آصف خاور

دکھی انسانیت کے دشمن

یہ 1996 کی بات ہے ایچی سن کالج لاہور میں جغرافیہ پڑھانے والا ایک ٹیچر میوزک انڈسٹری میں راتوں رات چھا جاتاہے، اس کی دھوم سرحدوں کی محتاج نہیں رہتی اورپوری دنیا میں اس کا ڈنکا بجنے لگتاہے وہ نوجوان اپنی شہرت کو موج مستی میں اڑانے کا سوچتاہے اور ایک ہیلی کاپٹر خریدنے کیلئے پیسے جمع کرنا شروع کردیتا ہے مگر خدا کو کچھ اور ہی منظور تھا، شہرت کی بلندیوں پر پہنچتے ہی اسے ماں کی جدائی کا دکھ سہنا پڑتا ہے، ایک دن وہ اپنے دوبڑے بھائیوں کیساتھ ماں کی قبر پر حاضری دینے کے بعد واپس آتے ہوئے بتاتاہے کہ میں نے جو پیسے جہاز خریدنے کیلئے جمع کئے ہیں میں چاہتاہوں کہ اس رقم سے ماں کے نام پر ایک ڈسپنسری قائم کردوں تاکہ کسی مستحق مریض کا بھلا ہوسکے، بڑے بھائی چھوٹے کی بات کی تائید کرتے ہیں اس طرح ڈسپنری بنانے بارے دن رات سوچنا شرو ع کرتے ہیں۔اس نوجوان کو خدمت خلق کے جنوں میں رات کو نیند آتی ہے نہ دن کو سکون ملتاہے اس دوران اس کے کچھ دوست ملکر ایک فلاحی ادارہ بنانے کا بھی سوچتے ہیں اور اس کی پلاننگ کیلئے وہ اکثر اپنے دوستوں کیساتھ بیٹھک رکھتے ہیں مگر کئی روز کے مشاورتی اجلاسوں کے باوجود حاصل کچھ بھی نہیں ہوتا، اس دوران ان کے بڑے بھائی کو صورتحال کا علم ہوتاہے کہ وہ اس نوجوان کو کہتے ہیں کہ یہ میرا ڈرائنگ روم ہے اس کو مشاورت کیلئے استعمال کرلیجئے جب دل چاہے، وہ خود بھی اپنی ڈیوٹی ختم ہونے کے بعد چھوٹے بھائی کی دلجوئی شروع کردیتے ہیں اور آخرکار نثار کالونی کینٹ کے اس ڈرائنگ روم میں ایک فلاحی ادارے کی بنیاد رکھی جاتی ہے اور ” Charity begins at home“ مقولے کے مطابق یہ طے کیا جاتاہے کہ ہم دکھی انسانیت کا یہ سفر اپنے علاقے سے شروع کریں گے جہاں پسماندگی اور دور دراز ہونے کی وجہ سے علاج کروانا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔”تنہا ہی چلا تھا جانب منزل، لوگ ملتے گئے کارواں بنتا گیا“کے مصداق جب مقصد بڑا ہو تو خدا بھی ہاتھ پکڑ لیتا ہے او رمنزل بھی آسان ہوجاتی ہے، ڈسپنسری بنانے کی سوچ سے سفر شروع کرنیوالے اب تھوڑا بڑا سوچنا شروع ہوگئے، اب چھوٹے سا ہسپتال بنانے کا خیال تلملانے لگا،مگر وسائل ابھی تک ایک خواب تھے؟ایچی سن کالج کا یہ لیکچرر ابرارالحق اورانکے اس کٹھن میں اولین ساتھی انکے بڑے بھائی میجر اسرارالحق تھے، اس فلاحی ادارے کا نام ”سہارافارلائف ٹرسٹ“ ہے جس کو بنانے کیلئے اتنے بڑے پاپڑ بیلنے پڑے اور مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔ابرارالحق نے صرف ایک ڈسپنسری بنانے کا سوچا تھامگر میجراسرارالحق کی شبانہ روز محنت اور ڈونرز کے اعتماد نے نارووال میں ”سٹیٹ آف آرٹ“ صغریٰ شفیع میڈیکل کمپلیکس بناکر ایک نئی تاریخ رقم کردی، شروع میں اس ہسپتال میں صرف ٹی بی کے علاج کے بارے سوچا گیا مگر افتتاح سے پہلے ہی اسے جنرل ہسپتال بنادیا گیا جہاں آج دل،گردے، کینسر سمیت ہر علاج کی سہولت موجود ہے۔ ابرارالحق نے نارووال میں ایک میڈیکل کالج بھی بنایا ہے جو اس ہسپتال میں زیر علاج مریضوں کے مفت علاج کا بوجھ اٹھانے میں اہم کردار ادا کررہاہے اوریہ سب کچھ صرف مخیر حضرات کے تعاون سے ممکن ہوا ہے۔ابرارالحق کی دکھی انسانیت کیلئے خدمات کو نہ صرف حکومت پاکستان نے سراہتے ہوئے تمغہ امتیاز سے نوازہ بلکہ OIC اوراقوام متحدہ نے بھی ابرارالحق کو خراج تحسین پیش کیا۔ابرارالحق نے بھی سماجی خدمات انجام دینے کے بعد سیاست کے کارزار میں قدم رکھا مگر اس قوم نے تو مولانا عبدالستار ایدھی اور ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی ضمانت ضبط کروا دی تھی ابرارالحق کہاں کا بیچارہ تھا،خیر سیاست میں جو ہوا سو ہوا،ابرارالحق نے سیاست سے دوری کا فیصلہ کیا ہے جو درست ثابت ہوتا ہے یا غلط یہ تو وقت ثابت کرے گا؟اصل بات صرف یہ سوچنے والی ہے کہ ابرارالحق کے خلاف جو لوگ پراپیگنڈہ کرتے نہیں تھکتے وہ ابرارالحق کے دشمن نہیں بلکہ وہ دکھی انسانیت کے دشمن ہیں کیونکہ ابرارالحق ایک وسیلہ بن کر مستحق مریضوں کیلئے فنڈریزنگ کر کے سہارافارلائف ٹرسٹ کے حوالے کرتا ہے،لندن میں ابرارالحق کے جس شو کو خراب کرنے کی کوشش کی گئی اور یہ کہا گیا کہ ”لوگ ابرارالحق کے سیاست سے دوری کی وجہ سے نالاں ہیں“ یہ سراسر پراپیگنڈہ ہے، ابرارالحق کااس شو میں جانا کم از کم دو مہینے پہلے سے طے تھا اور یہ شو کسی ایک سیاسی شخصیت کا بھی نہیں تھا بلکہ مختلف لوگوں کا جوائنٹ ایڈونچر تھا، خیر ابرارالحق کے اس شو میں بدمزگی پید ا ہونے کی وجہ بڑی وہاں کی شو انتظامیہ اور کچھ مقامی صحافیوں کا آپس پھڈا تھا جسے سوشل میڈیا کے ذریعے غلط رنگ دیا گیا،صحافی انٹرویو کرنا چاہتے تھے اور شوانتظامیہ انہیں روکنا چاہ رہی تھی۔نارووال کے لوگ جانتے ہیں کہ صغریٰ شفیع میڈیکل کمپلیکس (سہاراہسپتال) انکے لئے کیا اہمیت رکھتا ہے او ر اس علاقے میں اس ہسپتال کی وجہ سے اب تک کتنے لوگ موت کے منہ میں جانے کی وجہ سے بچ پائے ہیں؟پاکستان میں ہر بندہ سیاسی نظریات رکھتاہے جس کا وہ پرچارکرنے کا بھی حق رکھتا ہے لیکن جو لوگ اپنی زندگی دوسروں کیلئے وقف کرچکے ہیں انکے فلاحی منصوبوں کو سیاست کی بھینٹ چڑھانا یا پھر ان کیخلاف پراپیگنڈہ کرنے والے انسان کہلانے کے بھی حقدار ہیں؟سہارافارلائف ٹرسٹ کے ڈونر ز کااعتماد ہے کہ الحمدللہ اس سال بھی عید قربان کے موقع پر امریکا،برطانیہ،یورپ اورمشرق وسطیٰ کے ممالک میں بسنے والے پاکستانیوں نے دل کھول کر عطیات دیئے ہیں،خدارا کم ازکم فلاحی اداروں کو سیاست سے بچالیں،انسانیت تو پہلے ہی شرما گئی ہے پاکستان میں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں