آغا وقار ھاشمی

علم والا گھر

یہ غالباً 7 مارچ 1995 ہی کی بات ہے، میں تیسری جماعت میں پڑھتا تھا، شاید ھمارے سالانہ امتحان شروع ہونے والے تھے تو سکول میں سال کی آخری کلاسز چل رہی تھیں، سکول سے واپس گھر کو پیدل جا رہا تھا، سکول گھر سے ذیادہ دور نہ تھا، واپس جاتے ہوئے مجھے اپنے علاقے کی ہوا کچھ بدلی بدلی سی محسوس ہوئی، کچھ ٹھیک نہیں لگ رہا تھا، ھماری گلیوں میں بہت سی ٹریفک گزر رہی تھی، لوگ چوک چوراہوں پر کھڑے کسی حادثے پر تبصرہ کر رہے تھے، راستے میں ایک جگہ کسی کو بتاتے ہوئے سنا کہ چوک یتیم خانہ، ملتان روڈ پر کوئی شیعہ قتل ہو گیا ہے، وہ روڈ بلاک کر دیا گیا ہے اسی لئے ٹریفک یہاں سے گزر رہی ہے،
ھمارا گھر چوک یتیم خانہ سے ذیادہ دور نہ تھا چند منٹ میں پیدل پہنچا جا سکتا تھا،
میں گھر پہنچا تو گھر والوں کو بھی تبصرہ کرتے سنا،
اگلے دن اخبار میں اس واقعہ کی خبر اور ساتھ میں مقتول ڈاکٹر محمد علی نقوی اور انکے ایک ساتھی کی تصویر بھی چھپی تھی،نجانے کیوں وہ تصویر دیکھ کر مجھے بہت دکھ ہوا،اور مجھے ڈاکٹر صاحب مظلوم معلوم ہوئے، حالانکہ میں تو انہیں جانتا بھی نہیں تھا، اور نہ یہ جانتا تھا کہ انہیں کیوں قتل کیا گیا، میں نے وہ تصویر اخبار میں سے کاٹ کر اپنی ڈائری میں گوند سے چپکا لی،
ھمارے سکول کے راستے میں ایک ایسا گھر تھا جس پر علمِ جنابِ غازی عباس (ع) نصب تھا، میں جانتا تھا کہ ایسے گھر شیعوں کے ہوتے ہیں، میں نہیں جانتا کیونکر لیکن میرے تحت الشعور میں یہ بات بیٹھ گئی کہ یہ ڈاکٹر محمد علی نقوی کا گھر ہے، کیونکہ مجھے معلوم ہو چکا تھا کہ وہ شیعہ تھے،

Dr. Muhammad Ali Naqvi
اور میں غیر ارادی طور پر اس گھر کا احترام کرنے لگا، شاید اس لئے کہ اس گھر کا ایک فرد مظلوم مارا گیا تھا.
کچھ سالوں بعد جب میرا اور میرے گھر کے افراد کا شیعہ اسلام کی طرف رجحان بڑھا اور ھمارے گھر شیعہ کتب آنے کا سلسلہ شروع ہوا تو ایک رسالے میں انکے متعلق کچھ پڑھنے کو ملا، یہ میرا ڈاکٹر محمد علی نقوی سے پہلا تعارف تھا،
زمانہء یونیورسٹی میں ایک دن پرانی کتابوں میں اپنی بچپن کی ڈائری دیکھی اور اس میں چسپاں ڈاکٹر صاحب کی تصویر دیکھی تو سوچا انکے متعلق مزید جانا جائے، میں نے انٹرنیٹ پر کافی سرچ کی، انکی شخصیت کے متعلق کئی مضامین پڑھے، یوٹیوب پر انکی ویڈیوز دیکھیں جیسے جیسے انکے متعلق آگاہی ہوتی رہی انکی عزت اور منزلت میری نظروں میں بڑھتی رہی،ان کی میڈیکل کے شعبے میں انسانیت کی خدمات، انکے فری میڈیکل کیمپ اور ڈسپنسریاں، تعلیم کے شعبے میں بہترین کاوشیں، غریبوں ناداروں کے لئے امدادی فنڈ وغیرہ وغیرہ.
ابھی تک میں انکی زندگی کے مختلف پہلوؤں کے متعلق تو جان پایا تھا لیکن شاید ویسے محسوس نہیں کر پایا تھا، جیسا محسوس کرنے کا حق تھا،
ڈاکٹر محمد علی نقوی شہید کی شخصیت کو قریب سے محسوس کرنے کا موقع مجھے تب ملا جب میں نے ڈاکٹر بننے کے بعد تقریباً دو سال تک اس علاقے میں کام کیا جہاں کبھی ڈاکٹر محمد علی نقوی صاحب بھی کام کیا کرتے تھے، اس دوران مجھے کئی بار ایسے لوگوں سے ملاقات کا موقع ملا جو ان سے مل چکے تھے،
میرے پاس کچھ ایسے مریض بھی آئے جو کبھی ان سے چیک اپ کروایا کرتے تھے،
دو بار ایسا ہوا کہ ایسے مریض جو کبھی ڈاکٹر محمد علی نقوی صاحب کے بھی مریض رہ چکے تھے میرے پاس چیک اپ کروانے آئے، اچانک محمد علی نقوی صاحب کا تذکرہ ہوا تو وہ انکے حسنِ اخلاق اور انسانی خدمت کے جذبے کی تعریفیں کرتے ہوئے آبدیدہ ہو گئے، اور خود پر ہوئے انکے احسانات گنوانے لگے، اور ان دونوں کا تعلق اھلِ سنت مسلک سے تھا، یعنی مذھبی طور پر متحرک ہونے کے باوجود، مذھبی و مسلکی تنظیموں سے جڑے ہونے کے باوجود اپنے مذھب یا مسلک کے علاوہ باقی مذاھب اور مسالک کے لوگوں کے ساتھ بھی ایسا رویہ رکھنا جیسا کہ اپنے ھم مذھب یا ھم مسلک افراد سے ہو، آج کل ناپید ہو چکا ہے، لیکن یہ ڈاکٹر محمد علی نقوی صاحب کی ہی بلند پایہ شخصیت کا ہی خاصہ تھا،
میں سوچ رہا تھا کہ بچپن میں میرے سکول کے راستے میں آنے والے جس علم والے گھر کو میں ڈاکٹر محمد علی نقوی کا گھر سمجھتا تھا وہ چاہے انکا گھر نہیں تھا، لیکن ایسے عظیم لوگوں کا اس جہاں میں تو ہو سو ہو لیکن یقیناً اگلے جہاں میں جو بھی گھر ہو گا جہاں بھی گھر ہو گا اس پر علمِ عباس (ع) لازمی طور پر سایہ فگن ہو گا. اور صاحبِ علم جنابِ عباس (ع) کی قربت حاصل ہو گی،

اپنا تبصرہ بھیجیں