ڈاکٹر صغراصدف

شفق رنگ چٹھیاں

چٹھی یا خط اپنے اندر رومان بھری فضا رکھتا ہے۔ خط سنہری یادوں اور دل کش منظروں کو محفوظ رکھنے والا فریم ہوتا ہے۔ کسی کو خط لکھنا دراصل اپنی کیفیات اور احساسات سے اسے آگاہ کرنا ہوتا ہے لیکن باتوں باتوں میں زمانے اور عہد کی جھلک بھی شامل ہو جائے تو خط کی سماجی، ثقافتی اور تاریخی حیثیت مسلم ہو جاتی ہے۔ وہ باتیں جو کہی نہ جا سکیں وہ لکھ کر بتانا آسان ہوتا ہے۔
اس لئے ایک گھر، گلی، کلاس روم میں رہنے والے لوگ خط کے ذریعے اپنے دل کا احوال بیان کرتے رہے ہیں۔ بدلتے ہوئے زمانے کی جدید ایجادات کے باعث ابلاغ کے رستے سہل ہوگئے مگر دلوں میں دوریاں بڑھ گئیں۔سوشل میڈیا نے فاصلوں کو ہی ختم نہیں کیا، لکھنے کی روایت اور احساسات کے اظہار کا طریقہ بھی بدل ڈالا۔غم اور خوشی کی ہر کیفیت کا ازالہ کسی تصویری کارڈ کے ذریعے کرنے کی روایت ڈالی۔
دل، پھول اور کیک بھی علامتی بھیجے جاتے ہیں۔وہ تمام رسم و رواج اور ثقافتی سرگرمیاں مدھم ہو گئی ہیں جن میں شرکت سے شخصیات پر نکھار آتا تھا۔ بے اعتبارے موسم نے ہم سے لطف اندوز ہونے کا حق بھی چھین لیا ہے بارش کے ساتھ لطف کا خیال آنے سے پہلے سڑکوں پر بھر جانے والا پانی کڑکتی بجلی اور طوفانی ہوائیں دل دہلا کر رکھ دیتی ہیں۔ دھوپ نکلے تو اس قدر حبس اور گرمی کہ سانس لینا دو بھر ہو جائے۔ شام کو بھی کھلے صحن میں بیٹھنا دشوار۔ ایسے میں وہ چٹھیاں پڑھنے کا موقع ملا جنہوں نے نصف صدی بیشتر کے ایک جیتے جاگتے عہد کو سامنے لا کھڑا کیا۔ شفق لاشاری کی لکھی ہوئی چٹھیاں ان کی یادداشتوں پر مبنی دلکش کہانیاں ہیں جنہیں بیان کرنے کے لئے انہوں نے چٹھیوں کی صنف کا سہارا لیا جو اپنے اندر بے پناہ خوبصورتی رکھتا ہے، اس کی یادداشت کمال کی ہے ذہن میں ہر منظر قرینے سے رکھا ہوا ہے دل میں احساسات کی آنچ تازہ ہے۔ چٹھیاں تحریر کر کے اس نے کل عالم کو اپنے احساسات میں شریک کر لیا ہے۔شفق کا بچپن لڑکپن جوانی ایک خوبصورت گلشن کی طرح ہے جس میں رشتوں کے مہربان سلسلے اور لاڈ پیار کے عکس ہیں، وہ اس باغ میں بھائیوں کے ہمراہ جھولا جھلا رہی ہے۔ والدین کی مہربان نظروں کا حصار اسے توانائی اور شفقت سے مالا مال کئے دیتا ہے۔ اس نے گنگنانے اور چہکنے کی اسی فضا سے لکھنے کا سفر آغاز کیا ہے۔ وہ جن یادوں کے پھولوں کو پانی دے رہی ہے وہ اتنے تازہ ہیں کہ ان کی مہک قاری کو بھی شدت سے محسوس ہونے لگتی ہے۔
زندگی کی داستان کاآغاز پیلی کوٹھی سے کیا ہے جس کے اینٹ گارے میں اس کے پیاروں کی خوشبو، لمس اور آوازیں رچی ہوئی ہیں۔، زندگی کی آمدورفت کا سلسلہ ہے۔یہ کوٹھی اس کی شرارتوں، قہقہوں اور آنسووں کی گواہ اور رازدار ہے۔ شفق نے اپنی خوش قسمتی کا ذکر کرتے ہوئے جس ماحول کی تصویر کشی کی ہے وہ پورے سماج کے لئے نعمت کی طرح تھا۔ شور شرابے سے دور پرانے لاہور کی خامشی اور گنگناہٹ کے منظر دکھائے اور سنائے ہیں۔ شادی بیاہ کی رسموں، بسنت، مشاعروں، محفل موسیقی اور تہواروں کی رونقوں اور شغل میلے کی روداد سنائی ہے۔ گھر میں کھیلی جانے والی معصوم اور سادہ کھیلوں سے اپنی اور اس عہد کی نسل کو روشناس کیا ہے۔اگر وہ عام انداز میں یادادشتیں قلم بند کرتی تو شاید اتنی پر اثر نہ ہوتیں مگر اس نے خط کے انداز کو اپنا کر اس میں عجیب سحرانگیز فضا باندھی ہے جو دل کوبہت بھلی لگتی ہے۔ طرز تحریر دلکش اور ادبی چاشنی سے بھرپور ہے۔شفق احسان نے ہمیں ایک صلاح دی ہے کہ زندگی کرنے کا انداز رشتوں کی ڈور میں بندھے رہنے اور ثقافتی اقدار کو ذات کا حصہ بنانے میں ہے۔ان سب کا احوال اسے اور اس کے عزیزوں کو معلوم تھا اس نے یہ چٹھیاں ہمارے لئے لکھیں اور شائع کیں ہیں تاکہ ہم بھی ذہن کے پچھلے کمرے کا دروازہ کھول کر کل اور آج کا موازنہ کر سکیں۔ اچھائیوں اور خوبصورتیوں سے بھرے منظروں کو دوبارہ اپنے ڈرائنگ روم میں سجائیں۔ آئیے تیز رفتار زمانے میں پھیکے شب و روز کو اپنائیت اور اخلاص کی مہک سے خوشگوار بنا کر اپنی ذات اور سماج میں خوشیاں بکھیریں۔
اس میں دو رائے نہیں کہ مجید لاشاری جیسے جید اردو شاعر کی بیٹی اور ثقافت کے رنگوں میں سجے کامران لاشاری کی بہن شفق لاشاری نے اپنے صحن میں بِچھے ادبی اور ثقافتی رنگ اکٹھے کرتے ہوئے پرانے لاہور کی تہذیب وتمدن کی جو تصویر کشی کی ہے وہ تاریخی حیثیت کی حامل ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں