محمد ارشد جیلانی

ملک کی خوشحالی کیلئے سب کو محنت کرنا ہوگی!

بیروزگاری خود غربت ہے اور اخلاقی برائی کی طرف پہلا قدم بھی … اسلام کا معاشی دستور تمام اقوام عالم کے معاشی نظاموں سے زیادہ متحرک ، زیادہ فعال اور زیادہ متنوع ہے! خیرات و زکوٰۃ کا نظام بھی محتاجوں، ناداروں کی مالی اعانت کیلئے ہے تاکہ معاشرے سے غربت کا خاتمہ کیا جائے اور فلاحی ، معاشی ، معاشرتی اور سماجی فضا پیدا کرکے پسماندہ عوام کو خوشحال بنایا جائے یہی اسلامی فلاحی معاشرے کی غرض و غایت ہے کہ کوئی فرد دکھی، دست نگر اور مفلوک الحال نہ رہے…
تحریک امدادباہمی کی حقیقت کی بنیاد بھی مساوات، بھائی چارے ، تعاون اور انسانیت کی بھلائی پر رکھی گئی ہے اس کے مقاصد میں بھی بیروزگاری کا خاتمہ اور ایک ایسے اخلاقی معاشرتی ، سماجی و معاشی نظام کا قیام ہے جس سے پسماندہ اقوام نہ صرف خوشحال ہوجاتی ہیں بلکہ ترقی کے بام و عروج پر پہنچ جاتی ہیں… لہٰذا یہ اسلامی فلاحی معاشرے کے تمام فیوض کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے یہی وجہ ہے کہ یہ نظام عین اسلامی فلاحی ریاست کے نظام کے مطابق ہے … تحریک امدادباہمی کے اندر شرافت، ہدایت، دیانت، اخوت اور فرائض کی بجاآوری جیسے جوہر سموئے ہوئے ہیں تاریخ شاہد ہے کہ جس خطہ ارضی میں اس تحریک کو اس کی اصل روح کے مطابق اپنایا گیا وہاں اس کے فیوض سے زندگی کے ہر شعبے کو خواہ وہ معاشرتی و معاشی تھا، سماجی و ثقافتی تھا ، اخلاقی و تہذیبی تھا اسے ’’گل بہار کردیا‘‘۔ ذرا سوچئے کہ یہ ایک ایسے نظام ہی کا ثمر ہے کہ اس کے طفیل زندگی کے تمام شعبوں میں ترقی ہی ترقی کے آثار نظر آتے ہیں…
ہر حکومت کا یہ عزم ہوتا ہے کہ وہ غیر ملکی قرضوں پر انحصار ختم کرکے ملکی معیشت کو مستحکم بنائے گی۔ اگرچہ حکومت کے سامنے ملک کی اقتصادی صورتحال بہتر بنانے کا سوال ایک بہت بڑے چیلنج کی حیثیت رکھتا ہے لیکن اللہ کے فضل سے ہمارے پاس اتنے وسائل موجود ہیں اور ہماری قوم اتنی باصلاحیت ہے کہ اگر صحیح معنوں میں قومی زندگی کے تمام شعبوں پر محیط حقیقت پسندانہ منصوبہ سازی کی جائے اور اس پر پورے عزم و اعتماد کے ساتھ عملدرآمد کا تہیہ کرلیا جائے تو کوئی وجہ نہیں کہ ہم اپنی بڑی بڑی اقتصادی مشکلات پر قابو پانے میں کامیاب نہ ہوسکیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پورے ملک میں بنیادی ضرورت کی صنعتی سرمایہ کاری کو نجی شعبہ کے ساتھ ساتھ کوآپریٹو سیکٹرکے تحت فروغ دیا جائے ، اس طرح اس وقت ملک کو جن غیر معمولی اقتصادی مسائل کا سامنا ہے ان کے پائیدار حل کی بنیاد آسانی سے فراہم ہوسکتی ہے اور صرف چند برسوں کے اندر اندر ہماری بیشتر اقتصادی مشکلات دور ہوسکتی ہیں اور ہم دوسروں کی دست نگری کے ذلت آمیز مقام سے اٹھ کر ایک عزت مند قوم کی طرح خودانحصاری کے باوقار مقام پر پہنچ سکتے ہیں۔
ضرورت و حالات اس بات کے متقاضی ہیں کہ ملک کی اقتصادی و معاشی پالیسیوں کا رخ موڑا جائے اور ملکی معیشت کو اجتماعی اساس پر استوار کیا جائے لہٰذا حکومت کو چاہیے کہ اپنے پروگرام کی بنیاد تحریک امدادباہمی پر استوار کرتے ہوئے منصوبہ سازی کرکے ایک ایسے اجتماعی دور کا آغاز کرے جس میں محمود و ایاز ایک ہی صف میں کھڑے ہوں جو ایک اسلامی فلاحی ریاست کا مفہوم ہے۔
قومی زندگی میں بڑے نازک مرحلے آتے ہیں اور ایسے مرحلے قوموں کی تقدیر متعین کرتے ہیں اس لئے بہتر یہی ہے کہ انہی لمحوں میں ملک کے تابناک مستقبل کیلئے سہاروں کی بیساکھیوں سے نجات حاصل کرکے اپنے محدود وسائل پر امدادباہمی کے ساتھ زندہ رہنے کی جدوجہد کے ایک نئے دور کاآغاز کیا جائے۔
تحریک امدادباہمی دراصل ایک عوام اقتصادی اور معاشی تحریک ہے، اس کا مقصد عوام کی اقتصادی حالت کو بہتر بنانا ہے ، اس تحریک میں عوام اپنی مرضی سے شامل ہوتے ہیں، اس کا انتظام خود کرتے ہیں۔ یہ تحریک نہ صرف اپنے ممبروں کی معاشی بہبود کیلئے برسرپیکار ہوتی ہے بلکہ ایک اخلاقی تحریک کو بھی جنم دیتی ہے جو کہ اچھے انسان، اچھے شہری اور ایک معاشرے کا قیام کا سبب بنتی ہے۔ ترقی یافتہ ممالک تحریک امدادباہمی کے فیوض و برکات سے روشناس نظر آتے ہیں۔ ان ممالک میں اس عالمی تحریک کی جڑیں بڑی مضبوط ہیں کیونکہ ان ممالک کے کسانوں اور عوام نے اس تحریک کے اصولوں کو اپنی روز مرہ زندگی کا حصہ بنالیاہے۔
تحریک امدادباہمی صاف ستھری اور باصلاحیت قیادت تو ملک کو فراہم کرتی ہے لیکن خود سیاست کا حصہ نہیںبنتی ، اس کا مقصد صرف اور صرف عوام کی فلاح بہبود ہے لہٰذا اپنے ذاتی مفادات، باہمی جھگڑوں اور رنجش کو ایک طرف رکھتے ہوئے اجتماعی اور ملکی ترقی کو پیش نظر رکھ کر امدادباہمی کی ایسی انجمنیں تشکیل دی جائیں جن کا دائرہ کار تمام شعبہ ہائے زندگی کو محیط کرے تاکہ امدادباہمی کی اس عالمی تحریک کے زریں اصول جو اسلام سے مطابقت رکھتے ہیں کو اپنا کر ہمارا ملک ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہو۔
یقینا وہ اقوام خوش بخت ہیں جنہوں نے نہ صرف اس تحریک سے فلاح پائی بلکہ تحریک کی فلاحی اقدار و تعلیمات کو اپنے قول و فعل سے بھی عملی مظاہرہ کرکے دکھایا… نیکی سے نیکی کا چراغ جلتا ہے اور ہر آنگن، ہر بستی حتیٰ کہ پورا ملک منور ہو جاتا ہے… یہی امدادباہمی کی حقیقت ہے جو عین اسلامی بھی ہے… اللہ کرے کہ ہمارے ملک میں تحریک امدادباہمی کا نظام رائج ہو اور ہمارا ملک بھی خوشحالی کی طرف رواں دواں ہوجائے …

اپنا تبصرہ بھیجیں