دیال سنگھ ٹرسٹ لائبریری، نسبت روڈ

مہاراجہ رنجیت سنگھ کے ایک جرنیل سردار دیسا سنگھ کے پوتے اور امرتسر کے گورنر سردار نہا سنگھ کے بیٹے سردار دیال سنگھ نے اپنی موت سے اڑھائی سال قبل 15 جون سن 1895 کو اپنی وصیت میں لکھا،

’’میری جائیداد میں جمع سرمائے سے 60 ہزار روپیہ سے لاہور کے قریب ایک موزوں عمارت حاصل کی جائے اور اس میں ایک پبلک لائبریری قائم کی جائے اور اس کے کھلنے کے اوقات میں عام لوگوں سے کتابوں، اخبارات اور رسائل کے مطالعہ کا کوئی معاوضہ نہ لیا جائے۔‘‘

سردار دیال سنگھ مجیٹھیا کی اس وصیت کے مطابق لاہور میں سن 1908 میں دیال سنگھ ٹرسٹ لائبریری قائم کی گئی۔ لائبریری سردار صاحب کی رہائشگاہ میں بنائی گئی لیکن جب نسبت روڈ پر لکشمی چوک کے قریب موجودہ عمارت سن 1928 میں مکمل ہوئی تو لائبریری یہاں منتقل کر دی گئی۔ ابتدائی طور پر اس میں ایک ہزار کتب اور اخراجات کے لیے 60 ہزار روپے رکھے گئے۔ سردار سوہن سنگھ اس لائبریری کے پہلے لائبریرین تھے۔ وہ ایک مستند اور قابل شخص تھے۔

تقسیمِ ہند کے موقع پر لائبریری کے ٹرسٹیز ہندوستان ہجرت کر گئے جس کے باعث یہ اگلے 12 سال تک بند پڑی رہی۔ اس دوران اس میں موجود کتابوں اور فرنیچر کو کافی نقصان پہنچا۔ سن 1958 میں حکومت پاکستان نے لائبریری کے انتظام کے لیے ٹرسٹ مقرر کیا۔ سن 1964 میں متروکہ وقف املاک بورڈ نے اس کا کنٹرول سنبھال کر اسے بحال کر دیا۔ سن 1985 میں ایک صدارتی حکم نامے کے تحت لائبریری کو پنجاب حکومت کے محکمہ تعلیم کے سپرد کر دیا گیا۔ چار سال بعد ہی سن 1989 میں اس کا انتظام دوبارہ متروکہ وقف املاک بورڈ کو مل گیا۔

دیال سنگھ ٹرسٹ لائبریری میں اس وقت ایک لاکھ 76 ہزار سے زائد کتابیں اور 10 ہزار سے زائد جرائد موجود ہیں۔ ہر سال اس قیمتی ذخیرے میں تقریباً تین ہزار کتابوں کا اضافہ کیا جاتا ہے۔ اس کے ممبرز کی تعداد سات ہزار کے قریب ہے جن میں ایک ہزار لائف ممبرز بھی شامل ہیں۔ لائبریری کا سالانہ بجٹ ایک کروڑ 80 لاکھ روپے ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں