انعم ملک

واقعہ 9 مئی اور پارٹی گئی!

عروج آدم خاکی سے انجم سہمے جاتے ہیں
کہ یہ ٹوٹا ہوا تارا مہ کامل نہ بن جائے

پاکستان کی تاریخ میں پہلے کبھی نا ایسا سنا نا دیکھا گیا کہ ایک شخص کو توڑنے کے چکر میں پارٹی تو پارٹی کیا ملک ہی توڑ دیا۔ ارے بھئی ایسا بھی کیا ڈر ایک شخص سے کہ اس کے پیچھے ملک کا آئین و قانون، اس کی بقاء سب کچھ داؤ پر لگا دیا۔

مارچ 2022 سے شروع ہونے والا آئینی بحران دن با دن زور پکڑتا گیا۔ ایک شخص کی سیاست ختم کرتے کرتے ملک کو ہی ختم کردیا۔ اس وقت پاکستان میں سب سے اہم صرف اور صرف ایک سیاسی جماعت کا خاتمہ یا پھر اس کے سربراہ کی سیاسی موت ہے۔ اگر اس سے بھی دل نہیں بھرا تو اسے ذاتی طور پر صفحہ ہستی سے مٹانے کی بھی کوششیں جاری ہیں۔

پہلے تحریک عدم اعتماد سے اسے اقتدار سے ہٹایا اور لوگوں کے دلوں میں راج کروایا۔ اس کے بعد جب انہوں نے جبری برطرفی پر احتجاج کیے تو اس میں بھی کارکنان اور شرکاء پر لاٹھی چارج اور شیلنگ کی گئی۔ اور پھر کرتے کرتے یہ تشدد اور بہمانہ سلوک اتنا عام ہوگیا کہ ان کے ہر احتجاج کو پرتشدد واقعات میں بدل دیا گیا۔ اسی میں 25 مئی 2022 اور اس کے بعد 9 مئی 2023 جیسے واقعات شامل ہیں، جس میں سینکڑوں افراد بری طرح زخمی ہوئے اور کئی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

عوام کو اتنا پرتشد، نفرت انگیز بنا دیا کہ وہ اپنے ہاتھوں سے اپنے ہی ملک میں آگ لگانے لگ گئے۔ جن کی قربانیوں سے یہ ملک حاصل کیا انہیں کی یادگاروں کو جلا دیا، ملکی اثاثوں کو نقصان پہنچایا، اپنے ہاتھوں سے اپنی تاریخ کو تاریک کردیا، اس میں جو معلوم افراد شامل ہیں ہی نامعلوم افراد کا بھی بہت بڑا ہاتھ ہے، گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے،،،،اس واقع کی جتنی مزمت کی جائے کم ہے لیکن ساتھ ہی ساتھ ان سب افراد کو جو اس جرم کے مرتکب ہیں کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔

یہ نہیں ہوسکتا کہ اس جرم میں پکڑے ملزمان کو آپ اپنی ایک پریس کانفرنس اور پرچی کے عوض چھوڑ دیں اور تمام الزامات سے بری کردیں لیکن وہی شخص اگر اس پریشر کانفرنس سے انکار کردے تو اس کے لیے گھیرا مزید تنگ کر دیا جائے اور اس پر ظلم اور زیادتیوں کے پہاڑ توڑے دیے جائیں۔ اور اسی طرح ایک ایک کرکے آپ سب جبری طور پر پارٹی سے علیحدگی اختیار نہیں کروا سکتے، انصاف کا یہ دوہرامعیار کسی صورت بھی قابلِ قبول نہیں۔

ارے بھئی پارٹی سے سیاسی اختلاف تھا تو سیاست سے اسے جواب دیتے، جو آئینی اور قانونی طریقہ کار ہے اس سے لڑتے، یہ کیا وہی تاریخ پر تاریخ دہرائی گئی، جو غلطیاں پہلے کی گئیں وہی اب بھی دہرائیں، لوگوں کو گھروں سے اٹھایا گیا، پھر چاہیئے ان کا تعلق کسی بھی شعبہ زندگی سے ہو، مرد ہو یا خواتیم ہوں، کسی میں کوئی تفریق نہیں کی بس جو جو اس پارٹی کا حمایتی تھا ایک ایک کرکے نامعلوم افراد میں شامل ہوتا چلا گیا۔ کتنے ہی اس تحریک میں اپنی جان تک گنوا بیٹھے، کتنے ہی گھر اجڑ گئے۔
لیکن ہم ایک باشعور قوم ہونے کی بجائے لاشعور قوم بنتے گئے، اور کسی غلط فہمی میں رہے کہ شاید اس قوم میں شعور آگیا ہے۔ اگرچہ قوم میں شعور آتا گیا تو ادارے لاشعور ہوگئے، ہمارے محافظ ہمارے دشمن بن کر ہمارے سامنے کھڑے ہوگئے، پولیس، عدلیہ سب کے سب بے بس اور لاچار نظر آئے ایک مضبوط ارادے نے سب کو اپنے نیچے چیونٹی کی طرح روند کر رکھ دیا۔ ایک مچھلی نے پورا تالاب گندہ کردیا۔ لیکن نہیں ہم کچھ نہیں کہہ سکتے ہمیں کوئی حق نہیں زبان کھولنے کا ورنہ ہمیشہ کیلئے خاموش کروا دیے جائیں گے۔

جب یہ ملک آزاد کروایا تھا کیا تب جو آئین پاکستان کے نام پر ایک کتاب لکھی تھی اس پر موجود 273 آرٹیکلز کا کیا کچھ لینا دینا تھا ہم سے یہ ہماری ریاست سے؟ اگر تھا تو اس پر عملدرآمد کیوں نہیں ہوا؟ ہم تو یہاں آئین اور قانون کو بھی اپنے مطلب کے لیے توڑ موڑ کے استعمال کرتے ہیں۔ اداروں نے پاکستان کو ایک اکیڈمی بنا دیا ہے بس، جہاں ہر کچھ عرصے بعد شارٹ کورسز کے نام پر ایک کے بعد ایک سیاسی جماعت کو ہم پر مسلط کرکے آزمایا جاتا ہے۔ اور جب کوئی نہیں چلتا تو ایک نئی جماعت بنا لی جاتی ہے اور جماعت بھی صرف برائے نام نئی ہوتی ہے اس میں وہی کرپٹ اور دوسری جماعتوں سے نکلے ہوئے اعلیٰ پائے کے سوکالڈ سیاستدان ہوتے ہیں۔

اور ہماری قوم اپنے اپنے رول ماڈل کے پیچھے سب کچھ بھول بھال کر ان سب کو پھر آزمانے کو تیار ہوجاتی ہے۔ ارے بھئی نہیں سنبھلتا اور چلتا یہ ملک تو جن سے لیا تھا انہیں واپس کردو، نہیں تو جس کا جو کام ہے خدارا انہیں وہ کرنے دو، ہر کام میں اپنی ٹانگ اڑانا ضروری نہیں۔ جس کا کام اسی کو ساجھے

آخر اور کب تک کھیلیں گے اپنے ملک کے ساتھ؟ کس کس کو آزمائیں گے؟ پہلے مہنگائی کا غم کھایا جاتا تھا غریب سے اس کے جینے کا حق چھین لیا، جس نے ظلم کے خلاف آواز بلند کی اس سے خاموش کروا کے اس سے بولنے کا حق چھین لیا، جس نے اپنا آئینی حق استعمال کرنے کی کوشش کی تو اس سے بھی آپ نے جبری علحیدگیاں کروا کر ان سے بھی ان کا وہ حق چھین لیا۔ پیچھے کیا رہ گیا؟ اس ملک میں تو ہر طرف جنگل کا قانون رائج ہے باقی سب بس کٹ پتلیوں کا کردار ادا کررہے ہیں۔

بند کریں یہ سب جبری ذہنی اور جسمانی تشدد، آزاد ملک کو آزاد ہی رہنے دیں، اپنی ذاتی اور اقتدار کی جنگ میں اسے سولی نا چڑھائیں۔ یہ ملک ہم سب کا ہے، ہمیں مل کر اس کا فیصلہ کرنے دیں، ہمارے لیے کیا صحیح کیا غلط اس کا فیصلہ ہم پر چھوڑ دیں، آپ کا جو کام ہیں آپ وہ دیکھیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں