Dr Ijaz Ahmad

ٹامک ٹوئیاں

اگر معاشرے میں گراوٹ ،سطحیت،اخلاقی انحطاط،بے روزگاری، جرائم،اور اس طرح کے جتنے بھی مسائل جو ہمیں نظر آتے ہیں۔ان مسائل کی جڑ ہمارے تعلیمی نظام اور اس سے جڑے ہوئے مافیاز کے اندر تک جاتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔تعلیمی نظام کا بیڑا غرق نام نہاد پرائیویٹ سیکٹر نے کیا ہے۔ ہمارا ازلی دشمن بھی آج تک ہمیں وہ نقصان نہیں پہنچا سکا جو ہمارے اپنوں نے اپنے ذاتی مفاد کی خاطر چند ٹکوں کے عوض ہماری نسل کے مستقبل کو پہنچایا ہے۔
چھوٹے بچوں کو بھاری بھرکم بستے سے لیکر اس کی یونیفارم کی خریداری تک مجبور کرنا کہ صرف ہمارے ادارے سے خرید کریں۔ ایک مخصوص مائنڈ سیٹ کی نشان دہی کرتا ہے۔
والدین کو مکمل طور پر ان کے زیر نگیں کر دیا گیا ہے۔
ان مافیاز کی حوصلہ افزائی اور طلباء کےمستقبل پر کاری ضرب لگانے میں ہمارے دفتری بابو بھی برابر کے ذمہ دار ہیں۔
اگر آپ غور کریں تو اس ملک کی تقدیر کے فیصلے بند کمروں میں ہوتے رہے ہیں۔اور وہ لوگ کرتے رہے ہیں جنہیں زمینی حقائق تک رسائی ہی نہیں ہوتی ہے۔ گھر سے لیکر آفس تک جو ہر موسم میں تھری پیس پہنے رکھتے ہیں۔ وہ ائیر کنڈیشنڈ کمروں میں بیٹھ کے پالیسی بناتے ہیں۔ جو عصر حاضر سے ہم آہنگ نہیں ہوتی۔جس کا نتیجہ سوائے صفر جمع صفر برابر صفر ہی نکلتا ہے۔
ہم آج تک اپنا ایجوکیشن پلان اور سلیبس ہم آہنگ نہیں کر پائے آج بھی وہی طریقہ تعلیم رائج جو انگریز ہمارے لئے چھوڑ کر گیا وہ تعلیم ہمارے بچوں کو کلرک بھرتی کرنے کی حد تک تھی۔ ہم آج بھی بچوں کا امتحان اس کی قابلیت کا نہیں لے رہے یاد داشت کا لے رہے ہیں۔ ستم ظریفی تعلیمی کاروبار مافیا نے نمبر گیم کا کھیل ایسا رچایا کہ ہر طالب علم کےذہن میں یہ بات راسخ کر دی کہ نمبر حاصل کرو ذرائع چاہے کوئی بھی ہو۔ بس ایک بے مقصد ظفر موج تیار کئے جا رہے ہیں۔ جس کی کوئی منزل نہیں ہے۔
گرمیوں کی چھٹیاں ہمارے موسم کو مدنظر رکھ کر دی جاتی ہیں۔ جو کہ احسن فیصلہ ہے ۔ لیکن اسی مافیا اور دفتری بابوؤ ں کی ملی بھگت کا نتیجہ کہ سمر کیمپ کے نام پر طلبہ اور والدین کے لئے ایک نئی آزمائش ڈال دی گئی ہے۔ ایسی کون سی گیدڑ سنگھی ہے جو ان دو ماہ میں بچوں کا چاند تک پہنچا دے گی؟
اگر آپ سمجھتے ہیں کہ چھٹیوں سے بچوں کا تعلیمی حرج ہوتا ہے تو سرے سے ہی ختم کر دیں۔ جس گھر میں بچےمختلف کلاسز میں ہیں۔ اس میں کچھ چھٹیوں پر کچھ نام نہاد سمر کیمپ کی بھینٹ چڑے ہوں گے۔ والدین کے لئے الگ تگ و دو ویگن کے کرائے اور دوسرے لوازمات سب تکلیف دہ اور آزمائش میں ڈالنے والے فیصلے ہیں۔
ہم آج تک اپنے اسکولز میں پنکھوں کی فراہمی تو یقینی نہیں بنا سکے کجا ائیر کنڈیشنز روم دیتے ۔
اسی طرح اکثر امتحانات کا شیڈول بھی سخت گرمی اور حبس زدہ موسم میں ترتیب دئیے جاتے ہیں۔ وہ لوگ جب یہ شیڈول بناتے ہیں۔ خدارا کبھی اس امتحانی روم میں اسی تھری پیس سوٹ میں پندرہ منٹ بیٹھ کر دیکھائیں تو مانے۔
پنکھا ہوتا نہیں ہو تو وہ مر مر کے چل رہا ہوتا کاغذ پر لکھنا ہتھیلی پسینے سے شرابور ہوتی ایسے میں کوئی کیسے صیح سے تیاری کر کے صیح سے امتحان دے سکتا ہے؟
خدارا پالیسی بناتے وقت سب عوامل کو مد نظر رکھا کریں چند لوگوں کے فائدے کی خاطر سب کی زندگی اجیرن بنانے سے اجتناب کرنا چاہئے۔
اور یہ جو ہم ابھی تک اپنے تعلیمی نظام میں ٹامک ٹوئیاں مار رہے ہیں اس سلسلے کو جتنی جلد ممکن روک لگائیں ۔ اگر اس ملک کی فلاح چاہتے ہیں تو تعلیمی پالیسی کی کل سیدھی کرنا ہو گی۔ فن لینڈ اور جاپان کے بنیادی تعلیم کے رول ماڈل کو سٹڈی کریں اور اس کو اپنے ملک میں نافذ کریں۔ ہمیں بیرونی نہیں اپنے اندر کے دشمنوں سے خطرہ ہے جو تعلیم نظام میں بہتری نہیں چاہتے یا اس کو اپنے ہاتھوں یرغمال بنائے رکھنا چاہتے ہیں۔ ان دشمنوں کی پہچان کریں. ہماری نسل کی بقا کا مسئلہ ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں