ڈاکٹر صغرا صدف

باطنی سفر

زندگی اک مسلسل سفر کا نام ہے، یونیورسٹی میں منتخب کردہ خاص مضمون کا علم ایک مخصوص دورانیے تک حاصل کیا جاتا ہے مگر زندگی کا مضمون تمام عمر پڑھنا ہوتا ہے۔اس کا نصاب وقت اور عقل کے مطابق تبدیل ہوتا رہتا ہے۔عموما ًیہ انسان کی ذات اور کائنات کی دریافت پر مشتمل ہوتا ہے۔ باطنی سفر کسی حالت میں موقوف نہیں ہوتا۔ صرف اس کا ادراک ہونا ضروری ہے۔
انسان کی شخصیت کے دو پہلو ہیں باطن اور ظاہر، باطن بھی اتنا ہی حقیقی، ضروری اور اصل ہے جتنا ظاہر، کوئی کمتر اور برتر نہیں دونوں اتنے لازم و ملزوم ہیں کہ ایک دوسرے کے مرہونِ منت ہیں۔ سارا مسئلہ باطن اور ظاہر کی رسائی اور میلان سمجھنے میں غلطی سے پیش آتا ہے، ہم کیونکہ ظاہری اعمال، حرکت اور اشیا کو دیکھ سکتے ہیں اس لئے جن چیزوں کا تصور کیا جاسکتا ہے اُن پر بھی ویسے کلیے لاگو کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔اب جسم کام کرتا نظر آسکتا ہے روح اور جان نہیں۔ دل کے احساسات دیکھے نہیں جاسکتے، دماغ کی تختی پڑھی نہیں جاسکتی۔ان تمام کو دیکھا نہیں جاسکتا مگر یہ سب موجود ہیں اور فرائض سرانجام دے رہے ہیں،ان کے دائرہ کار مختلف ہیں۔ہر انسان میں روح موجود ہے اس لئے اُس میں روحانی طاقت موجود ہے جو اُسے مخصوص حالات میں مخصوص معلومات فراہم کرتی ہے۔ گزشتہ کالم میں ہم نے ولیوں کے آپس میں روحانی رابطے پر بات کی تھی۔ظاہر ہے یہ تصوف کے اوپر والے درجے پر موجود نوازے گئے اور چنے ہوئے لوگوں کی خاصیت ہے۔جب کہ ہر فرد اپنی روح کی وساطت سے باطن میں سفر کرتا ہے۔اگر وہ آنکھیں بند کرکے پورے ارتکاز کے ساتھ کچھ ڈھونڈنا چاہے تو اس کا جواب ضرور پاتا ہے۔
روزمرہ زندگی میں اکثر لوگ سچے خواب دیکھتے ہیں۔ خصوصا ًنیت کرکے اور دل میں بار بار ذکر کرکے قدرت سے مشورہ طلب کیا جائے تو جواب ضرور عطا کیا جاتا ہے۔ بعض اوقات جواب واضح ہوتا ہے مگر اکثر کسی اشارے یا علامت کی شکل میں ہوتا ہے جسے سمجھنے میں کسی اہلِ نظر سے مشاورت کرنا پڑتی ہے۔ کئی بار ہمیں کوئی ایسا مسئلہ درپیش ہوتا ہے جس کی تدبیر یا جواب نہیں سوجھ رہا ہوتا تو بیٹھے بیٹھے اچانک کوئی خیال ذہن کی سلیٹ پر چمکنے لگتا ہے۔ہم اچھل پڑتے ہیں یہ خود بخود وارد نہیں ہوتا بلکہ یہ روحانی رابطے کے باعث ممکن ہوتا ہے جو ہماری روح کی استدعا پر سامنے آتا ہے۔ اپنی روز مرہ زندگی میں باطن سے رہنمائی کے لئے دل کی صفائی اور روح سے ہمنوائی ضروری ہوتی ہے۔
سات آٹھ برس پہلے ایک کانفرنس میں شرکت کےلئےمیں ہندوستانی پنجاب گئی۔ا سٹیج پر میرے ساتھ ایک مسلمان ممبر پارلیمنٹ فریدہ بیٹھی تھیں۔ تعارف سے پتہ چلا۔ انھوں نے بھی فلسفے میں ایم اے کیا ہوا ہے۔کوئی مشترکہ دلچسپی یا نظریاتی پہلو نکل آئے تو دوستی کی بنیاد خود بخود تعمیر ہونے لگتی ہے۔ایسا ہی ہوا۔ اگلے دن انھوں نے مجھے چندی گڑھ دکھانے کا اہتمام کیا۔ ایف اے کے طالبعلم بھائی کو گاڑی اور ڈرائیور کے ساتھ بھیجا۔ میں نے اس خوش اخلاق بچے سے مجدد الف ثانی کی درگاہ پر حاضری کی فرمائش کر دی جن کا مزار وہاں سے چالیس کلومیٹر دور تھا۔میرے بار بار کہنے کے باوجود وہاں جانے پر اتفاق نہ ہو سکا تو میں یہ کہتے ہوئے گاڑی میں بیٹھ گئی کہ مجھے بابا جی نے بلایا ہی نہیں تھا ورنہ آپ لوگ مجھے ضرور وہاں لے جاتے۔ میں نے محسوس کیا میرے آنسو میرے گالوں پر بکھر رہے ہیں۔اس کے بعد گاڑی میں بیٹھے لوگوں سے میری کوئی بات نہ ہوئی۔میں باہر کے مناظر میں کھوئی رہی۔ آدھ پون گھنٹے بعد گاڑی رکی اور فریدہ کے بھائی نے کہا آنٹی مجدد الف ثانی کا دربار آگیا ہے، آجائیں آکر مل لیں۔میں حیران رہ گئی۔عصر ڈھل رہی تھی وہاں ہمارے علاوہ کوئی اور فرد نہیں تھا۔ عجیب سی اداسی کا سماں تھا مگر مجھے ایک بھرپور روحانی خوشی کا احساس ہوا۔ میں نے وہاں کھڑے ہو کر خاموشی کی زبان میں کئی باتیں کیں۔ کئی چیزیں پوچھیں ۔ ان کی نسل کے دسویں پیڑھی کے بزرگوں سے ملاقات کی۔ میں نے اسی رات خواب میں حضرت مجدد کو دیکھا۔ وہ چہرہ مجھے آج بھی یاد ہے۔ وہ باتیں مجھے آج بھی یاد ہیں۔میرے شکوے میں ایسی تاثیر اور درد تھا کہ انھوںنے مجھے دربار پر بھی بلایا اور خواب میں بھی دیدار دیا۔
اصل میں ہر فرد میں روحِ مطلق کا جلوہ ہے جو ہر اک میں ایک خاص ربط کا باعث ہے۔ اسی اشتراک کے باعث کائنات کو خدا کا کنبہ کہا جاتا ہے اور صوفی ہر فرد کی تکریم کی ہدایت کرتے ہیں مگر روحانی رابطوں میں جڑی روحوں کا آپس میں گہرا رابطہ ہوتا ہے۔روحیں ایک دوسرے کی بات سنتی اور جواب دیتی ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں