معاہدے، خوشیاں اور غریب

عید کے دوسرے روز آئی ایم ایف معاہدے کی خبر آئی، ساتھ ہی مبارکبادوں کا سلسلہ شروع ہو گیا، حکومت میں ہر طرف شکر ادا کیا جانے لگا۔ اسی خوشی کے ماحول میں لاہور میں ایک پریس کانفرنس بھی رکھ دی گئی، اس پریس کانفرنس میں وزیراعظم سے ایک خاتون نے بہت تلخ سوال کر ڈالا، ورنہ ہو سکتا تھا کہ شہباز شریف فرط ِجذبات میں تین روزہ جشن کا اعلان کر دیتے۔ مجھے دو تین لوگوں پر بڑی حیرت ہوئی ہے۔ سب سے پہلے احسن اقبال نے قوم کو مبارکباد دی تو بہت حیرت ہوئی کہ یہ صاحب پچھلی حکومت میں آئی ایم ایف کے بہت خلاف تھے۔ پچھلی حکومت کے عہد میں احسن اقبال آئی ایم ایف سے معاہدے کو غداری قرار دے رہے تھے، ہو سکتا ہے اب یہ معاہدہ غداری کے زمرے میں نہ آتا ہو۔ دوسری حیرت مجھے بلاول بھٹو زرداری پر ہوئی جو چند سال پہلے کہا کرتے تھے کہ آئی ایم ایف معاہدے کو پھاڑ دو۔ حالیہ معاہدے سے متعلق ان کا پتہ نہیں کیا خیال ہے ،اسے پھاڑنا چاہیے یا نہیں۔ اس کے علاوہ کچھ دانشور بھی پہلے آئی ایم ایف سے متعلق عجیب و غریب باتیں کیا کرتے تھے۔ تازہ معاہدے سے متعلق ان کا کیا خیال ہے۔ ؟پتہ نہیں اب بھی ان کی باتیں عجیب و غریب ہیں، یانحوست کا لفظ ہٹ گیا ہے۔ سب سے زیادہ حیرت مجھے اسحاق ڈار پر ہوئی ہے جنہوں نے 15 مارچ کو سینٹ میں تقریر کرتے ہوئے کہا تھا کہ آئی ایم ایف چاہتا ہے کہ ہم اپنے لانگ رینج میزائلوں کے پروگرام کو ختم کر دیں کیونکہ لانگ رینج میزائل سے بھارت اور اسرائیل کو خطرہ ہے۔ آئی ایم ایف چاہتا ہے کہ ہم اپنی سالمیت پر سمجھوتہ کر لیں۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے زور سے ڈیسک پر ہاتھ مار کر کہا تھا کہ ہم اپنی سالمیت کیلئے سودا نہیں کریں گے۔ پتہ نہیں اب تین ارب ڈالر کیلئے سالمیت کا سودا کیا گیاہے یا نہیں۔ لانگ رینج میزائلوں کے پروگرام کے متعلق کچھ پتہ نہیں ۔ آزادی کے پچھتر سال بعدتین ارب ڈالر کا قسط وار قرضہ منظور ہونے پر حکومتی صفوں میں جشن جاری ہے جبکہ غریبوں کو مہنگائی کی’’نوید‘‘ سنا دی گئی ہے۔ایک بڑے بزنس مین میاں منشاء نے چند ماہ پہلے اپنے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ افغانستان کسی بھی سٹیج پر پاکستان سے آگے نکل جائے گا۔ سری لنکا بہت بڑے مالی بحران سے نکل آیا ہے کیونکہ وہاں رول آف لاء ہے جبکہ پاکستان میں رول آف لاء نہیں ہے۔
آئی ایم ایف سے معاہدے کے بعد بجلی کی قیمت میں نو سے بارہ روپے فی یونٹ اضافہ کیا جائے گا، ڈالر کا ریٹ بھی اوپن مارکیٹ کے برابر لا کر ڈالر کو پندرہ سے بیس روپے مزید مہنگا کیا جائے گا ۔ 1160 ارب روپے کے نئے ٹیکسز کھاد، کھانے پینے کی اشیاء اور زرعی اجناس پر لگیں گے۔ ان ’’عوام دوست‘‘ فیصلوں کے نتیجے میں مہنگائی کی شرح میں قریباً 7 فیصد اضافہ ہو گا۔ اسحاق ڈار نے دکھ بھرے لہجے میں کہا کہ غریب ملک پر پینشن بہت بڑا بوجھ ہے جو مستقبل میں نا قابلِ برداشت ہو جائےگا۔ کچھ’’بے وقوف ‘‘لوگ اسحاق ڈار کے اس’’سنہرے قول‘‘پر ایسی فضول باتیں کر رہے ہیں ،مثلاً پینشن اگر بہت بڑا بوجھ ہے تو پروٹوکول بوجھ نہیں، مراعات بوجھ نہیں، کرپشن بوجھ نہیں ، روزانہ لاکھوں کا سرکاری خرچہ بوجھ نہیں اور کیا 90 سے زائد وفاقی کابینہ کے ارکان قومی خزانے پر بوجھ نہیں۔ بقول شیخ ابراہیم ذوقؔ
چھٹتی نہیں ہے منہ سے یہ کافر لگی ہوئی
سچی بات تو یہ ہے کہ ہمارے پاس قرض کی واپسی کا کوئی پروگرام ہے ہی نہیں۔ کبھی یہ کہا جاتا تھا کہ ہمیں آئی ایم ایف کے چنگل سے نکلنا چاہیے، کچھ لوگ کہا کرتے تھےکہ آئی ایم ایف کے شکنجے سے نکلنا چاہیے اور اب کچھ لوگ معاہدہ ہونے پر یہ کہہ رہے ہیں’’ الحمداللہ‘‘۔ قوم کو عید کے ساتھ آئی ایم ایف سے قرضہ منظور ہونے کی بھی مبارک ہو۔ ہمیں نہیں معلوم کہ اب شکریہ ادا کرنا چاہیے یا نہیں۔
ہم پاکستانی غربت کی چکی میں پس گئے ہیں مگر ہماری اشرافیہ کے لوگ اپنی عیدیں بھی باہر گزارتے ہیں۔ ایک سال میں ایسا کھیل ہوا ہے کہ جس چیز کی قیمت دو سو روپے تھی اب وہ پانچ سو میں ملتی ہے۔ پچھلے سال 60 فیصد پاکستانی خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہے تھے جبکہ آج یہ تعداد 70 فیصد ہو چکی ہے۔ عالمی بینک کی سالانہ رپورٹ یہ بتاتی ہے کہ 70 فیصد پاکستانی غربت کی عالمی لکیر سے نیچے زندگی بسر کر رہے ہیں۔ جن لوگوں کی آمدن 2 امریکی ڈالر سے بھی کم ہو انہیں غربت کی عالمی لکیر سے نیچے شمار کیا جاتاہے۔ رپورٹ کے مطابق 21 فیصد پاکستانیوں کی روزانہ آمدن 1.25امریکی ڈالر سے بھی کم ہے۔70 فیصد تو غریب ہو گئے جو 30 فیصد خط غربت سے اوپر ہیں، ان میں سے صرف 1 فیصد طبقہ ٹھاٹھ باٹھ سے زندگی گزارتا ہے،20 فیصد طبقہ تنخواہ دار ہے جبکہ 9 فیصد چھوٹے موٹے کاروباری افراد ہیں۔
معاہدہ ہو گیا ، حکومتی صفوں میں جشن منایا گیا مگر غریبوں کے چہرے مجسمہ بے بسی بنے ہوئے ہیں کہ بقول فرحت زاہد
قریہ قریہ ڈول رہی ہے مایوسی
گلیوں گلیوں بول رہی ہے مایوسی
کیا جانے کیا گزری کشتی والوں پر
لہروں لہروں بول رہی ہے مایوسی
تارہ تارہ جلتے منظر نامے میں
زہر یہ کیسا گھول رہی ہے مایوسی

معاہدے، خوشیاں اور غریب” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں