ارشد اسدی الحسینی

خیانت کرنے والوں کی حمایت نہ کرو

سورۂ النساء ۔ 105’106
إِنَّا أَنزَلْنَا إِلَيْكَ الْكِتَابَ بِالْحَقِّ لِتَحْكُمَ بَيْنَ النَّاسِ بِمَا أَرَاكَ اللہُ وَلَا تَكُن لِّلْخَائِنِينَ خَصِيمًا ۞ وَاسْتَغْفِرِ اللہَ إِنَّ اللہَ كَانَ غَفُورًا رَّحِيمًا ۞
▫️ترجمہ▫️
بے شک ہم نے (یہ) کتاب حق کے ساتھ آپ پر اتاری ہے۔ تاکہ آپ لوگوں میں اس کے مطابق فیصلہ کریں، جو اللہ نے آپ کو بتا دیا ہے اور آپ خیانت کاروں کے طرفدار نہ بنیں۔ ۔ اور اللہ سے مغفرت طلب کریں، یقینا اللہ بڑا بخشنے والا، بڑا رحم کرنے والا ہے۔
▫️تفسیر آیات ▫️
خدا ان آیات میں پہلے تو پیغمبر اکرم کو وصیت کرتا ہے کہ اس آسمانی کتاب کو بھیجنے کا مقصد یہ ہے کہ لوگوں کے درمیان حق و انصاف کے اصول جاری ہوں :ہم نے یہ کتاب حق کے ساتھ تم پر نازل کی ہے تاکہ اس کے ذریعے خدا نے تجھے جو علم دیا ہے لوگوں کے درمیان فیصلے کرو ۔
(إِنَّا اٴَنْزَلْنا إِلَیْکَ الْکِتابَ بِالْحَقِّ لِتَحْکُمَ بَیْنَ النَّاسِ بِما اٴَراکَ اللہُ )
اس کے بعد کہتا ہے کہ کبھی بھی خیانت کرنے والوں کی حمایت نہ کرو ( وَ لا تَکُنْ لِلْخائِنینَ خَصیماً) ۔
اگر چہ بظاہر روئے شخن پیغمبر اکرم کی طرف ہے لیکن اس میں شک و شبہ نہیں کہ یہ ایک عمومی حکم ہے جو تمام قاضیوں اور فیصلہ کرنے والوں کے لئے ہے اس بنا پر اس قسم کے خطاب کا مفہوم یہ نہیں ہے کہ ممکن ہے کہ اس قسم کا معاملہ پیغمبر اکرم کے ساتھ پیش آیا ہے کیونکہ اس مذکورہ حکم کا تعلق تمام افراد سے ہے ۔
بعد والی آیت میں پیغمبر اکرم کو بار گاہِ خداوندی سے طلب مغفرت کے لئے کہا گیا ہے(وَ اسْتَغْفِرِ اللہَ) کیونکہ خدا بخشنے والا اور مہر بان ہے ( إِنَّ اللہَ کانَ غَفُوراً رَحیماً ) ۔
یہ کہ یہاں استغفار کس لئے ہے اس میں کئی احتمال ہیں :
پہلا یہ کہ استغفار اس ترک اولیٰ کی بنا پر ہے جو فیصلہ میں جلدی کرنے کی وجہ سے آیات کی شانِ نزول کے بارے میں آیا ہے یعنی اگرچہ وہی اعتراف کی نوعیت اور طرفین کی گواہی تمہارے فیصلہ کرنے کے لئے کافی تھی لیکن بہتریہ تھا کہ پھر بھی اس معاملے میں مزید تحقیق کی جاتی ۔
دوسرا یہ کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسی شانِ نزول کے متعلق اسلام کے قضائی قوانین کے مطابق فیصلہ کیا اور چونکہ خیانت کرنے والوں کی سند اور ثبوت ظاہری طور پر زیادہ مستحکم تھے لہٰذا انھیں حق بجانب قرار دیا گیا پھر حق کے سامنے آ جانے اور حق داروں کو حق مل جانے کے بعد حکم دیتا ہے کہ خدا سے مغفرت طلب کرو نہ کہ اس بنا پر کہ کوئی گناہ سر زد ہوا ہے بلکہ اس وجہ سے کہ بعض لوگوں کی سازش کی وجہ سے ایک مسلمان کا حق سلب ہو رہا تھا
( یعنی استغفار حکم واقعی ہے نہ کہ حکم ظاہری)
یہ احتمال بھی بیان ہوا ہے کہ یہاں استغفار کا حکم طرفین دعویٰ کو دیا گیا ہے جنہوں نے دعویٰ پیش کیا اور پھر اس سلسلے میں کئی غلط گواہیاں دیں ۔ پیغمبر اکرم سے ایک حدیث میں منقول ہوا ہے آپ نے فرمایا :
انما انا بشر و انکم تختصمون الیٰ و لعل بعضکم یکون الحن بحجة من بعض فاقضی بخومااسمع فمن قضیت لہ من حق اخیہ مشیئا فلا یاخذہ فانما اقطع لہ و قطعة من النار۔
میں تمہاری طرح ایک بشر ہوں( ظاہری امور میں فیصلے کرنے پر مامور ہوں ) شاید تم میں سے بعض وہی دلیل بیان کرتے وقت بعض دوسروں سے زیادہ قوی ہوں اور میں بھی اسی دلیل کی بنا پر فیصلہ کروں گا باوجود اس کے جان لو کہ میرا فیصلہ جو طرفین کے دلائل کے سامنے آنے پر صادر ہوتا ہے وہ واقعی حق کو نہیں بدل سکتا لہٰذا اگر میں کسی کے حق میں (ظاہر کے مطابق) فیصلہ کر دوں اور دوسرے کا حق اسے دے دوں تو میں جہنم کی آگ کا ایک ٹکڑا اسے دے رہا ہوں اسے چاہئیے کہ وہ اس سے بچے اور نہ لے ۔ ۱
)• معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا فریضہ یہ ہے کہ وہ ظاہر کے مطابق اور دعویٰ کرنے والے طرفین کے دلائل کو سامنے رکھتے ہوئے فیصلہ کریں ۔ البتہ اس قسم کے فیصلوں سے عام طور پر حق دار کو حق مل جاتا ہے لیکن پھر بھی ممکن ہے کہ بعض اوقات ظاہراً دلیل اور گواہوں کی گواہی واقع کے مطابق نہ ہو تو یہاں خیال کرنا چاہئیے کہ فیصلہ کرنے والے کا حکم واقع کو نہیں بدل سکتا اور اس سے حق ، باطل اور باطل حق نہیں ہو سکتا۔
::::::::::::::::::

التماس دعا
ارشد اسدی الحسینی

اپنا تبصرہ بھیجیں