Bilal Ghauri

ایک تھی تحریک انصاف

طفلان انقلاب کبھی بڑے ہوں گے یا نہیں ،اس حوالے سے تو کوئی بات وثوق سے نہیں کی جاسکتی البتہ بڑھاپے کی دہلیز پر قدم رکھنے کے بعد یہ بچوں کو بتایا کریں گے کہ کبھی ہم بھی ’’ٹکرکے لوگ‘‘ہوا کرتے تھے ۔ان کہانیوں سے قطع نظرجب مورخ تحریک انصاف کے عروج و زوال کی روداد بیان کرے گا تو نوک قلم ایک ہی جملے پر اٹک جائے گی کہ یہ تحریک دیوتا کی انا اورخودپسندی کی بھینٹ چڑھادی گئی ۔
جناب عمران خان کا انقلاب اپنے ہی سونامی کی بدمست لہروں میں غرقاب ہورہا ہے ۔ان کی شخصیت پیاز کی طرح تہہ در تہہ بے نقاب ہوتی جارہی ہے۔ان کے بلندبانگ دعوے اور بڑی بڑی باتیں بازگشت کی طرح ان کے تعاقب میں لوٹ آئی ہیں ۔’’ہم کوئی غلام ہیں‘‘ جیسے نعرے ان کے پیروکاروںکامنہ چڑا رہے ہیں ۔بیانئے کا سحر ٹوٹ چکاہے ۔مقدر روٹھ چکاہے۔تبدیلی کے خواب تار تار ہوچکے ہیں ۔امیدوں کے چراغ بجھ رہے ہیں ۔حالات کی ستم ظریفی دیکھیں ،قدرت مہربان تھی تو دوسروں کے محاسن اور خوبیاں مستعار لے کرعمران خان کو ودیعت کردی گئیں اور آج ’’ان ‘‘کا دست شفقت اُٹھ جانے کے بعد اپنی قائدانہ اور مقررانہ صلاحیتیں بھی کام نہیں آرہیں ۔تبدیلی کا وہ ٹائی ٹینک جو بڑے کروفر اور شان سے عازم سفر ہوا تھا اور ناقابل شکست دکھائی دیتا تھا ،آج کسی بوسیدہ نائو کی طرح ڈوب رہا ہے ۔کہاں وہ جذبہ شوق کہ پروانے اور مستانے جوق در جوق اُمڈ آیا کرتے تھے ،زمان پارک کے پاس جمگھٹا لگا رہتا ،کسی میلے کا سماں ہوا کرتا تھا،بڑے بڑے جغادری یہاں آکر طواف کیا کرتے ۔قانون نافذ کرنے والے ادارے سرتوڑ کوشش کے باوجود کپتان کی گرد پا کو نہ چھو پاتے کیونکہ ان کے چاہنے والوں کا جم غفیر ہوا کرتا تھا۔سمجھانے والے نصیحت آمیز انداز میں خطرے کی نشاندہی کرنے کی کوشش کرتے تو عشاق اِترا کر کہتے’’یہ تو نے کیا کہا واعظ،نہ جانا کوئے جاناں میں …ہمیں تو راہروئوں کی ٹھوکریں کھانا مگر جانا ۔‘‘مگر اب اُجڑے ہوئے خیموں میں سکوت مرگ طاری ہے۔نہ وہ محفلیں رہیں ،نہ چاہنے والے ۔صبح کے نالے ،دن کے اجالے ،شوق دیدار کی خواہش ،مرمٹنے کی تمنا ،تسلیم و رضا کی باتیں ،آتش جنوں ،آئین وفا ۔کچھ بھی تو نہیں رہا ۔شورِ سلال تو کیا شب کی آہیں اور مخملیں نگاہیں بھی نہ رہیں ۔ذاتی محافظوں کے حصار میں موجود حسرت ویاس کی تصویر بنے کپتان کے کان میں کوئی سرگوشی کرتا ہوگا ۔
آئے عشاق ،گئے وعدہ فردا لے کر
اب انہیں ڈھونڈ چراغ رُخ زیبا لے کر
کہاں وہ دورکہ کپتان ایک ہی دن میں کئی وکٹیں اُڑایا کرتے تھے ۔جسے شرف باریابی نصیب ہو جاتا اوربنی گالہ بلا کر تحریک انصاف کے رنگا رنگ پرچم کی خلعت فاخرہ گلے میں ڈال دی جاتی ،وہ اپنی قسمت پر ناز کیا کرتا۔اور کہاں یہ دن کہ ٹکٹیں واپس ہورہی ہیں ،لاتعلقی کے اعلان کئے جارہے ہیں ،کارکن ہوں یا لیڈر ،زمان پارک سے یوں بچ کر نکلتے ہیں جیسے یہ کوئی آفت زدہ علاقہ ہو ۔
ہم سب کو اس سوال پر غور کرنا چاہئے کہ مقبولیت کی بلندیوں کو چھونے والی تحریک انصاف اس حسرت ناک انجام سے دوچار کیوں ہوئی؟تیسری قوت کے طور پر ابھر کرسامنے آنے والی یہ سیاسی جماعت کیا اسی سلوک کی مستحق تھی ؟بلاشبہ عمران خان امیدوں اور توقعات کا مرکز تھے ۔مجھ جیسے ناقدین کی بھی یہ خواہش رہی کہ تحریک انصاف سیاست میں توازن کی غرض سے ایک مضبوط اور مستحکم سیاسی جماعت بن پائے ۔ہمارے ہاں اسٹیبلشمنٹ کی سیاست میں مداخلت ایک تلخ حقیقت ہے ۔سیاسی جماعتیں کس طرح تشکیل پاتی ہیں ،پرندے کس طرح ایک منڈیر سے اُڑ کر دوسری جگہ جاتے ہیں ،اس سے انکار نہیں مگر حقیقی وجوہات کچھ اور ہیں ۔بھٹوکی پھانسی کے بعد پیپلز پارٹی کو کس طرح دیوار سے لگانے اور صفحہ ہستی سے مٹانے کی کوشش کی گئی ۔12اکتوبر 1999ء کے بعد اور پھر جنرل قمر جاوید باجوہ کے دور میں مسلم لیگ (ن)کو کس طرح کے حالات کا سامنا کرنا پڑا ؟تما م تر کوشش کے باوجود بھٹو اور نوازشریف کی سیاست کو ختم نہ کیا جاسکا۔اس سلسلے کی تازہ ترین مہم جوئی کے دوران تو مسلم لیگ (ن)سے الیکٹیبلز کو بھی علیحدہ نہیں کیا جاسکا۔اگر تحریک انصاف ایک جمہوریت پسند سیاسی جماعت میں تبدیل ہوچکی ہوتی تو پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن)کی طرح اسے توڑنا بھی ممکن نہ ہوتا۔مگرافسوس ،اسے کبھی سیاسی جماعت نہ بننے دیا گیا۔ جناب عمران خان سیاسی قائد کے بجائے دیوتا کی مسند پر متمکن ہوگئے ۔انہیں مہاتما کے روپ میں پیش کیا گیا ۔تحریک انصاف کو سیاسی جماعت کے بجائے ایک سیاسی ’’کلٹ ‘‘اور جتھے میں تبدیل کردیا گیا۔عمران خان کی پہلی غلطی یہ تھی کہ اکتوبر 2011ء کو مینار پاکستان پر کامیاب جلسے کے بعد اپنے نظریاتی اور دیرینہ ساتھیوں پر انحصار کرنے کے بجائے سیاسی مفادات کے تحت آنے والوں کو ٹکٹ دے دیئے تاکہ وہ جلد ازجلد عنان اقتدار سنبھال سکیں ۔دوسری غلطی یہ تھی کہ اقتدار مل جانے کے بعد نیا پاکستان بنانے کے بجائے ساری توانائیاں نقش کہن مٹانے پر لگا دی گئیں یعنی اپنے سیاسی مخالفین کی سرکوبی کے علاوہ کچھ نہیں کیا گیا۔عاجزی و انکساری کے بجائے ان کی خودپسندی ،نخوت و تکبر میں مزید اضافہ ہوگیا۔آخری غلطی یہ ہوئی کہ اقتدار سے محرومی کے بعد عمران خان نے سب کچھ نیست و نابود کرنے کی ٹھان لی ۔حکومت ختم ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ سب کچھ ختم ہوگیا۔اپنی اننگز کا انتظار کرنے کے بجائے وہ توڑ پھوڑ اور ہنگامہ آرائی کرکے کھیل سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے باہر ہوگئے۔ سیاستدانوں کے لئے گرفتاری ہرگز اچنبھے کی بات نہیں مگر انہوں نے آتش گل سے چمن ہی جلا ڈالااور قصہ پارینہ ہوگئے۔ایک تھی تحریک انصاف۔

اپنا تبصرہ بھیجیں