Muhammad Khan Abro

فرحت اللہ بابر، انسانی حقوق

میری فرحت اللہ بابر سے کبھی ملاقات نہیں ہوئی۔ نہ کوئی شناسائی ہے مگر پاکستان پیپلز پارٹی ہی نہیں ملکی سیاست میں یہ شخص ایک ایسا نام ہے جس کو اصول پسندوں کی انجمن کا قائد کہا جائے تو برائی نہیں، فرحت اللہ بابر چاہتے تو سندھ سے سینیٹر منتخب ہوسکتے تھے، جب مصطفی نواز کھوکھر کو یہاں سے سینیٹر بنایا جارہا تھا تو فرحت اللہ بابر کو بھی باآسانی یہاں سے سینیٹر بنایا جاسکتا تھا لیکن اس اصول پسند نے سندھ کے حق پر اصولی طور پر منتخب ہونا گوارہ نہ کیا۔ جس پر جتنی داد دی جائے کم ہے، فرحت اللہ بابر جس طرح چھوٹے صوبوں اور مڈل کلاس اور نچلے طبقے کی ترجمانی کرتے ہیں اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ اس وقت انسانی حقوق کے ایک عظیم علمبردار بن کر ابھرے ہیں۔انسانی حقوق کے علمبردار پارلیمنٹ کے اندر اور باہر بلا امتیاز انسانی حقوق کی موثر طریقے سے آواز بلند کر رہے ہیں۔ محترم فرحت اللہ بابر صاحب کوصدر پیپلز پارٹی انسانی حقوق کمیشن کی تقرری پر صدر آصف زرداری و چیرمین بلاول بھٹو زرداری کا شکریہ ادا کرتے ہیں، کیوں کہ اس سے پہلے نفیسہ شاہ صاحبہ بھی انسانی حقوق پر بے باک انداز میں اپنا کام کرتی رہی ہیں اور پیپلز پارٹی نے تو ہمیشہ سے انسانی حقوق کی پامالیوں اور خلاف ورزیوں کے خلاف کھل کر بات کی ہے ایسے میں فرحت اللہ بابر جیسے دلیر آدمی کو اس عہدے پر لانا صرف پی پی پی ہی نہیں بلکہ پاکستان کی اقلیتوں اور چھوٹے صوبوں اور اقوام کے لیے نیک شگون ہے۔فرحت اللہ بابر کا شمارپاکستان کے روشن خیال، ترقی اور جمہوریت پسند رہنماوں میں ہوتا ہے۔انہوں نے ایک جامع معاشرے کی تعمیر میں سیاسی جماعتوں کے عمل اور پسماندہ مذہبی اقلیتیوں کی قومی سیاست اور معاشرے میں شمولیت کے لیے ہمیشہ آواز اٹھائی اور اس جرم میں فرحت اللہ بابر کے خلاف بہت سے جمہوریت دشمن عناصر نے محاذ کھول دیے، ایک ایسا وقت بھی آیا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت پر دباؤ ڈالا گیا کہ فرحت اللہ بابر کو پارٹی سے علیحدہ کیا جائے لیکن پی پی پی قیادت خاص طور پر صدر آصف علی ذرداری کو سلام پیش کرتے ہیں جن کی سیاسی بصیرت کو اندازہ تھا کہ فرحت اللہ بابر جیسے باوفا ہیرے ملنا آسان نہیں ہوتا ورنہ یہاں تو پل میں لوگ لطیف کھوسہ، اعتزاز احسن اور بابر اعوان بن جاتے ہیں، یہ بننا بہت آسان ہے مگر معاشرے میں فرحت اللہ بابر بننا بہت مشکل ہوتا ہے، فرحت اللہ بابر بننے کے لیے قربانی دینے کا جذبہ چاہئے ہوتا ہے۔‏پیپلز پارٹی میں ہمیشہ بلند ہمت آئین و جمہوریت پسند قیادت کے گوشے موجود رہے ہیں آج بھی محترم فرحت اللہ بابر اپنی پوری سیاسی زندگی کی طرح اصول پرست آئین پرست بلند قامت سیاستدان کا کردار ادا کررہے ہیں، فرحت اللہ بابر جس طرح میڈیا کی آزادی کے لیے آواز اٹھاتے آئے ہیں وہ بھی قابل رشک ہے مگر جس طرح فرحت اللہ بابر نے پختون ، بلوچ، کشمیر اور گلگت بلتستان کی نوجوانوں میں مایوسی اور سیاسی اضطراب پر کھل پر بات کی، اور پھر وقت نے ثابت کیا کہ فرحت اللہ بابر ٹھیک تھے، اگر ان کی باتوں پر اس وقت کان دھر لیے جاتے تو فاٹا اور وزیرستان سمیت گلگت بلتستان اور کشمیر میں ایسے چند واقعات پیش نہ آتے جن سے ریاست کی اکائیوں میں نفرت نے جنم لیا۔ لیکن جب فرحت اللہ بابر چیخ چیخ کر کہے رہے تھے کہ یہ پالیسی غلط ہے تو اس وقت ہمارے طاقتور حلقے فرحت اللہ بابر کو غلط قرار دینے پر لگ گئے، حالانکہ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ فرحت اللہ بابر سے بات کر کے ان کے موقف پر قومی مباحثہ ہوتا لیکن طاقتور حلقوں میں اگر اتنی سمجھ ہوتی تو عمران خان کو سرمایہ سمجھنے کے بجائے فرحت اللہ بابر کو سرمایہ سمجھتے۔

خیر ہمیں آگے بڑھنا ہے، پاکستان میں روش خیال سیاست دانوں کے خلاف پروپیگنڈہ کرنے کی روش ختم ہونی چاہئے کیوں کہ ہم نے دیکھ لیا کہ جو سیاست دان ہمارے نرسری میں پل کر بڑے ہوئے وہ ہی آج اسٹیبلشمنٹ کو آنکھ دکھا رہے ہیں، اور وہ ہی آج قومی مفاد کے خلاف کام کرتے نظر آرہے ہیں، فرحت اللہ بابر جیسے روش خیال سیاستدان ضرور اسٹیبلشمنٹ بیانئے کے خلاف بات کرتے ہیں لیکن ان میں سے کوئی بھی بھارت یا آمریکہ سے فنڈنگ لیتے ہوئے پایا نہیں گیا، ان میں سے کوئی بھی امریکی بیانیہ بناتے نظر نہیں آتا اور ان میں سے کوئی بھی آج تک کسی پاکستان مخالف تحریک کا حصہ نہیں رہا یہ روشن خیال چہرے یہاں پاکستان میں رہتے ہیں اور یہاں دفن ہوتے ہیں، ان کے بچے بھی اس دھرتی پر ہی رہتے ہیں۔ مجھے امید ہے ہمارے طاقتور طبقے فرحت اللہ بابر جیسے روشن خیال لوگوں سے خیالات کا تبادلہ خیال کرتے نظر آئیں گے اور فرحت اللہ بابر سے بھی امید رکھتا ہوں کہ وہ ملک میں ہاریوں اور مزدوروں کے دن رات جاری استحصال پر کھل کر بولیں گے۔ اس ملک میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا سب سے بڑا نشانہ مزدور اور ہاری ہیں جو جناب فرحت اللہ بابر صاحب آپ پر امید لگائے بیٹھے ہیں کہ پی پی پی انسانی حقوق تنظیم کا سربراہ بننے کے بعد آپ ان کے خلاف ہونے والے مظالم پر ان کی آواز بنیں گے اور ان کے لیے آئین اور قانون میں ترمیم کر کے ان کی پارلیمنٹ میں نشستیں مختص کروائیں گے تاکہ وہ اپنے طبقے کی بھرپور نمائندگی کر سکھیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں