حسین فاروق

ڈاکٹر عثمان انور۔۔۔۔۔۔۔۔۔ روحوں کا فاتح

پچھلے چند روز سے میں شدید کشمکش کا شکار ہوں کہ
یہ تحریر لکھوں یا نہ لکھوں؟ کوئی فیصلہ نہیں کر پا رہا تھا۔ میری طبیعت ہے جہاں بھی کوئی غیر معمولی چیز نظر آتی ہے اسے بیان کرنے میں بخل کا مظاہرہ نہیں کرتا چاہے دوست ہو یا تعلق دار۔ مگر یہاں معاملہ ایک جونئیر کا سینئر کے کام بارے لب کشائی کرنے کا ہے جس میں قلم پر قصیدہ گوئی کی مہر لگنے کا قوی امکان ہے کہ شائد یہ کوئی سرکاری قلم ہے جو حاکمان وقت کی مدح سرائی میں رطب السان ہے۔ اسی لئیے میں نے چند ایسے مضامین کو اپنی کتاب “میرے ہمعصر” کے لئیے رکھ چھوڑے ہیں کہ اگر خدا نے زندگی دی تو 50 سال عمر کے بعد شائع کروں گا۔ بس یہی کشکمش تھی جو اچھائی دیکھنے کے باوجود اتنے دن تک دیدیہ دانستہ خامشی اختیار کئیے رکھی اور آخر آج یہ فیصلہ کیا کہ جو غیر معمولی اقدامات میری آنکھیں دیکھ اور کان سن رہے ہیں ان اقدامت کے سامنے ذاتی راۓ کی کوئی اہمیت نہیں اور یہ قلمی بددیانتی ہو گی اگر انہیں صفحہ قرطاس پہ نہ لایا جاۓ۔۔

دو ماہ قبل میانوالی میں ایک تھانہ پر دہشت گردوں کا حملہ پولیس نے پسپا کر دیا۔ موجودہ آئی جی صاحب بھی موقعہ پر گئے۔ ایک ویڈیو میڈیا پر وائرل ہوئی جس میں آئی جی صاحب متعلقہ ایس ایچ او کے ہاتھ پر ہاتھ مار رہے ہیں اور ایک اہلکار کو تین دفعہ ماتھے پر بوسہ دے رہے ہیں۔ یہ ویڈیو اور اس کی باڈی لینگوئج بڑی حیران کن تھی۔ یہ ناقابل یقین تھا کہ یہ آئی جی ہیں۔ بالکل ایسے جیسے دو یار دوست آپس میں خوش ہو کر ایکدوسرے کے یاتھ پر یاتھ مارتے ہیں۔اسی گو مگو کی کیفیت میں 28 فروری کو آئی جی صاحب نے مجھے 4 سی سی 1 اور ایک لاکھ روپیہ اور میری ٹیم کو پانچ لاکھ روپیہ انعام دیا۔ جب میں انعام لینے کے لئیے گیا تو ایس ایس پی احسن سیف اللہ صاحب نے میرا ہلکا پھلکا تعارف کروایا تو آئی جی صاحب نے کہا کہ چھوڑو, سرٹیفیکیٹ کیا ہوتا آؤ گلے ملو۔ مجھے گلے لگا لیا اور کہا کہ یہ تمہارا انعام ہے۔ شاباش دل لگا کر کام کرو۔ تھوڑی دیر بعد سوشل میڈیا پر وہی تصویر وائرل ہوئی۔ اس تصویر کے وائرل ہوتے ہی انباکس میں وہ نجانے کہاں کہاں سے فوٹو آئی۔ جونئیر رینک میں خوشی کی لہر ناقابل بیاں تھی۔ ایس پی ماڈل ٹاؤن آفتاب پھلروان صاحب میرے آفس میں موجود تھے انہیں فوٹو دیکھ کر اس قدر خوشی محسوس ہوئی کہ انہوں نے اپنے موبائل سے تمام گروپس میں شئیر کی۔ ہر طرف سے مبارکبادوں کا تانتا بندھ گیا۔۔ اس کے بعد پھر انعام لینے کے لئیے گیا تو آئی جی صاحب نے پھر سینے سے لگا کر انعام دیا۔ آئی جی صاحب نے ہر اس ماتحت کو سینے سے لگایا جس نے بھی غیر معمولی کارکردگی دکھائی۔

اس دوران میں جب بھی آئی جی آفس گیا تو ہر مرتبہ آئی جی صاحب کو اکیلے ہی آفس کی کسی نہ کسی راہداری میں کام کی نگرانی کرتے پایا۔ ان کے ذہن پر کچھ نیا کر گزرنے کی اس قدر دھن سوار ہے کہ وہ ہر وقت میٹنگ, تجاویز, فالواپ اور حکم دیتے نظر آتے ہیں۔ میٹنگز کے لئیے اہتمام میں وقت صرف نہیں کرتے بلکہ کسی بھی کمرہ میں خود ہی چلے جاتے ہیں. اپنے دروازے ماتحت عملہ کے لئے عملی طور پر کھول دئیے۔ اک دن خبر آتی کہ شہداء فنڈ میں اضافہ کر دیا گیا ہے تو دوسرے دن خبر ملتی کہ غازیوں اور دوران سروس فوت ہونے والے ملازمین کے فنڈز میں سو گنا اضافہ کر دیا گیا۔ میڈیکل الاؤنس تین کروڑ سے 63 کروڑ روپے کر دیا گیا۔ جہاں انعام کی مد میں 10 کروڑ روپے مختص کیے گئے وہیں کاسٹ آف انویسٹیگیشن میں 100 گنا اضافہ کیا گیا۔ غازی جو محکمہ کی خاطر موت و حیات کی کشمکش میں مبتلاء رہتے ہیں وہ گھٹ گھٹ کر زندگی گزارنے پر مجبور تھے۔ کیونکہ ان میں سے بہت سے ایسے ہیں جو مستقل معزوری کا شکار ہو گئے۔ نہ نوکری چھوڑ سکتے ہیں اور نہ ہی کوئی کام کرنے کے قابل ہیں۔ پنجاب پولیس کی تاریخ میں پہلی مرتبہ غازیوں کی بھی حوصلہ افزائی کی گئی اور جہاں کبھی آئی جی صاحب کی گاڑی کھڑی ہوتی تھی اس ڈیوڑھی کو شہداء اور غازیوں کی تصاویر اور کارناموں کے لئیے مختص کر دیا۔ فنون سپہ گری کے اصولوں کو بالاۓ طاق رکھتے ہوۓ کچہ کے علاقہ میں ائی جی صاحب نہ صرف اپنی فورس کے ساتھ موجود رہے بلکہ فرنٹ سے لیڈ کیا۔ اب غور کریں کہ جس فورس کا سپہ سالار اگلی صفحوں میں موجود ہو تو اس فورس کے مورال کا کیا عالم ہو گا۔

اس کے ساتھ ساتھ آئی ٹی کے شعبہ میں پنجاب پولیس دن رات ایک کئیے ہوۓ ہے۔ راقم کی ٹیم نے پچھلے تین چار سالوں میں جن جن چیزوں کی نشاندہی کی وہ سب کی سب کھٹائی میں پڑی ہوئی تھیں۔ یکسر سب کچھ ایسے بدلا جیسے بنجر زمین پر بارش کے بعد راتوں رات سبزہ اگ آۓاور پرانے خوابوں کو تعبیر مل جاۓ۔ ڈی آئی جی احسن یونس صاحب اور ذیشان اصغر صاحب کے نت نئے خیالات نچلے عملہ کے لئیے طوفان بادوباراں سے کم نہیں۔ اک کام ختم نہیں ہوتا کہ اگلا تیار ہوتا ہے۔ بلکہ اب تو عملہ ان دونوں افسران کے آر پی او لگنے کے لئیے دن رات دعائیں مانگ رہا ہے۔ اس وقت جس محنت اور لگن سے سوفٹ وئیر ڈویلپمنٹ ہو رہی ہے وہ اگلے ایک دو ماہ میں پنجاب پولیس کا روائیتی زنگ اتار کر کسی بھی ترقی یافتہ آرگنائزیشن سے زیادہ نہیں تو کم از کم ان کے ہم پلہ ضرور لے آۓ گی۔ تفتیشی افسران کو ہر طرح کی معلومات تھانہ میں ہی ایک منٹ میں میسر آسکے گی اور وہ ہر طرح کا تجزیہ خود سے کر کے کسی بھی جرائم پیشہ کے بارے خود ہی راۓ بنانے کے قابل ہو جائیں گے۔ اس سب کام میں حافظ مبشر سب انسپکٹر کی شبانہ روز انتھک کاوش, شہروز سب انسپکٹر کی منطقی آراء اور حل, سمعیہ فاروق سب انسپکٹر کی پر اعتماد بریفنگ اور حوصلہ افزائی, داؤد سب انسپکٹر کی وقتاً فوقتاً کارآمد تجاویز اور انسپکٹر حنیف کی بے غرض محبت اور آراء کی پنجاب پولیس ہمیشہ مقروض رہے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ موجودہ سوفٹ وئیر ڈویلپمنٹ کے ضمن میں سوفٹ وئیر انجینرز عثمان, عاطف اور شاہد بھائی کی مخلصانہ محنت کا کوئی ثانی نہیں۔ کسی بھی کام میں روڑے اٹکانے کی بجاۓ ہمیشہ انہوں نے آسانیاں پیدا کیں۔ بلکہ شاہد بھائی تو عید کے روز بھی مسائل حل کرنے میں عار محسوس نہیں کرتے اور بچوں کے وقت سے وقت نکال کر پنجاب پولیس کے نام کرنے سے دریغ نہیں کرتے۔ اس کے ساتھ ساتھ انکی فیلڈ ٹیم بھی آئی ٹی کے شعبہ میں ترقی کے نئے زینے طے کرنے کے لئیے بے چین ہے۔ سی پی او گوجرانوالہ ایاز سلیم صاحب نے ہنگامی بنیادوں پر گوجرانوالہ میں آئی ٹی ونگ کے لئیے دن رات ایک کئیے ہوۓ ہیں بالکل انہی بنیادوں پر جن بنیادوں پر انہوں نے اور چوہدری سلطان صاحب نے اپنی لاہور تعیناتی کے دوران سی آر او لاہور کو نئی جہت عطاء کی تھی۔

پروموشن اک ایسا معاملہ ہے جس میں ایک رینک پر زیادہ عرصہ گزر جاۓ تو انسان کی صلاحیتوں کو زنگ لگ جاتا ہے اور انسان ڈھیٹ پن کی طرف راغب ہو جاتا ہے۔ ان سب سے بڑھ کر انسان نفرت کے الاؤ میں پکنے لگ جاتا ہے۔ مگر جونہی اگلے رینک میں ترقی ملتی ہے وہی انسان تندرست و توانا اور ہشاش بشاش ہو جاتا ہے۔ کارکردگی میں اضافہ ہوتا ہے۔ ڈی آئی جی شہزادہ سلطان صاحب نے اپنی تعیناتی کے دوران 350 سب انسپکٹرز کو پروموٹ کیا اور حیران کن طور پر پروموشن کے اگلے ہی روز اگلی ڈی پی سی کے لئیے لیٹر لکھ دیا گیا۔ یہ تبدیلی بڑی خوش آئیند تھی کیونکہ ڈی پی سی ہمیشہ سے سال ڈیڑھ سال کے عرصہ بعد ہی منعقد ہوتی ہے۔ آئی جی صاحب نے ہر رینک پر ترقیوں کا سلسلہ ایسا شروع کیا کہ نہ ہفتہ اور نہ اتوار, نہ عید نہ تہوار۔ سب انسپکٹر, انسپکٹر, ڈی ایس پی کے ساتھ ساتھ وارڈن اور کلیریکل سٹاف کی پروموشنز کا بھی سیلاب امڈ آیا۔ کونوں کھدروں میں چھپی سیٹس کو نکالا گیا۔ اس پہ طرفہ تماشا یہ ہوا کہ اس سب کام کو جس نے آگے لے کر چلنا تھا وہ ڈی آئی جی انعام وحید صاحب ہیں جو پالیسنگ میں انسانی ہمدردی کو اولین ترجیح دینے کے قائل ہیں۔ انہوں نے روزانہ کی بنیاد پر نہ صرف ڈی پی سی کا انعقاد کیا بلکہ معمولی غلطیوں کو نظر انداز کر کے کتنے ہی نظر انداز شدہ افسران کو پروموشن دے دی گئی۔ اور ایک ماہ کی قلیل مدت میں ریجنز کے علاوہ آئی جی آفس سے 1000 سے زیادہ پروموشنز دی گئیں۔ پہلی مرتبہ ہوا کہ نہ کسی کو اے سی آر کی وجہ سے نظر انداز نہ کیا گیا اور نہ ہی انسپکٹرز کو پروموشن کے بعد دربدری کی اذیت برداشت کرنی پڑی۔

اس سب کے ساتھ ساتھ سزاؤں کے طریقہ کار میں پہلے جزاء پھرسزاء کی پالیسی کا آغاز کیا۔ پسند ناپسند کی بجاۓ جاری شدہ میٹرکس کی پیروی کو یقینی بنایا گیا۔ پولیس عرصہ دراز سے دو واضح سوچوں میں منقسم اور مایوسیوں میں گھری ہوئی تھی ۔ محض تین ماہ کی جزاء کی پالیسی پر عملدرآمد کرنے سے جونئیر طبقہ جو کے چہرے خوشی سے جگمگا اٹھے۔ وہ خلاء جس کو بھرنے کی بنیادیں 2014 کے بعد کیپٹن امین وینس صاحب اور ڈاکٹر حیدر اشرف صاحب نے رکھیں وہ اب ان اقدامات کے بعد تقریباً بھر چکا اور پولیس پھر سے ایک خاندان کی مانند بن چکی ہے۔ نچلے طبقہ کا محکمہ پر اعتماد بحال اور خود اعتمادی میں اس قدر اضافہ ہوا کہ چند یوم قبل پولیس کا ایک اے ایس آئی اپنے انعام کے سلسلہ میں پیش ہوا۔ اس نے انعام لینے کے بعد آئی جی صاحب کو کہا کہ سر یہ کام جس سب انسپکٹر نے کروایا تھا وہ اس وقت ڈسمس ہے اور اس کا یہ معاملہ ہے۔ آئی جی صاحب نے تقریب کے دوران ہی اسے کہا کہ میری اس سب انسپکٹر سے بات کرواؤ۔ اے ایس آئی نے فون ملا کر آئی جی صاحب کو دیا۔ ائی جی صاحب نے سب انسپکٹر سے فون پر ایسے بات کہ گویا وزیراعظم نے سفارش کی ہو۔ آئی جی صاحب نے اسے تسلی دی اور کہا کہ آپ بحال ہو جائیں گے۔ مگر 8ٕ10 یوم تک وہ بحال نہ ہوا تو سب انسپکٹر خود آئی جی صاحب کے پاس چلا گیا۔ آئی جی صاحب نے بات سنی, حیران ہوۓ کہ ابھی بحال نہیں ہوا اور پھر اسی شام وہ بحال ہو گیا ۔

جب انسان شعور کی منزلیں طے کرتا ہے تو اس کے پیش نظر دو راستے ہوتے ہیں۔ ایک خود پسندی, خود غرضی اور انفرادی سدھار کا راستہ ہے اور دوسرا قربانی اور اجتماعی فلاح کا راستہ ہے۔ دونوں راستوں کے نتائج مختلف ہیں۔ ایک میں انسان پیدا ہوتے ہی مر جاتا ہے کیونکہ وہ کسی کے کام کا نہیں ہوتا, وہ صرف اپنے مفادات کی نگرانی کرتا ہے جسے پنجابی میں کہتے ہیں ا”اجہی کلے بجھی اجہی چور لے گئے”۔ ان کا اس کائینات کے بناؤ سنگھاراور صورت گری میں کوئی حصہ نہیں ہوتا۔ یہی امتحان ہے انسان کی پیدائش کا کہ عقل و شعور اور اختیار کے ہوتے کون سا راستہ اختیار کرتا ہے۔ اور دوسرے راستے میں پیدا ہو کر موت کو شکست دے دیتا ہے۔ یہ راستہ قربانی کا راستہ ہے۔ آج کے اس مادیت پسند دور میں جو شخص بھی اپنا مفاد کسی دوسرے کے لئے قربان کرتا ہے وہی انسانیت کا سب سے بڑا محسن ہے اور وہی زندہ رہتا ہے۔ جن کے نام زندہ رہے انہوں نے کیا کیا؟ انہوں نے اپنی قیمتی ترین متاع کو خاندان کی بجاۓ دوسروں کے نام کیا۔ وقت, دولت, وسائل, آسانیاں, راستہ, علم, ترغیب, دعوت, اچھائیاں حتٰی کہ زندگی بھی۔ ارسطو ہو یا سقراط, واشنگٹن ہو یا منڈیلا, قائد ہو یا اقبال, گاندھی ہو یا ماؤزے تنگ, مودودی ہو یا غالب۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے جمود کے خلاف جدوجہد کی اور دنیا سے بغاوت کر کے اپنے آپ کو پیروکاروں کی فہرست سے نکال کر قائدین کی فہرست میں لے کر آۓ۔ جنہوں نے مانگنے کی بجاۓ دینے والی لائن کا انتخاب کیا۔

موجودہ آئی جی صاحب سقراط تو نہیں بن سکتے, نہ ہی ارسطو, نہ قائد اور نہ ہی قبال۔ مگر اس محکمہ کے جمود کو اگر دیکھیں, مایوسی کے گھٹا ٹوپ اندھیروں پر نظر دوڑائیں, قدم قدم پر چھاۓ پسند ناپسند کے بادلوں کا جائزہ لیں, مشکل وقت کی بے اعتناعیوں کو پرکھیں تو کم از کم محکمہ پولیس کے لئیے انہوں نے وہی کام کیا جو کوئی بھی عظیم انسان اپنی قوم یا انسانیت کے لئیے کرتا ہے۔ آئی جی صاحب کو نہ تو اضافی فنڈ ملا, نہ موافق حالات میسر آۓ اور نہ ہی کوئی زیادہ عرصہ گزرا۔ اس سب کے ساتھ جو چیز سب سے اہم ہے وہ یہ ہے کہ آئی جی صاحب کو کوئی مجبوری نہ تھی کہ وہ اس جمود کو توڑتے, کسی طرف سے کوئی مطالبہ بھی نہیں تھا بلکہ پولیس تو اس سب کی عادی ہو چکی تھی۔ وہ چاہتے تو روٹین کی پالیسنگ کر کے اپنی پوسٹنگ پوری کر سکتے تھے۔ میڈیا پر دو چار کار ہاۓ نمایاں پیش کئیے جاتے, چند رسیلے الفاظ کانوں میں رس گھولتے, ایک دو اخباری آرٹیکل پڑھنے کو ملتے جن میں کارناموں کو سراہا جاتا, دفتری اوقات میں وہ ڈسکس ہوتے اور قریبی رفقاء کی طرف سے واہ واہ کے شادیانے بجاۓ جاتے اور اللہ اللہ خیر صلا۔ مگر سیٹ پر بیٹھتے ہی انہوں نے ایک دن ضائع کئیے بناء روزانہ کی بنیاد پر جونئیر رینک سے میٹنگز کر کے ان کے مسائل تک رسائی حاصل کی۔ جب تمام مسائل کا ادراک ہو گیا تو انہوں نے اپنے مقصد اور ترجیحات کا نہ صرف اعلان کیا بلکہ قدم قدم پر اس کا عملی مظاہرہ بھی کیا۔ پوری فورس کو احساس دلایا کہ میں تمہارا بڑا ہوں مجھے محسوس کرو, مجھ سےمانگو میں دوں گا, مجھے اپنی تکلیفیں بتاؤ میں مداوا کروں گا, میں چلچلاتی دھوپ میں سائباں ہوں, میں باد نسیم ہوں, میں اندھیروں میں مینارہ نور ہوں مجھ سے روشنی حاصل کرو, میں برگ گلاب ہوں میری خوشبو سے معطر ہو۔ بدلے میں بس اتنا سا مطالبہ ہے کہ تمہارے اندرونی مسائل میں حل کر وں گا تم پبلک کے مسائل پوری تندہی سے حل کرو۔ جن کی جان و مال کی حفاظت ہماری بنیادی ذمہ داری ہے۔

آئی جی صاحب کے اقدامات بارے جن سینئیرز اور جونئیرز سے بھی بات ہوئی سب کف افسوس ملتے ہیں کہ آئی جی صاحب کو غلط وقت پر موقع ملا۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ یہ کام جو آئی جی صاحب کر رہے ہیں ان کی بنیاد پر ان کی اگلی پوسٹنگ نہیں ہونی کیونکہ یہ پوسٹنگ کرنے والوں کے متعلقہ نہ ہیں۔ ہاں مگر اس کے ثمرات سے پنجاب پولیس اور پنجاب کے عوام اگلے 50, 60 سالوں تک ضرور مستفید ہوں گے۔ جس قدر تیزی سے اور جتنے کم وقت میں انہون نے پولیس کی ہیئیت کو تبدیل کیا اس کا شائد عشرعشیر بھی کوئی نہ کر سکے۔ ان کے متعین کردہ معیار کو چھونا ایسے ہی ہو گا جیسے بیس کیمپ پر کھڑے ہو کر کے ٹو کو سر کرنے کے خواب دیکھنا۔ پوسٹنگ ملے نہ ملے یا ریٹائرمنٹ ہو جاۓ میرا ایمان ہے کہ آئی جی صاحب کو ریٹائرمنٹ کے بعد یہ تعارف کروانے کی ضرورت پیش نہیں آۓ گی کہ میں ڈاکٹر عثمان انور “سابقہ آئی جی پنجاب” بول رہا ہوں۔ وہ بس اتنا کہیں گے کہ میں عثمان انور۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور پنجاب پولیس چشم ماروشن دل ماشاد اسی طرح کرے گی جس طرح کسی روحانی شخصیت کے حکم پر ان کے عقیدت مند ہمہ وقت کسی بھی قربانی کے لئیے دیدہ و دل فرش راہ رہتے ہیں۔ اور یہ بھی میرا یقین ہے کہ وہ دنیا کے جس کونے میں بھی ہونگے وہ زندہ رہیں گے۔ وہ پنجاب پولیس کے تاحیات آئی جی ہونگے انکا نام دفتر میں آویزاں بورڈ تک محدود نہ ہو گا بلکہ دلوں پر نقش ہو گا کیونکہ انہوں نے جسموں کو تسخیر کرنے کی بجاۓ پنجاب پولس کی روح کو تسخیر کیا ہے۔ اور جسموں کو فناء ہے مگر روح کو فناء نہیں۔

درد دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو,
ورنہ طاعت کے لئیے کچھ کم نہ تھے کرو بیان

اپنا تبصرہ بھیجیں