور آرام کا باعث ہے۔
ممکن ہے یہ جملہ اس نکتے کی طرف بھی اشارہ ہو کہ احکام الہٰی ستمگر اور ظالم حاکموں کے سے نہیں جنہیں بلا مشروط بجا لانے کے لئے کہا جاتا ہے لیکن جہاں انسان کے لئے کوئی حکم بجا لانا سخت مشقت کا باعث ہو وہاں حکم الہٰی کے تحت انسانی ذمہ داری کو سہل تر کر دیا جاتا ہے اسی لئے روزے کا حکم اپنی پوری اہمیت کے با وجود بیماروں اور مسافروں کے لئے اٹھا دیا گیا ہے۔ مزید ارشاد ہوتا ہے: غرض اور مقصد یہ ہے کہ تم ان روزوں کی تعداد کو مکمل کرو (و لتکملو العدة) یعنی ہر صحیح و سالم انسان پر لازم ہے کہ وہ سال میں ایک ماہ کے روزے رکھے کیونکہ روزہ اس کے جسم و روح کی پرورش کے لئے ضروری ہے۔ اسی بناء پر ماہ رمضان میں اگر تم بیمار تھے یا سفر میں تھے تو ضروری ہے کہ اتنے ہی دنوں کی بعد میں قضا کرو تا کہ وہ تعداد مکمل ہو جائے یہاں تک کہ عورتوں پر ایام حیض کی نماز کی قضا تو معاف ہے لیکن روزے کی قضا معاف نہیں ہے۔ آخری جملے میں ارشاد ہوتا ہے: تا کہ اس بناء پر کہ خدا نے تمہاری ہدایت کی ہے تم اُس کی بزرگی بیان کرو اورشاید اس کی نعمتوں کا شکر ادا کرو (و التکبر و اللہ علی ما ہدکم و لعلکم تشکرون)۔ یہ امر قابل توجہ ہے کہ خدا کی بزرگی بیان کرنے کے مسئلے کا ذکر بطور قاطع ہے (لتکبروا اللہ علی ما ہدکم) جب کہ شکرگذاری کے لئے لعل (شاید) کہا گیاہے۔ تعبیر کا یہ فرق ممکن ہے اس لیے ہو کہ اس عبادت کی انجام دہی بہرحال مقام پروردگار کی تعظیم ہے لیکن شکر کا مفہوم ہے نعمات الہٰی کو ان کی جگہ پر صرف کرنا اور روزے کے عملی آثار اور فلسفوں سے فائدہ حاصل کرنا۔ اس کی کئی ایک شرائط ہیں جب تک وہ پوری نہ ہوں شکر انجام نہیں پاتا اور ان میں سے زیادہ اہم حقیقتِ روزہ کی پہچان ، اس کے فلسفوں سے آگاہی اور خلوصِ کامل ہے۔

۱۔ مجمع البیان، زیر بحث آیت کے ذیل میں۔
۲۔ ”یطیقونہ“ کا مادہ ہے”طوق“ جس کا اصلی معنی ہے وہ حلقہ جو گلے میں ڈالتے ہیں یا جو طبعی طور پر گردن میں ہوتا ہے (جیسے رنگدار حلقہ جو بعض پرندوں کے گلے میں ہوتا ہے) بعد ازاں یہ لفظ انتہائی توانائی اور قوت کے معنی میں استعمال ہونے لگا۔ یطیقونہ کی آخری ضمیر روزے کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ اس طرح اس کا مفہوم یہ ہوگا کہ جنہیں روزے کے لئے انتہائی قوت اور توانائی خرچ کرنا پڑے اور روزہ رکھنے میں انہیں سخت زحمت اٹھانا پڑے جیسا کہ بڑے بوڑھے اور نا قابل علاج بیمار ہیں، روزہ ان کے لئے معاف ہے اور وہ اس کی جگہ صرف فدیہ ادا کریں۔ لیکن بیمار اگر تندرست ہو جائیں تو ان کی ذمہ داری ہے کہ قضا روزہ رکھیں ۔ بعض نے یہ بھی کہاہے کہ یطیقونہ کا معنی ہے کہ جو گذشتہ زمانے میں قوت و توانائی رکھتے تھے (کا نوا یطیقونہ) اور اب طاقت نہیں رکھتے (بعض روایات میں بھی یہ معنی کیاگیاہے)۔
بہر حال مندرجہ بالا حکم منسوخ نہیں ہوا اور آج بھی پوری طاقت سے باقی ہے اور یہ جو بعض کہتے ہیں کہ پہلے روزہ واجب تخییری تھا اور لوگوں کو اختیار دیا گیاتھا کہ وہ روزہ رکھیں یا فدیہ ادا کریں، آیت میں موجود قرائن اس کی تائید نہیں کرتے اور اس پر کوئی واضح دلیل بھی موجود نہیں ہے۔
۳۔ ”من تطوع خیراً“ کو بعض نے مستحبی روزوں کی طرف اشارہ قرار دیا ہے۔ بعض دوسرے کہتے ہیں اس کا مفہوم یہ ہے کہ روزے کی اہمیت اور فلسفے کی طرف توجہ رکھتے ہوئے چاہئیے کہ رغبت کے ساتھ روزہ رکھاجائے نہ کہ اکراہ و جبر سے روزہ رکھاجائے۔
۴۔ بعض نے ”فمن شہد منکم الشہر“ کی رویت ہلال کے ساتھ تفسیر کی ہے یعنی جو چاند دیکھے اس پر روزہ واجب ہے لیکن یہ بات بہت بعید نظر آتی ہے حق وہی ہے جو مندرجہ بالا سطور میں کہا گیا ہے اور جو قبل و بعد کے جملوں سے بھی ہم آہنگ ہے اور روایات اسلامی کے بھی مطابق ہے۔
📚 ( ماخذ تفسیر نمونہ)
::::::::::::::::::
التماس دعا

اپنا تبصرہ بھیجیں