zahid saeed

“اُردو میں نَقّاد کی موجُودگی”

————————
گزشتہ شام “اکادمی ادبیات” میں “ادارۂ اُردو” کے تحت ڈاکٹر عابد سیال کی ادارت میں ایک وقیع مذاکرہ بعُنوان: “اُردو میں نقّاد کی موجودگی” منعقد ہوا۔ مہمانوں میں ڈاکٹر اقبال آفاقی اور ڈاکٹر ناصر اقبال نیّر شامل تھے۔ یہ اس اعتبار سے منفرد مجلس تھی کہ تخلیق کی ہر دو اَصناف- نظم و نثر- پر مشاعرے، مجلسیں، مذاکرے اور نشستیں تو برپا ہوتی رہتی ہیں، مگر تنقید پر کوئی پروگرام شاذ ہی ہوتا ہے۔ مختلف جامعات سے وابستہ طلبائے اُردو کی قابل قدر تعداد کے علاوہ تخلیق و تنقید سے متعلّق کئی ایک معتبر نام بھی شریک تھے۔ منتظمِ مذاکرہ نے موضوع کے تعارف کے ساتھ کچھ بنیادی سوالات دونوں محترم مہمانوں کے سامنے رکھے اور اُن سے مختصرًا خیال آرائی کا کہا گیا۔ باقی کا مذاکرہ شرکا میں شامل اساتذۂ فن جناب محمد حمید شاہد، ڈاکٹر فرخ ندیم، ڈاکٹر قاسم یعقوب، ڈاکٹر فاخرہ نورین، ڈاکٹر صفدر رشید اور خالد محبوب وغیرہ کی طرف سے اٹھائے گئے سوالات پھر جواب الجواب کی شکل میں خوب صورتی سے آگے بڑھا، جس میں تِشنگانِ علم و ادب کےلیے سیرابی کا صدہا سامان موجود تھا۔ خوش آئند بات یہ تھی کہ دیگر مجالس کے برعکس اِس محفل کے شرکا شروع سے آخر تک پوری دلجمعی سے بیٹھے رہے اور تنقید جیسے بظاہر بے رنگ و پیچیدہ موضوع میں پوری دلچسپی دکھاتے رہے۔

ناصر عباس نیر صاحب بلا شبہ اس عہد کے اردو تنقیدی منظر نامے کا نمایاں ترین نام ہیں۔ تقریر ہو یا تحریر ان کا ہر جملہ جہانِ معنی و فکر لیے ہوتا ہے۔ ذیل میں ان کے خطبے اور جوابات میں سے کچھ چُنیدہ نکات پیش ہیں جسے میں نے اپنے فہم کے مطابق جملوں میں ڈھالا ہے۔ ممکن ہے تفہیم میں نقص رہ گیا ہو۔

* نقاد کی موجودگی سے پہلے یہ سوال اٹھتا ہے کہ نقاد کب وجود میں آیا؟ اردو میں نقاد یوں وجود میں آیا کہ انیسویں صدی تک استادی شاگردی کا رواج تھا، استاد خود اپنے شاگردوں کا ایک طرح سے نقاد تھا جو تخلیق کے حسن و قبح سے اُنھیں آگاہ کرتا تھا۔ جب سے استاد کا وجود معدوم ہوا نقاد کا وجود لازمی ہوا۔
* تنقید تخلیق سے الگ نہیں، ہاں ایک تخلیق کار سے الگ ضرور ہے۔ تنقید و تخلیق ایک دوسرے کی تکمیل و تعاون کرتی ہیں۔
* نقاد اس لیے بھی ضروری ہے کہ بسا اوقات تخلیق کار خود سے اور اپنے فن سے اس قدر آگاہ نہیں ہوتا جتنا اُس تخلیق کار کو موضوع بنانے والا ایک نقاد اس سے آگاہ ہوتا ہے۔ ایسے ہی جیسے ایک آدمی اپنے ہی جسم کے اعضا کی ماہیت اور ان کی فعالیت سے اس طرح آگاہ نہیں ہوتا جس طرح متعلقہ شعبے کا ایک ماہر ہوتا ہے جس کا تخصُّص ہی یہ ہو۔
* غالبؔ کو اگر اس کے شارحین اور نقاد میسر نہ آتے تو آج غالب کا یہ مقام نہ ہوتا۔ غالب جتنا بھی بڑا خزانہ تھا وہ خزانہ چھپا ہی رہتا۔
* تنقید میں دو بڑے مسئلے ہیں جو بسا اوقات غلط نتیجے یا فیصلے کا سبب بنتے ہیں: تعصب اور تنگ نظری۔
* تنقیدی و تخلیقی صلاحیتیں دو مختلف صلاحیتیں ہیں۔ تخلیقی صلاحیت وجدانی و تخُیلاتی ہے اور تنقیدی صلاحیت تعقُّلی منطقی و استدلالی ہے؛ مگر دونوں حریف ہرگز نہیں، بلکہ ایک دوسرے کی تکمیل کرنے والی ہیں۔ جان کیٹس، ٹی۔ ایس ایلیٹ، اردو میں عسکری و فاروقی وغیرہ صف اول کے نقاد ہونے کے ساتھ ساتھ اعلی درجے کے تخلیق کار بھی تھے۔ تنقید کے وقت ان کے اندر کا تخلیق کار اور تخلیق کے وقت نقاد ان کے آڑے نہیں آتا تھا بلکہ باہم معاون ہوتے تھے۔
* تنقید کا دعوی تب تک درست نہیں جب تک کوئی دو طرح کے مطالعے میں وسعت نہ رکھتا ہو۔ ایک تو ادب کی پوری روایت کا مطالعہ اور دوسرا معاصر علوم کا مطالعہ۔
* ادب کی ہر صنف کی طرح تنقید کا انداز بھی بدلتا رہتا ہے۔ آج کی تنقید حالی، عسکری، فاروقی یا نارنگ کی تنقید جیسی نہیں لکھی جا سکتی۔
* بطور قاری کسی متن کا مطالعہ اور طرح کرتا ہوں اور بطور نقاد اس متن کا مطالعہ کرتے ہوئے میرا بالکل دوسرا انداز ہوتا ہے۔ اس وقت مختلف علوم و رجحانات کو پیش نظر رکھتا ہوں۔ زبان، علم بشریات، معاشیات، سیاسیات، سماجیات، نفسیات سب کا خیال رکھ کر پڑھتا ہوں۔
* کچھ لوگ پڑھے بغیر اعتراض کرتے ہیں کہ اردو کا نقاد مغرب سے نقل و ترجمہ کر دیتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مغرب کی دو سمتیں ہیں اور ان سے ہمارا تعلق بھی دو سطحی ہے۔ استعماری مغرب سے ہمارا تنقید و رد کا رشتہ ہے اور علمی مغرب سے استفادے و تعاون کا۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے “داستان امیر حمزہ” کو جب فارسی سے اردو میں ڈھالا گیا تو وہ مکمل مقامی رنگ میں رنگ گئی اور اردو کی ہوگئی۔ ناول اور ڈراما بھی خالص مغربی اصناف ہیں مگر اردو میں اپنے رنگ و آہنگ اور زبان و کردار کے ساتھ آئیں اور مقامی بن گئیں۔
* اچھا ادیب یا اچھا نقاد بننے کےلیے ایک سے زائد زبانوں اور ان کے ادب سے آگاہی لازمی ہے۔
* گزشتہ عشروں کی نسبت آج اردو میں تنقید بہت کم لکھی جا رہی ہے، اس کی بنیادی وجہ ہمارا تعلیمی نظام ہے۔ صرف ادب ہی کا نہیں ہر شعبے کا حال قابل اطیمنان نہیں ہے۔ اس صورت حال میں علوم و فنون کے ہر شعبے سے ایک آدھ لوگ تو نمایاں ہو سکتے ہیں مجموعی ترقی نہیں ہو سکتی۔

زاہد سعیدؔ
۹ جُون، ۲۰۲۳

اپنا تبصرہ بھیجیں