افضال ریحان

کامن سینس، کامن کیوں نہیں ؟

اقبال نے کہا تھا:اے اہل نظر ذوق نظر خوب ہے لیکن ، جو شے کی حقیقت کو نہ دیکھے وہ نظر کیا ، یا یہ کہ : عالم نو ہے ابھی پردہ تقدیر میں میر ی نگاہ میں ہے اس کی سحر بے حجاب
اب اگر یہ درویش حقیقت پسندی سے کام لیتے ہوئے ڈاکٹر جاوید اقبال کے اباجی پر ترچھی نظر ڈالے گا تو خوابوں کی دنیا میں رہنے والوں سے یہ برداشت نہ ہو پائے گا من باتوں میں موہ لینے والے کے دعوے ہمالہ کو چھوتے ہیں لیکن حقائق کی کسوٹی پر سراب کے سوا کچھ نہیں ۔ہمارے ممدوح نے جو اتنا اونچا خواب دیکھا تھا اس کی تعبیر کتنی افسوسناک نکلی، ویسے فرزند اقبال یہ کہتے ہوئے جان چھڑا لیا کرتے تھے کہ ابا جی نے تو ایسا کوئی خواب دیکھا ہی نہیں تھا جو خواہ مخواہ ان پر مڑھ دیا جاتا ہے ایک سچ یہ بھی ہے کہ آنجناب تو اہل مغرب کو اس نوع کے طعنے دیتے رہے کہ تمہاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خودکشی کرے گی شاخ نازک پہ جو آشیانہ بنے گا ناپائیدار ہو گا یہ الگ بات ہے کہ آج اندھوں کو بھی نظر آ رہا ہے کہ کن کی تہذیب اپنے خنجر یا خودکش حملوں سے آج خودکشی کر رہی ہے ۔
بچپن میں ایک کہانی سنی تھی کہ شیخ چلی صاحب کسی درخت کے جس ٹہن پر بیٹھے تھے آری لئے اسی کو جوڑ سے کاٹ رہے تھے پاس سے کوئی سیانا گزرا تو کہا اسے مت کاٹو وگرنہ نیچے گر پڑو گے مگر اس نے یہ بات سنی ان سنی کر دی البتہ تھوڑی اور آری چلائی تو دھڑام سے نیچے آن گرا فوراً سمجھانے والے کے قدموں میں بیٹھ گیا کہ آپ تو بڑے دانا ہیں وہ بولا اس میں دانائی والی کون سی بات ہے یہ تو عام سمجھ یا کامن سینس کی بات ہے ۔
یہاں افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑتا ہے کہ جسے کامن سینس کہا جاتا ہے وہ کامن ہوتی نہیں جس کی وجہ سے لوگ بالعموم سراب کو دریا سمجھ کرطویل سفر کی صعوبت اٹھاتے ہیں اور پھر اپنا ماتھا آپ پیٹتے ہیں بالخصوص شخصیات کو سمجھنے کے معاملے میں آخر ہمارے لوگ بالعموم رہزن کو رہبر کیوں سمجھنے لگتے ہیں؟ جب جذباتیت و جنونیت کا نشہ اترتا ہے تو کہیں خود کو اور کہیں رہبر صاحب کو کوستے پائے جاتے ہیں درویش کو اوائل عمری سے ہی کبھی سمجھ نہیں آئی کہ ہمارا ہیرو کبھی جناح صاحب تھا تو کبھی بھٹو اور کبھی شاہ فیصل ، پھر قذافی اور پھر صدام حسین اور اب طالبان خاں ، آخر ہمارے لوگ کسی ہوشمند، حقائق آشنا یا کسی گہری نگاہ رکھنے والے دوراندیش مدبر کو پسند کیوں نہیں کرتے ؟یہاں جو ہینڈسم چکنی چپڑی و لایعنی تقاریر کرلیتا ہے ہماری قوم یوتھیا بغیر کچھ سوچے سمجھے یا حقائق کی کسوٹی پر پرکھے اس کی لچھے دار باتوں اور گوری رنگت کی کشش میں ایسی گرفتار ہوتی ہے کہ اسے اپنا رہبر و رہنما بلکہ نجات دہندہ گردان لیتی ہے چلو اگر بچپنے یا نو عمری میں ایسی غلطی ہو بھی جائے تو وقت کے ساتھ شعور وفہم یا سنجیدگی آ جانی چاہئے ایک بل سے ایک مرتبہ آپ ڈنکے جا چکے ہیں تو دوسری دفعہ ایسے سوراخ میں ہاتھ ڈالنے سے باز آ جائیں۔
یہ کوئی پچھلی صدی کی آخری دہائی کے نصف کی بات ہے جب اس ناہنجار نے ایک صحافی کی حیصیت سے اس عظیم قومی ہیرو کا پہلی مرتبہ تفصیلی انٹرویو اس کے گھر پر کیا تو اس ایک ملاقات میں چودہ طبق روشن ہوگئے اپنے ماتھے پر ہاتھ مارا تجھے کیا سمجھا تھا جے اورتو کیا نکلا‘‘ اتنے لمبے قد” میں اتنا چھوٹا آدمی ،علم و دانش یا عقل و شعور کی جیسے ہوا تک نہ لگی ہو اپنی ذات کے مصنوعی خول میں گرفتار خود نمائی و خود ستائی کی لت میں ڈوبا ہوا مغرور، متکبر شخص چہرے پر مصنوعی مسکراہٹ اور گفتگو میں جعلی وسطحی دانش، اف میرے خدایا میں اس شخص کو دور سے کیا سمجھا تھا اس سے تو مجھ پرنازیوں کی ذہنیت ہی آشکار نہیں ہو رہی اڈولف ہٹلر صاحب کی ایسی بو بھی آ رہی ہے جو کرسی اقتدار تک پہنچنے کیلئے انسانی لاشوں کے اوپر سے گزرتے ہوئے بھی ذرا شرمندگی محسوس نہیں کرے گا جبکہ سیاست سے تو اس کا کچھ لینا دینا نہیں ہو گا بلکہ سچ تو یہ ہے کہ اس کیلئے سیاست دان کے لفظ کا استعمال اس معتبر لفظ کی توہین ہوگی ۔
واپس آکر جو کچھ لکھا وہ بن لادن پر لکھے کی طرح بے جان بنا کر شائع کیا گیا آج سبھی بڑے سیانے بنے بہت کچھ لکھ بول رہے ہیں اتنا کھلواڑ کروانے کے بعد جب ڈراپ سین ہوا ہے تو اوورسماٹ بننے کا کیا فائدہ ؟ بات تو تب ہے جب سچائی پردہ تقدیر میں ہو اور آپ اس کی سحر کو بے حجاب و بے نقاب فرما دیں ۔
ابھی کل کی بات ہے ایک شخص جو اپنے تئیں پنجاب کا منجھا ہوا سیاست دان کہلواتا اور طاقتوروں کی چاپلوسی میں رطب اللسان پایا جاتا ہے لیکن باپ بیٹے میں کامن سینس کی اس قدر محرومی ہے کہ گھر سے نکلا تھا ماڈل ٹائون جانے کیلئے مگررستے میں فون آیا کہ آپ اپنا رخ نہر کے ساتھ ساتھ ایچی سن کالج کی ہمسائیگی میں موڑ دو ۔بندہ تھوڑا ٹھہر جائے ذہن پرہلکا سا زور دے کہ یہ کس کا فون ہے ؟؟ وہ جس کے کھلواڑی دن پورے ہو چکے ہیں جو اگلوں پچھلوں کو دو دفعہ ماموں بنا چکا ہے قانون یا آئین جس کے بوٹوں تلے دبا رہا ہے صاف شفاف دکھائی دے رہا ہے کہ اب اس کی قسمت کا فیصلہ جن تگڑے ہاتھوں میں جا چکا ہے وہ کسی صورت اسے بربادیوں کے مزید سود ے کرنے نہیں دیں گے اگر سیاسی شعور یا دانائی کی ہلکی سی رمق بھی ہو ،بھلےوہ بھی نہ ہو گری پڑی کامن سینس ہی ہو تو بندہ سوچتا ہے کہ یہاں سیاست کے جو جینوئن کھلاڑی ہیں خوش قسمتی سے میری ان کےساتھ بات بن چکی ہے میں کسی جاتے ہوئے کی باتوں میں آکر الٹی گنگا کیوں بہاؤں مگر نہیں ہم نے قسم کھا رکھی ہے کہ اپنے دائیں بائیں جاری و ساری ھلے گلے یا شور تماشے سے آگے نہیں جھانکنا تو پھر اب لیں اس کے مزے ۔
رہ گیا طالبان خان جس کے ورلڈ ویو یا پولیٹکل وزڈم کا یہ حال ہے کہ پارلیمینٹ کے فلور پر کھڑے ہو کر دنیاکے سب سے بڑے دہشت گرد کو شہید قرار دیتے شرم محسوس نہیں کرتا طالبانی ہڑبونگ کو غلامی کی زنجیریں توڑنے کا نام دیتے ہوئے بڑے فخر سے قوم کو یہ عظیم کامیابی گنواتا ہے عوامی جلسوں میں کبھی جعلی سیفر لہراتا ہے بلکہ اپنے جذباتی فینز کو مزید بیوقوف بنانے کیلئے کبھی امپورٹڈ حکومت نامنظور کے نعرے لگواتا ہے کبھی اپنے خلاف ہونے والی عالمی امریکی سازش کی کہانیاں گھڑتا اور بیان کرتا پایا جاتا ہے ۔
9مئی کو پوری پلاننگ کے ساتھ یہاں جو طوفان بدتمیزی اٹھایا گیا ہے سیاست کی جس شخص میں کچھ بھی سینس ہو کیا وہ اس نوع کا خود کش بم پھوڑ سکتا ہے ؟یہ شخص خود جتنا فارغ ہے اسے چھوڑ دیں اس کے جنونی فینز جس نوع کی ذہنیت میں ڈھلے ہیں اس سے بھی سرف نظر کر لیں اس کی پارٹی میں موجود وہ نام نہاد لیڈران جن کی ساری زندگیاں یہی گھاس کاٹتے گزری ہیں کیا ان میں سے بھی کوئی نہیں تھا جو اس کی سوسائیڈ بمبنگ والی ذہنیت میں ٹارچ مارتا، چلیں ان کو بھی چھوڑ دیں جو اتنی بڑی اور اہم کور کو کمان کر رہا تھا اور جو اتنی بڑی کرسی انصاف پر براجمان گاڈ فادر بنا کھڑا تھا اندرخانے سب سے رازونیاز چل رہی تھی یہ سب جنونی راہ میں بہے جا رہے تھے آخر کیوں کسی کو بھی ادراک نہ ہو سکا کہ حضور یہ جنونی ذہنیت تباہی کی راہ ثابت ہو گی ایسی حرکت نہ کیجئے گا۔
آج جو لوگ بڑے سیانے بن کر نام نہاد پارٹی کو چھوڑ رہے ہیں ساتھ اپنی دانائیاں بھی بگھار رہے ہیں دو ہفتے قبل ان کی عقل کہاں گھاس چرنے گئی ہوئی تھی ؟؟جن لوگوں نے ایک جینوئن سیاست دان کو آئوٹ کرنے اور اپنی چودہراہٹ جمانے کیلئے یہ پورا پروجیکٹ مینج کیا تھا ان سب سے بھی پوچھ گوچھ ہونی چاہئے جنہوں نے بگڑے لاڈلے کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے بلائیں لیتے صدقے واری جاتے بدترین سہولت کاری کی ہے انہیں بھی کور یا منصفی سے ہٹا کر کٹہرے میں صفائی پیش کرنے کا موقع دیا جانا چاہئے پریشانی کی کوئی بات نہیں آپ سب لوگوں نے جو بویا تھا وہی کاٹنا تھا البتہ معافی اس سے مانگیں جس کی پاپولریٹی پر شب خون مارتے ہوئے گھنائونے الزامات کی بھرمار کی گئی اسے ایوان اقتدار سے نکال کر صعوبتوں کی بھٹی میں پھینکا گیا پارٹی تو یہ کبھی تھی ہی نہیں البتہ ادھر ادھر سے اٹھا کر بھان متی کا جو کنبہ تیار کیا گیا تھا اب انہیں اپنے اصل مقامات تک پہنچنے میں سہولت ملنی چاہئے اس لئے کہ صبح کا بھولا اگر شام کو گھر آ جائے تو اسے بھولا نہیں کہتے ، آج حجتیں گھڑی جا رہی ہیں کہ طاقتوروں کی طرف سے بڑی تنگی دی جا رہی ہے کیا ایسی تنگیاں ن لیگ والوں کو نہیں پہنچائی گئی تھیں کیا وہ اس طرح ٹوٹے یا اس قدر پھوٹے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں