ڈاکٹر صغرا صدف

مایوسی، گھٹن اور ہجرت

مایوسی، گھٹن اور ہجرت

ہر خطہ زمین اپنے باسیوں کے لئے مقدس اور محبوب ہوتی ہے۔اس کی صفات باسیوں کے وجود میں سرایت کئے ہوتی ہیں اسلئے اس سے دور چلے جانے والے ہمیشہ ایک عجیب کشش اور کسک محسوس کرتے رہتے ہیں۔پچھلے کئی سالوں سے کھاتے پیتے گھرانوں کے نوجوانوں کی بڑی تعداد کا مقصد ہی ملک سے باہر جانا بن گیا ہے۔جن کے پاس اچھے اداروں کی ڈگریاں ہوتی ہیں وہ بھاری فیسیں ادا کرکے اعلی تعلیم کے وسیلے اور دیگر بھاری رقوم کے ساتھ جان جوکھوں میں ڈال کر ہجرت کر جاتے ہیں۔آج کل ہر کوئی یونان کے ساحلوں کے قریب جان ہارنے والوں کو معیشت سے جوڑنے کی کوشش کرتے ہوئے ریاست کو مورد الزام ٹھہرا رہا ہے۔
ریاست،معاشرہ،تعلیمی ادارے بھی قصور وار ہیں کہ انھوں نے کبھی اس ملک کے لئے لوگوں اور خصوصا نوجوانوں کے لئے ایک ایسا ماحول اور فضا کے لئے کوشش ہی نہیں کی جس میں وہ پرندوں کی طرح آزادی سے چہچہا سکیں بلکہ زہر اگلنے والوں کی سہولت کاری کی کبھی ان کی ہاں میں ہاں ملا کر اور کبھی خاموش رہ کر۔لیکن اصل مجرم بے یقینی کا رونا رونے والے وہ دانشور ہیں جنہوں نے حالات کو سازگار بنانے کے لئے جدوجہد کا سبق اور طریقے بتانے کی بجائے دُم دبا کر بھاگ جانے کا مشورہ دیا۔مجرم اس ملک کو بنیاد پرستی کے شکنجے میں جکڑے والے وہ چہرے بھی ہیں جو اختلاف کو جرم بنانے اور سزا دینے میں اک لمحہ دیر نہیں کرتے، جو ہر طرح کی ثقافتی سرگرمیوں پر پابندیاں عائد کرکے نوجوانوں کو لطف اندوز ہونے اور کتھارسس کرنے کا موقع نہیں دیتے۔پھر یہ بھی المیہ ہے کہ ہمارے باخبر بچے جہاں اک طرف جبریہ حصار کے عالم میں زندگی بس کرتے ہیں جہاں ہر طرف کوئی نہ کوئی رکاوٹ ان کی منتظر ہوتی ہے دوسری طرف وہ طاقتوروں کے ہاتھوں سماجی، معاشی اور جنسی استحصال کی مکروہ صورتحال دیکھ کر دہل جاتے ہیں اور ایک ایسے دیس میں جیون بس کرنے کا خواب دیکھتے ہیں جہاں وہ بطور فرد آزادی سے سانس لے سکیں مگر گجرات اور اس کے اردگرد علاقوں کے یونا ن جانے والے نوجوانوں کے معاملات مختلف ہیں۔
گجرات اور یونان کا کوئی روحانی سمبندھ ضرور ہے،گجرات کو پاکستان کا یونان بھی کہاجاتا ہے، اس میں حوالہ دانش ہے یا کچھ اور یہ ابھی تک طے نہیں ہوا مگر اہل گجرات کی سرزمین یونان سے محبت دیوانگی کی حد تک ہے، یہاں کے لوگ وہاں پہنچنے میں اتنی بے تابی اور بے چینی دکھاتے ہیں جیسے وہاں کوئی بہت اپنا انھیں آواز دے کر بلا رہا ہو۔
اکثر کشتی الٹنے، ڈوبنے اور کنٹینر میں سانس بند ہونے سے مرنے والوں کی اکثریت کا تعلق ضلع گجرات، منڈی بہاؤالدین، گوجرانوالہ اور میرپور سے ہوتا ہے۔ اتنی اموات کی خبر یں سننے کے بعد بھی لوگ بھاری رقوم دے کر جانا اس لئے ترک نہیں کرتے کہ ان علاقوں میں ہر دوسرے خاندان کا کوئی فرد یونان یا آس پاس کے ملکوں میں آباد ہے وہ سیٹل ہونے کے بعد اپنے بھائیوں، رشتہ داروں اور دوستوں کو لے جانے کی کوشش کرتا ہے انھی میں وہ سفاک ٹھیکیدار ہوتا ہے جو پہلے انھیں اپنے پیاروں کو وہاں بلانے پر اکساتا ہے اور پھر اس کا پتہ دیتا ہے جو مطوبہ رقم کے عوض سکون سے پہنچانے کا وعدہ کرتا ہے۔ کم پڑھے لکھے اور سادہ انسان اس طرح کے جملوں کے دھوکے میں اتے رہتے ہیں،جن کی ہلاکت ہوئی انھیں دوسری پارٹی نے بلایا تھا ہمُ کچا کام نہیں کرتے۔انسانی سمگلنگ کرنے والے پاکستانیوں کی اخلاقی پستی کا عالم دیکھئے کہ دولت کی ہوس میں اپنے ہم وطنوں کے لئے کشتی کا زیریں اور خطرات سے پُر حصہ منتخب کرتے ہیں۔
لیکن اہم سوال یہ ہے کہ یہ لوگ دشوار گزار راستوں سے گزر کر وہاں جانے کو تیار کیوں ہو جاتے ہیں۔کیوں کیا غربت کی وجہ سے جان کی قربانی لگانے کو تیار ہوتے ہیں، بیس سے تیس لاکھ رقم دینے کی استطاعت رکھنے والے غریب تو ہر گز نہیں ہوتے ہیں۔ دوسرا سوال یہ کہ اگر اتنی رقم ہے تو وہ کیوں جان جوکھوں میں ڈالتے ہیں، دراصل یہ ایسے نوجوان ہوتے ہیں جنہیں کچھ کرنا نہیں آتا۔وہ صرف روایتی جماعتیں پاس کرکے بیٹھے ہوتے ہیں۔ عملی زندگی کے لئے ان کے پاس نہ کوئی ہنر ہوتا ہے نہ دلچسپی اور نہ کوئی مقصد۔ اب زندگی میں کچھ کرنا ہے تو پھر یونان جانے میں کیا ہرج ہے،کہ ملک کی فضا تو ویسے ہی نامہربان ہے، یہ چند دنوں میں حل ہونے والا مسلہ نہیں، وسیع تر منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ ضروری ہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات کی جائیں۔دوران تعلیم طالبعلموں کو ان کے شعبوں سے متعلقہ سرکاری و نجی اداروں میں پارٹ ٹائم ملازمتیں دی جائیں۔انھیں مختلف ہنر سکھائے جائیں۔میڈیا پر ہر وقت حالات کا رونا رونے کی بجائے مشکلات سے نجات کی تدبیر پر بات کی جائے اور نوجوانوں کو مقصد کے طور پر چیلنجرز کا مقابلہ کرنے پر اکسایا جائے۔
ملک میں تنگ نظری، بنیاد پرستی اور گھٹن پھیلانے والوں کا رستہ روکا جائے۔ جھوٹ، لالچ، استحصال اور بے انصافی پر مبنی نظام کو تبدیل کرنے میں اساتذہ والدین سمیت ہر فرد کردار ادا کرے۔ یہ ملک بہت خوبصورت ہے،وسائل سے مالا مال ہے مگر مسائل میں گھرا ہوا ہے۔ بہت ہوگیا اب سیدھے رستے پر سفر آغاز کریں۔مایوسی پھیلانے کی بجائے امید کا ستارا بنیں۔
ہر نوجوان ایک آئیڈیل دنیا کا خواب دیکھتا ہے۔پاکستانی نوجوان کی ہمت بندھائیں کہ وہ اپنے ملک کو آئیڈیل بناسکے۔ان تمام عوامل پر غور کرنے کی ضرورت ہے جو ہمارے بچوں کو ملک سے ہجرت پر مجبور کرتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ سہانے دیس کی جو کشش ہماری نوجوان نسل کو راستے کی مشکلات عبور کرنے پر مائل کر لیتی ہے وہ آزاد زندگی کا تصور ہے کیونکہ گھٹن کے ماحول سے یہ نسل سمجھوتہ کرنے کو بالکل تیار نہیں۔اس لئے جب تک ہم اس ملک کی فضا کو نہیں بدلیں گے نوجوان گھر سے بھاگتے رہیں گے اور ہم ان کی زندگیوں کے ساتھ قیمتی سامان نگل جانے والی لہروں کو روتے رہیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں