محمد خالد وسیم ایڈووکیٹ

معاشرے میں تقسیم

گذشتہ چھ ماہ سے پاکستانی معاشرے میں جو واقعات تیزی سے رونما ہو رہے ہیں ان کے اثرات فرد سے لے کر معاشرے تک نمایاں ہیں۔گذشتہ کالم میں ہم نے تما م سیاسی جماعتوں ، اداروں ، سٹیک ہولڈرز اور سول سوسائٹی سے گذارش کی تھی کہ وطن عزیز کو درپیش معاشی مسائل کے حل کے لیے مل کر بیٹھ جائیںاور ایک طویل لمدتی معاہدہ تشکیل دیں تا کہ اس مثیاق معیشت کے تحت پاکستان کومعاشی مسائل سے ہمیشہ کے لیے نجات دلا کر آنے والی نسلوں کا مستقبل محفوظ بنایاجا سکے۔
سیاسی جماعتوں کا مقصد عوام کواپنے منشور پرعمل کے لیے ایک لڑی میں پرونا ہو تا ہے تا کہ جو مسائل انفرادی طور پر حل نہ ہوں ان کو اجتماعی طور پر ایک مجوزہ نظام کے تحت حل کیاجا سکے ۔ اس کوشش میں سیاسی جماعتیں سمینار ز جلسے اور جلوس منقعد کر تی ہیں اور عوام کو اپنے خیالات کے اظہار کے لیے ایک پلیٹ فارم مہیا کرتی ہیں۔ مگر ہمارے ہاں کا تو باوا آدم ہی نرالا ہے۔ ہماری سیاسی جماعتیں اقتدار کے حصول کے لیے تما م حدیں پھلانگ جاتی ہیں۔ان کو صرف اور صرف اقتدار عزیز ہے۔ یہ کسی قسم کی سیاست ہے جو پاور اور پیسے کے گرد گھومتی ہے۔ اس میں سوشل ورک کے نام کی کوئی سرگرمی ہی نہیں پائی جاتی ۔ عوام کے مسائل کے حل کی ترجیحات ہی شامل نہیں ہیں۔ ریاست کی سیکورٹی اور اداروں کی باہمی کوآرڈنیشن کو پس پشت ڈال دیا جاتا ہے۔ صرف اپنے مفاد کو ترجیح دی جاتی ہے۔ گرگٹ کی مانند اقتدار کے دوران رنگ کچھ ہوتا ہے اور اقتدار کے باہر آنے کے بعد رنگ کچھ اور ہو تا ہے۔ اقتدار سے باہر الزامات کی بم باری اس طرح کی جاتی ہے کہ سب کچھ بر باد کر دیا جاتا ہے۔
اس وقت ٹیکنالوجی کا ستعمال میں غلط طریقے سے پاکستان میں کیا جارہاہے اس کی مثال دنیا کے کسی دوسرے ملک میں نہیں ملتی ۔ میڈیا کی نئی قسم سوشل میڈیا نے معاشرے میں جو بے ڈہنگی ،بے سودگی اوربے راہ روی پید ا کر دی ہے اس سے معاشرے میں دڑار پڑنا شروع ہو گئی ہے جسے روکنے کے لیے معاشرے کے تمام طبقات کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا ۔ ابھی وقت ہے معاملات کو خوش اسلوبی سے اور احسن طریقے سے سنھبالا جا سکتا ہے ۔ اگر یہ تقسیم اسی طرح جار ی رہی تو پھر وقت کے ساتھ ساتھ اس کو سنھبالنے کے مواقع بھی ہاتھ سے نکل جائیں گے۔
ہر سیاسی ، مذہبی اور لسانی جماعت نے اپنے سوشل میڈیا سیلز تشکیل دے رکھے ہیں جو رات دن اپنی جماعت کی پروموشن کے لیے کوشاں رہتے ہیں ۔ مخالفین کی پگڑی اچھالنا ان کا فرض اولین ہے۔ جعلی خبروں کی تشہیر اور مخالفین پر الزامات ، بغوواقعات اور یہاں تک کہ دشنام طرازی سے بھی پرہیز نہیں کیا جا تا ۔ کیا یہ ایک مہذب معاشرے کی عکاسی ہے یا ہماری ذہنی پس مندگی ہے۔ جو زیادہ بگڑی اچھالتا ہے اسے اتنی ہی زیادہ شاباش ملتی ہے ۔ اس کا اثرمعاشرے پر یہ ہو رہا ہے کہ معاشرے سے برداشت ختم ہوتی جا رہی ہے۔ الزام تراشی کرنے والے اگر آمنے سامنے آ جائیں تو ایک دوسرے کی بوٹیاں نوچ کھائیں ۔جمہوری معاشروں میں بات دلیل اور مصدقہ نکات پر بات کی جاتی ہے ۔پاکستان میں شرح خوانداگی کم ہونا سب سے بڑا نقصان ہے ۔ جس کی وجہ سے افراد کونہ تو انسانی حقوق کا خیال ہے اور نہ اسلامی رواداری کا لحاظ ہے۔ پاکستانی معاشرے میں سیاسی سر پرستی میں پیدا ہونے والی ہیجان خیزی کو روکا نہ گیا تو یہ ایک بڑی تباہی کا باعث بنے گی۔ یہ انفرادی طور پر شروع ہو کر اجتماعی حملوں کی طرف بڑھ رہی ہے اور اب اس نے اداروں کو اپنی لپیٹ میں لینا شروع کر دیا ہے۔
پاکستانی معاشرہ مختلف اکائیوں ،نسلوں، برادریوں زبانوں کا مجموعہ ہے ۔مذہب اگرچہ اس کو ایک آکائی میںپرویا ہے مگر مذہب میں مختلف عقائد نے اس میں تفرقے بھی ڈالنے کی دشمنوں نے سعی کی ہے۔ پچھتر سال کی ایک نوزائدہ قوم کو باقاعدہ قوم کی سطح پر لانے کے لیے بڑی جدوجہد کرنی پڑے گی۔ اس کے لیے معاشرے کے تمام طبقات اور اکائیوں کو خلوص دل سے کوشش کرنی ہوں گی۔ ریاست کی مضبوطی اور طاقت اس میں بسنے والے افراد سے منسلک ہوتی ہے ۔ اگر افراد منقم اور باہم دست و گریبان ہوں گے تو پھر ریاست اپنی قوت کہاں سے مجتمع کرے گی۔ لہذا اس کے لیے ضروری ہے کہ قومی ہم آہنگی پید ا کی جائے اور اس کے لیے بنیادی کردار سیاسی جماعتوں کو ادا کرنا ہے سیاسی اختلافات اپنی جگہ مگر معاشرے کی تقسیم کسی طور بھی قابل ستائش نہیں ہے۔ وطن عزیز چاروں طرف سے دشمنوں سے گھرا ہوا ہے۔لہذا اس وقت کو نہ صرف اندرونی دشمنوں سے بچانا ہے بلکہ بیرونی دشمن سے بھی محفوظ رکھنا ہے ۔ ہماری پچھلی نسل نے ہمیں ایٹمی قوت بنا کر دشمن کے دانت کھٹے کر دئیے ہیں۔ مگر اندرونی خلفشار سے بچانا موجودہ نسل کا کا م ہے۔ جس کے لیے پوری چابکدستی اور احتیاط سے کام لینا ہو گا۔ معاشی عدم استحکام بھی دشمنوں کا پیدا کردہ ہے۔ لہذا محب وطن سیاسی جماعتیں اور سیاسی افراد آگے بڑھیں اور سوشل میڈیا پر چلنے والے وطن مخالف، ریاست مخالف اوراداروں کے خلاف ٹرینڈز کو فوری طور پر قلع قمع کر کے حب الوطنی بھائی چارے باہمی اخترام رواداری کے ٹرینڈزکو فروغ دیں۔ پاکستانی معاشرے کو مزید تقسیم نہ کریں اپنے سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے مخالفین کی پگڑی اچھالنے اور کردار کشی کے رجحان کو ختم کریں ورنہ معاشرتی تقسیم کی یہ خیلج اتنی وسیع ہو جائے گی کہ اس کو پاٹنا ممکن نہ رہے گا۔ عدم برداشت ذہر قاتل ثابت ہو گی اور معاشرتی تقسیم بے قابو جائے گی۔ اس وقت اس کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے ۔ ورنہ یہ نہ ہو کے ہم ہاتھ ملتے رہ جائیں لہذابہتر ہے کہ باہمی طور پر ہاتھ ملالیں اور اپنے تمام مسائل کے حل کے لیے سر جوڑ کر بیٹھ جائیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں