muhammad khan abru

آصف زرداری کا معاشی چارٹر

عمران خان کی حکومت بن گئے یا بنوائی گئی اسوقت ہی سابق صدر پاکستان آصف علی زرداری نے تقریر کرتے ہوئے عمران خان کو،انکے رفقاء اور عمران خان کی ڈور ہلانے والے کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ آئیں چارٹر آف اکانومی پہ بات کرتے ہیں، مگر عمران خان کی پالیسی میں اس ملک کو خراب معاشی صورتحال سی دو چار کرنا شامل تھاایسا کرنےکا ٹاسک بین الاقومی آقا ئوں کی طرف سے اسکو ملا ہوا تھا اور ان کے اندر چھپے بادشاہ نے معیشت کا بیڑا غرق کرنے کے لیے سیاسی مخالفین تو ایک طرف ،بیوروکریٹس کو بھی نہ چھوڑا، اگر حکومت میں کسی ایک شخص سے بھی اچھے مراسم رکھے ہوتے تو آج عمران خان کم از کم تنہاء نہ کھڑے ہوتے کوئی نہ کوئی سیاسی مخالف یہ ضرور کوشش کرتا کہ اقتدار میں عمران خان نے عزت دی تھی آج اس عزت کا بدلا چکا دیا جائے۔ مگر ایسا کچھ نہ ہوا، آج وطن عزیز کو جس طرح کے معاشی چیلنجز درپیش ہیں کیا ہم نے کبھی سوچا کہ اس کی وجہ کیا ہے؟ 2018 سے پہلے تو پاکستان میں کوئی ڈیفالٹ کا ذکر نہ تھا پھر ایسا کیا ہو گیا کہ آصف علی زرداری بار بار معاشی چارٹر کی بات کرتے نظر آتے ہیں ؟ حقیقت یہ ہے کہ آصف علی ذرداری کو اندازہ ہے کہ پاکستان کا دشمن ہمارے دفاعی نظام کو کمزور نہیں کرسکتا، وہ ہماری مسلح افواج اور سیکورٹی سسٹم کو کمزور نہیں کرسکتا لیکن اگر ہمارا دشمن ہمیں نقصان پہنچا سکتا ہے تو وہ معیشت کو کمزور کر کے پہنچا سکتا ہے یہ ہی وجہ ہے کہ عمران خان کی حکومت میں آصف علی ذرداری بار بار معیشت کے چارٹر کی بات کرتے تھے، کیوں کہ انھیں علم تھا کہ عمران خان کو معیشت تباہ کرنے کے لیے لایا گیا ہے اور پھر ہمیں یہ بھی نہیں بھولنا چاہیے کہ اسٹیٹ بینک پر ریاست کا کنٹرول بھی عمران خان کی حکومت کے دوران ختم ہوا، آج ایک بار پھر آصف علی زرداری معیشت کے چارٹر کی بات کرتے ہوئے بڑے اطمینان سے یہ بات کرتے نظر آتے ہیں کہ پ پ ہی ملک کو موجودہ معاشی بحران سے نکالنے کا حل رکھتے ہیں، اور حال ہی میں پنجاب کے تاجروں سے بھی یہ بات کرتے ہوئے آصف علی ذرداری پوری طرح مطمئن نظر آئے کہ اگر انھیں موقع دیا گیا تو وہ پاکستان کو معاشی مسائل سے نکال سکتی ھے ،لیکن ایسا کیا ہے کہ آصف علی زرداری کو خود پر اتنا بھروسہ ہے ؟ بدقسمتی سے پاکستان میں میڈیا آصف علی ذرداری کا اور پی پی پی کا مسلسل میڈیا ٹرائل کرتےنظر آیا ہے اور یہ ہی وجہ ہے کہ پاکستان میں ایک بڑی آبادی کو پی پی پی حکومت میں معاشی مسائل کا حل ہوتے نظر نہیں آتا لیکن اگر حقیقت کا جائزہ لیا جائے اور آصف علی ذرداری کی سابقہ حکومت کا موازنہ کیا جائے تو اس بات پر قومی یقین ہوجاتا ہے کہ آصف علی ذرداری اور ان کی جماعت کے پاس پاکستان کے معاشی مسائل حل کرنے کی حکمت عملی موجود ہے کیوں کہ 2008 میں پ پ نے وفاق میں اپنی حکومت بنائی تو ملک میں جس طرح کے حالات تھے ان سے نہیں لگتا تھا کہ ملک بہتری کی طرف جائے گا، کیونکہ بم دھماکوں اور دہشتگردی نے معیشت کا بیڑا غرق کردیا تھا اوپر سے عالمی سطح پر معاشی بحران کی وجہ سے امریکہ جیسے ملک میں بھی بے روزگاری بڑھ گئی تھی، جبکہ پرویز مشرف حکومت اور ان کے بعد آنے والی عارضی حکومت نے معیشت کے بیڑا غرق کردیا تھا۔ ملک میں خانہ جنگی کی صورتحال تھی۔ اس وقت کے صوبہ سرحد اور وزیرستان کے علاقوں میں ریاست پاکستان کی رٹ نہ ہونے کے برابر تھی، بلوچستان میں علیحدگی پسند تحریک عروج پر تھی، کراچی میں شام ہوتے ہی سڑکیں خالی ہوجاتی تھیں، صنعتکار یکے بعد دیگر ملک سے اپنا سرمایہ باہر لے جارہے تھے کیوں کہ صنعتکاروں کو ایک طرف بجلی اور گیس بحران کا سامنا تھا تو دوسری طرف بھتہ خوری سے ان کا منافع نقصان میں تبدیل ہوچکا تھا جبکہ پ پ کی حکومت کو سب سے بڑا مسئلہ تیل کی قیمتوں کا تھا کیوں کہ پی پی پی کی حکومت میں عالمی منڈی میں ،تیل کی قیمتیں 150ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر چکی تھیں، جبکہ دوسری طرف گیس اور تیل کی قیمتوں میں اضافہ سے مہنگائی عروج پر پہنچ چکی تھی، پھر 2010کے سیلاب اور 2011کی بارشوں نے جو تباہی پھیلائی وہ بھی ہمارے سامنے ہے کہ زراعت تباہ ہوچکی تھی، لوگوں کو ہجرت کرنی پڑی،ملک کو اربوں ڈالر کے نقصان کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں لاکھوں مہاجرین خیبر پختونخوا کے اضلاع سے دوسرے اضلاع میں چلے گئے، جن پر ریاست نے اربوں روپے خرچ کیے اور انھیں واپس اپنے آبائی علاقوں میں امن قائم کرکے دوبارہ بسایا۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی سابقہ حکومت اور آصف علی ذرداری کا سب سے بڑا کارنامہ 1973 کے آئین کو اصلی شکل میں بحال کروانے کے ساتھ ساتھ 13سال بعد قومی مالیاتی ایوارڈ کی صوبوں میں تقسیم کرنا بلکہ صوبوں کے حصوں میں اضافہ بھی کیا، بلوچستان کی محرومیاں دور کرنے کے لئے ’’آغاز حقوق بلوچستان‘‘ پروگرام شروع کیاگیا۔ سابق صدر آصف علی ذرداری کے ھدایت پر حکومت پاکستان نے 80قومی اداروں کے 5لاکھ مزدروں میں 100 ارب کے 12فیصد شئیرز مفت تقسیم کئے، ملک میں پہلی بار بی آئی ایس پی کے نام سے سماجی تحفظ کا ادارہ قائم کیا گیا، 70لاکھ گھرانوں کو بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے نقد مالی امداد دی گئی، وسیلہء حق کے ذریعے تین لاکھ گھرانوں کو 3لاکھ تک کے بلاسود قرضے دیئے گئے۔ آصف علی ذرداری کے دور میں ملک گندم کی پیداوار میں خود کفیل ہونے کے ساتھ گندم دیگر ممالک کو برآمد کر کے اربوں ڈالر زد مبادلہ کمانے کے قابل ہوگیا تھا جبکہ اس سے پہلے ہم گندم باہر سے منگوا کر اپنی ضرورت پوری کرتے تھے اور آصف علی ذرداری اور پ پ کےی حکومت رخصت ہونے کے بعد ایک بار پھر ہم گندم باہر سے منگوانے پر مجبور ہوگئے۔ دوسری طرف آصف علی ذرداری کے احکامات پر اس وقت کی پی پی پی حکومت نے کپاس کی قیمت طے کرنے کے لئے، فری مارکیٹ نظام متعارف کروایا جس سے کپاس کی پیداوار میں بھی اضافی ہو اور جس کے نتیجے میں پاکستان کی ٹیکسٹائل برآمدات میں بھی اضافہ ہوا اور پاکستان کو کروڑوں ڈالر اضافی زرمبادلہ نصیب ہوا۔ آصف علی ذرداری کے معاشی ویژن کے مطابق ڈیزل کے 32روپے والے مہنگے یونٹ کے بجائے، زراعت کے لئے ٹیوب ویلوں کے لیے بجلی کے 8روپے یونٹ کا فلیٹ ریٹ مقرر کیا گیا، جس سے کسانوں کی مجموعی آمدنی میں 600ارب روپے سے زائد کا اضافہ 2008 ءمیں پی پی پی کے حکومت میں آنے سے پہلے کسانوں کی مجموعی آمدنی 546ارب روپے تھے اور جب 2012 میں صدر آصف علی زردرای کی حکومت اپنی مدت ختم کر کے رخصت ہورہی تھی تو پاکستان میں کسانوں کی مجموعی آمدن 546 ارب سے بڑھ کر 1168روپے ہوگئی تھی یعنی 622 ارب روپے کا اضافہ ہوا تھا۔ آصف علی زرداری کی حکومت کے سر یہ بھی سہرا جاتا ہے کہ 2008 سے 2013 تک جبکہ ملک میں دہشتگردی عروج پر تھی اور عالمی سرمایہ کار یہاں آنے سے ہچکچاہٹ کا شکار تھا ایسے میں
ملک میں 3289 میگاواٹ بجلی کا اضافہ ہوا جبکہ 2000میگاواٹ پن بجلی کے منصوبوں کا آغاز ہوا۔ 2008 میں جب آصف علی ذرداری نے وفاق میں حکومت قائم کی تو ملک کی مجموعی پیداور 10452تھی جبکہ 2012ءمیں ملک کی مجموعی پیداوار 19000ارب تک پہنچ گئی یعنی 80 فیصد سے زائد کا اضافہ ہوا، ملکی برآمدات 26ارب ڈالر تک پہنچ گئیں جبکہ اس سے پہلے پاکستان 15 ارب ڈالر کی بر آمدات بھی نہ کر پارہا تھا۔ آصف علی ذرداری حکومت میں سرکاری ملازمین سے لے کر فوجیوں کی پینشن اور تنخواہیں میں 50 فیصد سے زائد اضافہ کیا گیا،اور مجودہ مخلوط حکومت سے 30/35فیصد کروایا ، اور مڈل کلاس طبقات پر کوئی اضافی ٹیکس نہیں لگایا جاتا تھا، سرکاری اور نجی شعبے میں نوکریاں میں دی جارہی تھیں لیکن پھر اچانک 2018 میں عمران خان کو مسلط کیا گیا اور بقول شبر زیدی ملک عمران خان کے پہلے سال میں ہی ڈیفالٹ ہونے کے قریب پہنچ گیا، لاکھوں لوگ نوکریوں سے فارغ کردیئے گئے۔ آج آصف علی ذرداری اگر معیشت کے چارٹر کی بات کررہے ہیں اور پنجاب کے صنعتکار ان کو بلا کر اپنے مسائل سے اگاہ کررہے ہیں تو یہ اس بات کو ثبوت ہے کہ ملک کے صنعتکاروں کا اچھی طرح اندازہ ہے کہ آصف علی ذرداری کے پاس ان کے مسائل کا حل ہے، پیپلز پارٹی سے گزارش ہے کہ آصف علی ذرداری کے معاشی چارٹر پر ملک بھر میں مباحثوں کا اہتمام کیا جائے تاکہ نئی نسل کو آصف علی زرداری کی دور اندیشی اور معاشی پالیسیوں کا ادراک ہو اور ہم سب مل کر کسی ایک معاشی ایجنڈے پر کام شروع کریں.

اپنا تبصرہ بھیجیں