محمد خالد وسیم ایڈووکیٹ

سفارتکاری اور نئے انتخابات

گزشتہ دنوں ہفتہ وار بریفنگ میں وزارت خارجہ کی ترجمان نے واضح کیا کہ پاکستان چین کے بلاک میں شامل نہیں ہو رہا ۔ انہوں نے افواہوں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے کسی بلاک میں شمولیت اختیار نہیں کی اور پاکستان بلاک کی سیاست پر یقین نہیں رکھتا ۔ ممتاز زہرہ بلوچ وزارت خارجہ کی قابل آفیسر اور آج کل اس کی ترجمان ہیں، انہوں نے کہا کہ پاکستان کی چین سے آل سیزنز اسٹریٹجک پارٹنر شپ ہے۔ ہمارے چین کے ساتھ دوستانہ تعلق ماضی کی دہائیوں میں مضبوط سے مضبوط تر ہوئےہیں۔اسی طرح پاکستان کے باقی ممالک سے بھی شاندار تعلقات ہیں اور خصوصاً مشرق وسطیٰ ،ایشیا بحرالکاہل ،یورپ اور افریقہ کے ممالک سےمضبوط تعلقات ہیں۔ امریکہ پاکستان کا سب سے پرانا دوست اور پارٹنر ہے اور پاکستان کی سب سے زیادہ برآمد ات کی منڈی ہے،پاکستان کے امریکہ کے ساتھ تعلقات مختلف جہتوں میں ہیں لہٰذا کسی ایک بلاک میں پاکستان کی شمولیت ممکن نہیں۔
عالمی منظر نامہ پر دیکھیں تو چین نے ہمیشہ پاکستان کے موقف کی حمایت کی ہے چاہے کوئی بین الاقوامی فورم ہو یا اقوام متحدہ کا پلیٹ فارم چین ہمیشہ پاکستان کے موقف کے ساتھ کھڑا نظر آیا۔ ابھی گزشتہ دونوں جب بھارت نے جی- 20کی کانفرنس کا انعقاد مقبوضہ کشمیر میں کیا اور پاکستان نے عالمی سطح پر آواز بلند کی کہ کشمیر متنازعہ علاقہ ہے جسے بھارت بین الاقوامی کانفرنس منعقد کر اکے اپنا علاقہ ظاہر کر رہا ہے تو چین نے اس کانفرنس کے بائیکاٹ کا اعلان کر دیا۔ جس سے یہ کانفرنس ناکام ہوئی اور بھارت کو اپنے عزائم میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ۔ چین کے علاوہ ترکیہ، سعودی عرب اور مصر نے بھی اس کانفرنس میں شرکت نہ کی۔ جس سے پاکستان کی کامیاب سفارتکاری ظاہر ہوئی ۔
وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے ایک ٹی وی چینل پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے آئی ایم ایف کی تمام شرائط پوری کر دی ہیں مگر آئی ایم ایف ابھی تک اسٹاف لیول معاہدے کے لئے تیارنہیں ہے ۔ اس سطح پر پاکستان کی ناکامی نے معیشت کو خطرناک سطح پر لا کھڑا کیاہے ، ملک میں مہنگائی کا گراف دن بدن بڑھتا جا رہا ہے جس سے عام آدمی سخت متاثر ہو رہا ہے۔ شرائط پوری ہونے کے باوجود اب آئی ایم ایف کس چیز کا انتظار کر رہاہے۔ یہ بات کسی کے سمجھ میں نہیں آرہی ۔ ارباب اختیار سے عام آدمی تک بے بس ہے۔ دوست ممالک نے بھی اپنے خطوط کے ذریعے اپنی طرف سے دی جانے والی امداد کی یقین دہانی کرا دی ہے مگر آئی ایم ایف کی طرف سے خاموشی کا اندازہ وزیرخزانہ سے لے کر کسی حکومتی عہدیدار کو نہیں ہے۔
دراصل موجودہ حکومت عوامی مینڈیٹ سے محروم اور عاری ہے۔دو بڑے صوبوں کی اسمبلیاں موجود نہیں ہیں جبکہ قومی اسمبلی میں بھی ارکان کی تعداد پوری نہیں ہے لہٰذا بین الاقوامی ادارے ملک میں نئے الیکشن کا انتظار کر رہے ہیں کہ عوام حکومت کے لئے کس کو منتخب کرتے ہیں جس کو عوام مسند اقتدار پر بٹھائیں گے۔ وہ اس سےبات چیت کریںگے، تاہم موجودہ حکومت کی تو انتخابات کروانے کی کوئی منصوبہ بندی نظر نہیں آ رہی ۔ پاکستان اس وقت جس سیاسی و اقتصادی بحران کا شکار ہے اس کا واحد حل انتخابات کا جلداز جلد انعقادہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ملک کی تمام سیاسی پارٹیاں سر جوڑ کر بیٹھیں اور صاف شفاف اور بر وقت انتخابات کے انعقاد کے لئے روڈ میپ تیار کریں۔ جس پر سب کا اتفاق ہو ۔حیران کن امر یہ ہے کہ اس معاملے پر حکومت کی طرف سے کوئی پروگرام ترتیب نہیں دیا گیا۔
تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان نے 9مئی کے سانحہ کے بعد حکومت سے مذاکرات کےلئے ایک سات رکنی کمیٹی تشکیل دے کر بال حکومت کے کورٹ میں پھینک دی ہے۔ جمہوریت کا حسن آپس کی بات چیت اور ڈائیلاگ میں ہی ہے۔ ابھی تک حکومت کی طرف سے کسی کمیٹی کی تشکیل کا اعلان نہیںہو ا ہے۔ اس سلسلے میں حکومت کو بھی دو قدم آگے بڑھ کر مذاکرات کی میز سجانے کا اہتمام کرنا چاہئے تاکہ ملک کو بحرانی کیفیت سے نکالا جائے اور اقتصادی ترقی کی طرف سفر کا آغازکیا جائے۔آئی ایم ایف کے رویے کی وجہ سے ملک کی اقتصادی ترقی رکی ہوئی ہے اس مسئلے کو وزیر خزانہ سے لے کر وزیر خارجہ کے ذریعے سفارتکاری سےحل کیا جائے۔
سیاسی استحکام اقتصادی استحکام کو جلا بخشتا ہےالبتہ اس کے حصول کا راستہ الیکشن سے گزر کر جاتا ہے۔ اگر ترکیہ میں ایک ماہ میں دو مرتبہ صدراتی انتخابات کا انعقاد ہو سکتا ہے تو ہمارے ملک میں انتخابات کے انعقاد میںکون سی چیز رکاوٹ ہے۔ہمارے ارباب اقتدار کو اس کا ادراک کرنے کی ضرورت ہے ۔ کسی کی حب الوطنی کو جانچنے کا اختیار عوام کے پاس ہے وہ جس کو ووٹ دیں گے وہی ان کے نمائندے ہوں گے۔ ہمیں اپنے عوام کے سیاسی شعور پر بھروسہ کرنا چاہئے اور انہیں اپنی پسند کے نمائندے منتخب کرنے کا موقع دینا چاہئے تا کہ بین الاقوامی اداروں کے سامنے ہماری سفارت کاری مضبوط کردار ادا کر سکے اور ہمیں بین الاقوامی سطح پر مزید کامیابیاں حاصل ہو سکیں ۔ پاکستان کو چین اور امریکہ کے درمیان توازن برقرار رکھنے کےلئے نئے انتخابات کا مینڈیٹ حاصل کرنا ہو گا ،تب ہی ہمارے حالات تبدیل ہوں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں