Mubashir Zaidi

درویش صفت قلندرز

سلطانز اور کنگز اپنا نام رکھنے میں خود ستائی ہے، احساس برتری کا اظہار ہے، بڑبولاپن ہے۔
گلیڈی ایٹر لڑاکے ہوتے تھے۔ یہ اور یونائیٹڈ جیسے صفاتی لاحقے نیوٹرل ہیں۔ ایک دعوی تو ہے لیکن احساس برتری یا کمتری نہیں ہے۔
زلمی کا مطلب ہے نوجوان۔ اسے بھی گلیڈی ایٹر اور یونائیٹڈ کی صف میں رکھیں۔ یہ اس اعتبار سے بہتر ہے کہ مقامی ہے۔ انگریزی نام رکھنے کی کیا ضرورت ہے؟ سلطانز کیا نام ہوا؟ اردو لفظ کو انگریزی قاعدے سے جمع بنانا مضحکہ خیز لگتا ہے۔
قلندرز کے آخر میں بھی وہی حرکت کی گئی ہے۔ لیکن بہرحال اس نام میں ایک عاجزی ہے، بے نیازی ہے، مستی ہے۔
قلندر نام سن کر لگتا ہے، اسے ہار جیت سے غرض نہیں۔ یہ فنا فی العشق ہے۔ کس کا عشق؟ کرکٹ کا، اور کس کا۔
رانا نام کے قلندر نے کتنے سال تپسیا کی۔ ٹیم ہارتی رہی، وہ اپنے کام میں لگے رہے۔ مذاق اڑایا گیا، جملے کسے گئے، میمز بنیں، وہ مسکراتے رہے۔
میں بھی مذاق اڑانے والوں میں شامل تھا۔ پہلے دو سال لاہور کی ٹیم پانچویں نمبر پر تھی۔ ملتان کو چھٹی ٹیم کے طور پر سوپر لیگ میں شامل کیا گیا تو میں نے لکھا، اس بار لاہور پانچویں نمبر پر نہیں آئے گی، چھٹے نمبر پر رہے گی۔ اتفاق سے وہی ہوا۔
پہلے چار سال میں آخری نمبر کی ٹیم اب دو سال سے چیمپین ہے۔ تعریف کی مستحق ہے۔ قلندر صفت رانا صاحب مبارک باد کے حق دار ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں