Professor Abdullah Bhatti

ڈیوٹی

افطاری میںپندرہ منٹ رہ گئے تھے جبکہ گائوں سے آنے والے مہمان ابھی تک نہیں پہنچے تھے میں اب پریشان ہو تا شروع ہو گیا کہ وہ لاہور شہر کے راستوں سے واقف نہیں ہیں کہیں کھو نہ گئے ہوں لہذا میں نے فون ملا لیا تو کئی گھنٹوں کے بعد مہمان نے فون اٹھا یا تو میں نے پوچھا جناب افطاری کا وقت ہو گیا ہے آپ لوگ ابھی تک پہنچے نہیں راستے میں کہاں پھنسے ہوئے ہیں تاکہ میں آپ کی مدد کر سکوں تو مہمان گھبرائے لہجے میں بولا جناب میں تو پچھلے گھنٹے سے آپ کا گھر ڈھونڈ رہا ہوں لیکن مل ہی نہیں رہا تو میںنے پوچھا جناب آپ اِس وقت کہاں ہیں مجھے بتائیں تاکہ میں آپ کی مدد کر سکوں تو جو ایڈریس اُس نے بتایا میں نے اپنا سر پیٹ ڈالا کیونکہ وہ میرے بلا ک کی بجائے کسی دوسرے بلاک میں گردش کر رہا تھا وہ کسی بھی صورت میںوقت پر میرے گھر نہیں پہنچ سکتا تھا لہذا میں نے اُسے کہا آپ اِس طرح میرے گھر نہیں آسکتے آپ کو مزید دیر ہو جائے گی آپ وہیں پر میرا انتظار کریں میں افطاری کے سامان کے ساتھ آپ تک آتا ہوں تو اُس نے ایڈریس بتا کر اپنا فون بند کر دیا میں نے جلد ی میں گھر والوں کو مختصر افطاری کا کہا پھر جو سز وغیرہ لے کر اُس ایڈریس کی طرح روانہ ہو گیا میں جلد سے جلد اُس جگہ پر پہنچا چاہتا تھا تاکہ پردیسیوں کو آسانی سے اپنے ساتھ گھر لا سکوں گا ئوں کے سادہ لوگوں پر پیچ راستوں کا بلکل پتہ نہیں چلتا وہ بیچارے ایک ایک میٹر لوگوں سے پوچھ کر سر کرتے ہیں میں ان کی سادگی کی وجہ سے خود اُن کو لینے نکل آیا تھا میں پوری کو شش کر رہا تھا کہ وقت پر ان تک پہنچ سکوں لیکن میری پوری کو شش کے باوجود میں ابھی راستے میں ہی تھا کہ اذان مغرب کی ایمان پرور صدائوں سے فضا گو نجنے لگی میں نے کھجور منہ میں رکھ کر جوس کا ڈبہ کھول کر اپنے لبوں سے لگایا تاکہ پیاس کی شدت کو کم کر سکوں دل میں اداسی کروٹ لے رہی تھی کہ مہمان تک نہیں پہنچ سکا راستے میں رش بھی تھا پوری کو شش کے باوجود میں افطاری کے دس منٹ بعد اُس جگہ پہنچا تو وہاں پر مہمان موجود نہیں تھے اب میں نے فون کا سہارا لیا تو مہمان بولا سر ہم بائیں گلی میںبچھے دستر خواں پر افطاری کر رہے ہیں آپ اِدھر آجائیں میںبائیں طرف نظر دوڑی تو طویل دستر خوان زمین پر بچھا تھا سینکڑوں لوگ افطار ی کر رہے تھے میزبان جوان پھرتی سے لوگوں کے آگے جوس شربت پانی سموسے پکوڑے فروٹ رکھ رہے تھے ساتھ میں یہ اعلان بھی کرتے جارہے تھے نماز کے بعد آپ کو کھانا بھی یہاں پر وافر مقدار میں ملے گا دور تک پھیلے دستر خوان پر افطاری کا سامان دکھا تھا بھوکے پیاسے مزدور پردیسی ذوق شوق سے لطف اٹھا رہے تھے اچھی بات یہ تھی کہ میزبان کا دل بہت کشادہ تھا وہ بار بار افطاری کا سامان مہمانوں کے سامنے سجا رہے تھے یہ سامان وافر مقدار میں تھا تاکہ کسی قسم کی کمی محسوس نہ ہو یہ سب دیکھ کر میرا دل و دماغ شاد شاد ہو گئے میزبان کی مہمان نوازی وہ بھی کھلی مقدار میں بہت خوشی ہو ئی میں نے اپنے مہمان کو ڈھونڈ لیا لیکن میں میزبان کے درشن کر نا چاہتا تھا اسی دوران میرا ایک جاننے والا مسکراتا ہوا میری طرف بڑھا اور بولا سر آپ یہاں کب آئے آئیں میں آپ کو حاجی صاحب سے ملاتا ہوں جو اس افطاری کے روح رواں ہیں میںآگے بڑھا تو سامنے سفید داڑھی میں سفید لمبے بالوں لٹوں کے ساتھ ایک نورانی شکل والے بزرگ سر پر ٹوپی لیے لوگوں کو ہدایات دیتے نظر آئے قریب جا کر میرے دوست نے میرا تعارف کرا یا تو وہ بہت خوش دلی سے ملے اپنے پاس بٹھا یا دوبارہ افطاری کا اصرار کر نے لگے تو میں نے بولا آپ کی مہربانی آپ کی مہمان پروری دیکھ کر بہت خوشی ہو رہی ہے تو بولے یہ باباجی کا کمال ہے میرے والد صاحب یہ افطاری مرشد کے حکم پر ڈیوٹی کے طور پر کرتے تھے اب اُن کے وصال کے بعد مالک مُجھ فقیر حقیر سے یہ ڈیوٹی لے رہا ہے مزید باتوں سے پتہ چلا کہ مرشد خانہ پاک پتن بابا فرید گنج شکر ؒ ہے جب میں نے اپنی عقیدت کا اظہار کیا اور کہا مُجھ فقیر کو اجمیر شریف خواجہ معین الدین چشتی اجمیری ؒ کے مزار اور دہلی میںخواجہ قطب الدین بختیار کاکی ؒ اور نظام الدین اولیاء ؒ امیر خسروؒ کے مزارات پر حاضری کی سعادت ہوئی تو بہت خوش ہوئے ہماری اجنبیت کی چادر چاک ہوئی لڑکوں کو حکم دیا جا کر سپیشل الائچی گڑ والی چائے لے کر آئو اب مزید گفتگو کا سلسلہ دراز ہوا تو بولے والد صاحب سلسلہ چشت میں ملتان شریف میں اپنے مرشد پاک کے ہاتھوں بیعت ہو ئے جو قبلہ و کعبہ پاک پتن کو مانتے وہ خود بھی پاک پتن شریف تشریف لے جاتے ہم سب کو بھی لے کر جاتے والد صاحب جب بیعت ہوئے تو مرشد کے پائوں پکڑ کر درخواست کی سرکار میں عبادت تسبیح وغیرہ لمبی چوڑی نہیں کر سکتا کاروباری آدمی ہوں میری کو ئی اور ڈیوٹی لگا ئیں تو مرشد کریم بولے دیکھو نماز کی پابندی کرو جھوٹ نہ بولوں اور لوگوں کو کھانا کھلائوں والد صاحب نے مرشد کریم کی یہ بات پلے باند ھ لی باباجی کے عرس مبارک پر کھل کر لنگر کا اہتمام کرتے رمضان شریف میں پورا مہینہ سب کے کھلے پیمانے پر افطاری کا انتظام میرے بڑے بھائی کو والد صاحب کہتے کہ تم افطاری کے وقت وین کھانے کی بھر کر مختلف بس اڈوں اور ہسپتالوں میں چلے جایا کروں وہ افطاری سے پہلے اپنی ڈیوٹی اِس طرح دیتا ہے کہ مختلف افطاری بکس بنا کر اڈوں ہسپتالوں میں بانٹتا ہے یہ سلسلہ عید بقرہ عید کے دن بھی ہو تا ہے بقرہ عید کے تینوں دن یہاں پر سڑک پر اِسی طرح دسترخوان بچھا کر سینکڑوں لوگوں کو کھانا کھلایا جاتا ہے جس دن سے والد صاحب نے یہ ڈیوٹی سر لی ہے ہمارا کاروبار دن رات دگنی ترقی کر تے آسمان تک پہنچ گیا جتنا ہم لوگوں کو کھلاتے گئے اتنی ہی برکت ہماری روزی میں آتی گئی چند سال پہلے والد صاحب اپنی وفات سے پہلے کہنے لگے عبادت تو کرنی ہی ہے لیکن یہ لوگوں کو کھانا کھلائے کی ڈیوٹی کبھی ختم نہ کرنا اور نہ ہی کم کرنا کیونکہ یہ ڈیوٹی مرشد کریم نے لگائی ہے اور نظارہ ہم نے اپنی زندگیوں میں دیکھا ہے کہ خوشحالی اِس کے بعد آئی بیان سے باہر ہے بہت ساری باتیں کرنے کے بعد جب میں واپس آنے لگا تو میزبان نے بہت سارا افطاری کا سامان میری گاڑی میں رکھوا دیا کہ جناب باباجی کا لنگر ہے خود بھی کھائیں گھر والوں کو بھی کھلائیں واپسی پر میں اولیاء اللہ کی اِس عادت کے بارے میں سوچھ رہا تھا کہ کس طرح لنگر کے ذریعے انسانوں کی خدمت کرتے رہے ہیں اپنے مریدوں کا مزاج دیکھ کر اُن کی ڈیوٹی لگا تے ہیں آپ برصغیر پاک و ہند کی تاریخ کا مطالعہ کریں اولیاء کرام کی یہی انسان دوستی تھی جس کی وجہ سے بت خانوں میں اذان گونج اٹھی ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں