yasir peerzada

سی ایس ایس معیار تعلیم کا پیمانہ نہیں

جس اخبار میں آپ اِس خاکسار کا کالم پڑھتے ہیں اُس اخبار نے گزشتہ اتوارایک شَذرہ لکھا،عنوان تھا’’سی ایس ایس کے نتائج‘‘۔ نئی نسل کی آسانی کیلئے بتاتا چلوں کہ شَذرہ مدیر کی مختصر رائے کو کہتے ہیں جو وہ اداریے کے علاوہ حالات حاضرہ پر قلم بند کرتا ہے ۔ یہ بھی میری خوش فہمی ہے کہ نوجوانوں کو شَذرے کی یہ تعریف سمجھ میں آجائے گی کیونکہ یہاں تو اکثریار لوگ جب ملتے ہیں تو گرم جوشی سے ہاتھ ملاتے ہوئے کہتے ہیں’’کل آپ کا اداریہ پڑھا، بہت مزا آیا۔‘‘پہلی بات تو یہ کہ میں اداریہ نہیں لکھتا اور دوسری بات یہ کہ مزا کس بات کا،اداریہ تھایا آلو گوشت!خیر، اِس بات کو یہیں چھوڑتے ہیں اور سی ایس ایس کی بات کرتے ہیں ۔

اخبار لکھتا ہے’’فیڈرل پبلک سروس کمیشن نے سی ایس ایس امتحان برائے 2022 کے حتمی نتائج کا اعلان کردیا ہے جس کے مطابق 20 ہزار 262 میں سے محض 393 امیدوار کامیاب ہوسکے…. کامیابی کا تناسب ایک اعشاریہ 85 فیصد رہا۔ اس طرح ادارےنےگریڈ17میںتقرری کیلئے374 امیدواروں کی سفارش کی ہے۔ یہ صورتحال اعلیٰ تعلیم کے دیوالیہ پن کی شاہد اور انتظامی شعبے کے معیار پر ایک سوالیہ نشان ہے… سی ایس ایس امتحانات کے گرتے ہوئے نتائج کا یہ سلسلہ دیکھتے ہوئے چند برس قبل پرانے بیوروکریٹس نے اس صورتحال کا سب سے بڑا عنصر سیاسی مداخلت کو قرار دیا تھا ۔

آج ملک میں ماضی کے مقابلے میں یونیورسٹیوں کی تعداد کئی گنا زیادہ ہے جن میں بیشتر توجہ پیشہ ورانہ اور تکنیکی امور سے متعلق تعلیم و تحقیق پر دی جاتی ہے اور تشویشناک حد تک زبان و بیان اور سماجی علوم مفقود ہوچکے ہیں…اس بات پر افسوس ہی کیا جاسکتا ہے کہ ہر سال لاکھوں اسناد تقسیم ہوتی ہیں اور ہزاروں امیدوار سی ایس ایس کے امتحان میں بیٹھتے ہیں جس کے نتائج سب کے سامنے ہیں…‘‘میں نے اپنے ہی اخبار کا شَذرہ اِس لئے منتخب کیاہے کہ اِس میں مختصراً لیکن جامع انداز میں ہمارے تعلیمی نظام اور سی ایس ایس کے زوال کا احاطہ کیا گیا ہے ، ممکن ہے باقی اخبارات نے بھی اِس موضوع پر اظہار خیال کیاہو مگر میں چونکہ اِس موقف سے ہی اتفاق نہیں کرتا لہٰذا اِس خوش فہمی کی بنِا پر کالم لکھ رہاہوں کہ مدیر صاحب مد ظلہ (نہ جانےاِس کاکیامطلب ہے) خود سے اختلاف کرنے کی اجازت دیں گے ، سو اگر آپ یہ کالم پڑھ رہے ہیں تو اِس کا مطلب ہے کہ مدیر صاحب نے کالم بخوشی پاس کردیا ہے اور اگر نہیں پڑھ رہے تو…مگر یہ کیسے ممکن ہے کہ آپ کالم بھی نہ پڑھیں اور آپ کو پتا بھی چل جائے کہ ناقابل اشاعت کالم میں کیا لکھا گیا تھا!آبادی پہلے ہی بہت زیادہ ہے!!!
سی ایس ایس کے نتائج پر تقریباً ہر سال ہی اِس قسم کا نوحہ لکھا جاتا ہے اور لکھتے وقت تین باتیں فرض کر لی جاتی ہیں ۔پہلی یہ کہ سی ایس ایس کے نتائج ہمارے تعلیمی معیار کی پستی کی نشاندہی کرتے ہیں، دوسری یہ کہ اِس صورتحال کا سبب سیاسی مداخلت ہے اور تیسری،ملک میں یونیورسٹیاں پہلے سے زیادہ ہیں مگر چونکہ یہاں زبان و بیان اور سماجی علوم پر توجہ نہیں دی جاتی لہٰذا اِس قسم کے نتائج سامنے آتے ہیں۔جہاں تک پہلے مفروضے کی بات ہے تو عرض یہ ہے کہ سی ایس ایس کوئی ڈگری نہیں ہے بلکہ نوکری کے متلاشی نوجوانوں کی چھانٹی کا طریقہ کار ہے ۔ آپ یوں سمجھیں کہ حکومت پاکستان ایک کمپنی ہے جسے تین سو اسامیاں پُر کرنے کیلئے مخصوص اہلیت کے نوجوان درکار ہیں ، یہ کمپنی اخبار میں اشتہار دیتی ہے ،نوکری کیلئے قابلیت کا معیار مقرر کرتی ہے اور پھر اِس کیلئے ایک ایسا امتحان وضع کرتی ہے جس کے نتیجے میں اسے ایک اسامی کیلئے تین سے چار امیدوار مل جائیں تاکہ وہ آسانی سےاُن کی چھانٹی کرکے موزوں امیدوار کو نوکری پر رکھ لے ،اگر اِس کمپنی کا امتحان آسان ہوگا تو اسے ایک اسامی کے لئے دس بیس امیدواروں کا انٹرویو کرنا پڑےگا اور کوئی کمپنی یہ درد سر مول لینا پسند نہیں کرتی۔مثلاً اگر ایمزون پاکستان میں دس سینئر درجے کی اسامیوں پر بھرتی کرنا چاہے گا تو لا محالہ وہ ایسا امتحان بنائے گاکہ اسے اِن دس اسامیوں کیلئے زیادہ سے زیادہ تیس لوگ مل جائیں جن کا وہ آسانی سےانٹرویو کرکے اسامیاں پُر کرلے۔
دوسرا مفروضہ بہت خطرناک ہے ۔سی ایس ایس کا امتحان اُن چند چیزوں میں سے ایک ہے جو اِس ملک میں بد ترین حالات کے باوجود سفارش اور اقربا پروری سے محفوظ ہیں، اِس میں کسی قسم کی سیاسی مداخلت نہیں ہوتی اور تقرریاں بالکل میرٹ پر ہوتی ہیں ۔ صرف وہ کوٹا جو مسلح افواج کیلئے مختص ہے اُس میں امیدواروں کاتحریری امتحان نہیں ہوتا ورنہ باقی پورا طریقہ کار اِس قدر شفاف ہے کہ تحریری امتحان کے نتیجے تک تو امیدوارکو اپنے نمبر ہی پتا نہیں چلتے، اُس کے بعد انٹرویو کا مرحلہ آتا ہے جس میں جہاندیدہ افسران کا ایک بورڈ بیٹھتا ہے جو امیدوار کی قابلیت کی جانچ کرکے نمبر لگاتا ہے جنہیں تحریری امتحان میں جمع کرکے نتیجہ شائع کردیا جاتا ہے۔

تیسرا مفروضہ بھی غلط ہے۔ اوّل تو جامعات کی بڑھتی ہوئی تعداد کا معیار تعلیم سے کوئی تعلق نہیں بلکہ الٹا یہ معیار کی گراوٹ کا باعث بن رہی ہیں ، اِس پر میں کئی مرتبہ لکھ چکا ہوں۔ اور اِس بات میں بھی کوئی صداقت نہیں کہ جامعات میں صرف پیشہ ورانہ اور تکنیکی امور پر ہی توجہ دی جاتی ہے کیونکہ ہر چھوٹی بڑی یونیورسٹی میں زبان اور سماجی علوم کے شعبے قائم ہیں ۔ویسےبھی سی ایس ایس کے امتحان میں صرف سماجی علوم کا ہی آپشن نہیں ہوتا بلکہ اختیاری مضامین کی طویل فہرست ہے جس میں ہر قسم کے تکنیکی علوم بھی شامل ہیں ، لوگ یہ مضامین نہ صرف رکھتے ہیں بلکہ اُن میں سماجی علوم سے زیادہ نمبر بھی حاصل کرتے ہیں ۔
اِن تمام باتوں کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ ہمارا معیارِ تعلیم زوال کا شکار نہیں ، بے شک ہم پہلے سے کہیں زیادہ نیچے جا چکے ہیں مگر سی ایس ایس اُس کا پیمانہ نہیں ۔ نظام تعلیم کی پستی کا اگر اندازہ لگانا ہے تو کسی گریجویٹ بچے یابچی سے پانچ منٹ گفتگو کرکے دیکھ لیں، آپ کو اندازہ ہوجائے گا کہ’’ گہرے سمندروں میں سفر کر رہے ہیں ہم‘‘۔اوراگر ہمارا یہی حال رہا تو وہ دن دور نہیں جب ہم سمندر کی اُس نچلی سطح پر تیر رہے ہوں گے جہاں جیمز کیمرون ٹائی ٹینک کی تلاشی لینے پہنچا تھا!

اپنا تبصرہ بھیجیں