“کیا خواتین خود پورن نہیں دیکھتیں؟

اگر ہاں تو جب انہیں انباکس میں کوئی پورن بھیجتا ہے، اس پر برہم کیوں ہو جاتی ہیں، سکرین شاٹس کیوں لگاتی ہیں؟
انہیں کوئی حق نہیں کسی کی تحقیر کرنے کا۔ نہیں پسند مت دیکھیں، ڈیلیٹ کردیں۔ لیکن ایسی خواتین سکرین شاٹ لگا کر، دوسروں کی عزت اچھال کر سستی شہرت حاصل کرنا چاہتی ہیں۔”

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یہ بحث ایک “روشن خیال” دوست کی وال پر دیکھی۔ اس پر میرا تبصرہ کچھ یوں ہے کہ:

1۔ جس شخص کو پورن بھیجنا غلط نہیں لگتا، اسے سکرین شاٹ لگانے پر شرمندہ کیوں ہونا پڑتا ہے؟ کسی درست کام پر شرمندگی چہ معنی دارد؟ اگر اس کی نظر میں یہ ایک درست کام ہے، تو ہمت کرے، اس سکرین شاٹ کو فیس کرے۔ جب پورن بھیجنے پر قدغن نہیں، تو سکرین شاٹ پر قدغن کیوں؟

2۔ پرسنل سپیس میں کوئی کیا کرتا ہے، یہ کسی دوسرے شخص کا مسئلہ نہیں ہونا چاہئیے۔ نہ ہی کسی کے پرسنل سپیس میں کچھ کرنے نہ کرنے سے کسی دوسرے کو اس شخص پر کوئی اختیار حاصل ہو جاتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں گھٹیا ترین فکری سطح پر یہ بات سوچی جاتی ہے کہ اگر فلاں لڑکی کا فلاں کے ساتھ چکر ہے تو میرا بھی حق ہے اس سے جنسی تعلق رکھنے کا۔ یہ سوچ خصوصا کم وسائل والے طبقے میں بہت سے لوگوں میں بالخصوص ورکنگ لیڈیز کے لئے پائی جاتی ہے۔ مذکورہ بحث اسی سوچ کی شوگر کوٹڈ فارم ہے، کہ اگر خود پورن دیکھتی ہے تو ہماری بھیجی پورن دیکھنے پر کیوں موت پڑ گئی؟
اس ضمن میں ایک چھوٹی سی مثال سمجھئے کہ ہر شخص خود نہاتا ہے، لیکن اس فیکٹ کے عوض کسی دوسرے شخص کو یہ حق حاصل نہیں ہو جاتا کہ کسی راہ چلتی خاتون کو آفر کرے چلو آج میں تمہیں نہلاتا ہوں۔ یہ سب باتیں تبھی سمجھ آ سکتی ہیں جب آپ عورت کو ایک چیز سمجھنے کی بجائے، پبلک پراپرٹی سمجھنے کی بجائے، اسے انسان سمجھیں۔

3۔ کسی بھی خاتون کو اس کی مرضی بنا پورن بھیجنا بنیادی انسانی حقوق کی بھی خلاف ورزی ہے، اور جنسی ہراسانی کے زمرے میں آنے والا فعل ہے۔

سو عرض ہے کہ جو کچھ بھیجنا ہے شوق سے بھیجئے، ہاں پھر سکرین شاٹس پر رونا چھوڑ دیجئے، ہمت کیجئے اور میوزک فیس کرنا سیکھئے!
روبینہ شاہین صاحبہ کی وال سے

اپنا تبصرہ بھیجیں