Sara Moni

تاج پوشی اور دولتِ مشترکہ

کل بروز ہفتہ کے دن برطانیہ میں ایک تاریخی تقریب منعقد ہونے جارہی ہے۔ہز میجسٹی بادشاہ سلامت چارلس سوئم اور ملکہ عالیہ کمیلا کی تاجپوشی۔ ویسٹ منسٹر ایبی میں منعقد ہونے والی سو صدی قدیم اس تقریب میں دو ہزار معزز مہمان شرکت کریں گے جب بادشاہ چارلس گریٹ برطانیہ اور شمالی آئرلینڈ پر مشتمل یونائیٹڈ کنگڈم کا تخت باضابطہ طورپر سنبھالیں گے۔ جیسا کہ یہ تقریب توقع کے مطابق ایک نیا تاریخی باب رقم کرے گی، یہ ہمارے موجودہ زمانے کا بھی ایک عکس پیش کرے گی یعنی مختلف ثقافتوںسے مزیّن ایک جدید اور متنوع یونائیٹڈ کنگڈم۔ بادشاہ کی دلچسپی کے پیش نظر تقریب میں دولتِ مشترکہ کی بھرپور نمائندگی ہو گی۔ دولت مشترکہ کے شرکت کرنے والے بہت سارے رکن رہنماؤں میں پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف بھی شامل ہوں گے۔بادشاہ چارلس 2018 میں کئے جانے والے ملکہ عالیہ برطانیہ کی جانشینی کے لئےدولت مشترکہ کے رہنماؤں کے ایک متفقہ معاہدے کے تحت، ستمبر 2022 میںآنجہانی ملکہ کی وفات کے بعد دولتِ مشترکہ کی سربراہی کی ذمہ داری پہلے ہی سنبھال چکے ہیں۔ یہ تاجپوشی 56 قوموں کے اتحاد پر مشتمل تنظیم کیلئےعلامتی اہمیت کی حامل ہے۔ کنگ چارلس اپنی والدہ محترمہ کی طرح، دولت مشترکہ اور اس کی اقدار کے فروغ کیلئے پرعزم وکیل ہیں۔
اس وقت دنیا کی توجہ کنگ چارلس سوئم کی تاجپوشی پر مرکوز ہے۔ دولت مشترکہ کے ساتھ مرکز ی مرحلے پر یہ لمحہ اس اہم نکتے پر دوبارہ غور کرنے کا موقع ہے کہ یہ رضاکارانہ تنظیم، دولت مشترکہ کا گھر کہنے والے ڈھائی ارب افرادکیلئے کس طرح فائدہ مند ثابت ہوتی ہے ۔ اور خاص طور پر بادشاہ کے دل کے قریب ایک ملک یعنی پاکستان کو دولتِ مشترکہ کیا پیشکش کرتی ہے۔
جیسا کہ خود کنگ چارلس مانتے ہیں۔ ایک اصولی فائدہ جو دولتِ مشترکہ اپنے اراکین کیلئے پیش کرتی ہے وہ اس تنظیم کا بے نقص حجم ہے: ’’ہم دنیا کی ایک تہائی آبادی ،جس میں تیس سال سے کم عمر کے ڈیڑھ ارب افراد شامل ہیں، کی فہم و فراست اور تخیل سے نوازے گئے ہیں۔ ہماری مشترکہ انسانیت، فکر، ثقافت، روایت اور تجربے کے ایک بے پناہ قیمتی خزانے سے مالا مال ہے۔ ہم خود کو درکار بہت سے حل ایک دوسرے کے تجربات سے تلاش کرلیں گے ۔’’یہی وہ ’’حجم‘‘ ہے جو دولتِ مشترکہ کو دنیا کو درپیش سب سے زیادہ اہم آزمائشوں کا سامنا کرنے کی ہمت دیتا ہے، جن کے لئے بین الاقوامی تعاون کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہی دولتِ مشترکہ کے رکن ممالک کو دستیاب بے پناہ عالمی اقتصادی مواقع سے فائدہ اٹھانے کے قابل بنا تا ہے۔ اس کی وجہ سے دولتِ مشترکہ کے رہنما سرمایہ کاری کو وسعت دینے اور دولتِ مشترکہ کے مابین تجارت کو 2030 تک 2 ٹریلین امریکی ڈالر تک بڑھانے کے ہدف کیلئےدوبارہ عزم کر رہے ہیں۔ برطانیہ دولتِ مشترکہ کے مابین تجارتی سرگرمیوں کیلئے ایک ثابت قدم وکیل رہا ہے۔ ہم دولتِ مشترکہ کے ممالک کے درمیان سرمایہ کاری کی شراکت داری کو مزید وسعت دینے، تجارت کی راہ میں حائل غیر ضروری رکاوٹوں کو دور کرنے اور ‘کامن ویلتھ ایڈوانٹیج کی صلاحیت حاصل کرنے کیلئےاور بھی آگے جانا چاہتے ہیں۔ یہ سب کچھ پاکستان کی طویل المدت اقتصادی ترقی کیلئے فائدہ مند ہے۔
دولتِ مشترکہ کی رکنیت کا ایک اور اہم فائدہ بین الاقوامی مہارت ، خاص طورپر نوجوانوں کی ترقی اور تعلیم جیسے شعبوں تک رسائی ہے ۔ عالمی آبادیاتی تبدیلیاں بہت سے ترقی پذیر ممالک کیلئے ایک اہم مسئلہ ہیں۔ پاکستان دنیا کا پانچواں بڑا ‘نوجوان ملک ہے جس کی 63 فیصد آبادی 15 سے 33 سال عمر تک کے افراد پر مشتمل ہے۔ ہمارے نوجوانوں کو ہماری بدلتی ہوئی معیشتوں کے مطابق ہنر مند بنانا ایک عالمی ہدف ہے۔ ‘ڈیموگرافک ڈیویڈنڈ فراہم کرنے اور استحکام اور پائیدار اقتصادی ترقی کو یقینی بنانے کیلئے مطلوبہ مہارت کیلئے اپنی نوجوان آبادی کو تیار کرنا پاکستان اور دولتِ مشترکہ کے دیگر ترقی پذیر ممالک کا مشترکہ مسئلہ ہے۔
ان مشترکہ مسائل کا حل دولتِ مشترکہ فراہم کر رہی ہے۔ رواں سال کو ‘نوجوانوں کا سال قرار دیا گیا ہے۔ یہ مہم پائیدار اور جامع ترقی کیلئےنوجوانوں کی زیرقیادت کارروائی کیلئے وقف کی گئی ہے۔ یہ مہم اسکول کے نصاب کو مضبوط بنانے اور اساتذہ کی تربیت کیلئے تکنیکی مدد فراہم کرے گی۔ دولتِ مشترکہ کے نوجوانوں کو عالمی نیٹ ورکس اور ترقی کے مواقع تک رسائی فراہم کرنے اور اسکالر شپ کے ایک وسیع انتخاب فراہم کرنے کیلئے دولتِ مشترکہ کے یوتھ پروگرام کی طرف سے پیش کردہ مواقع لینے کیلئے نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کرنا بھی ایک مقصد ہے۔ پاکستان کے لئے دولتِ مشترکہ کے تعلیمی تعاون کا آغاز پہلے ہی متاثر کن رہا ہے اور 1341 پاکستانیوں کو کامن ویلتھ اسکالرشپ سے نوازا جا چکا ہے۔ صرف اس سال پاکستان سے 114 طلباء وظائف پر برطانیہ میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں اور اس پیشکش میں اس سال کوئینز کامن ویلتھ ٹرسٹ پاکستان چیپٹر کے آغاز کے ساتھ ہی اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے جہاں نوجوان کاروباریوں کی مدد کیلئے زراعت و خوراک، تعلیم اور روزگار، ماحولیات، صحت اور اجتماعیت کے شعبوں میں مالی تعاون، عملی ضروریات اور نیٹ ورک فراہم کیا جاتا ہے۔
دولتِ مشترکہ کے فوائد کی مثال سمندر میں تیرتی ہوئی ایک برفانی چٹان کی طرح ہےجس کا صرف دس فیصد حصہ ہمارے سامنے ہے۔ استحکام سے لے کر تجارت تک، نوجوانوں کی ترقی ، جدید دولتِ مشترکہ ہمارے ممالک کے مستقبل کو بہتر بنانے کیلئےہے۔ اگر آپ نے اس ہفتہ کے دن تاجپوشی دیکھنے کا انتخاب کیا ہے، تو آپ نہ صرف دولتِ مشترکہ کو نمایاں دیکھیں گے بلکہ دولتِ مشترکہ کے درمیان مضبوط تعلقات کے ایک نئے دور کا آغاز کریں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں