کاشف اشفاق

گندم کی بمپر کراپ کے دعوے اور حقائق

حکومتی دعووں کے مطابق اس سال گندم کی بمپر کراپ حاصل ہوئی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ فی ایکڑ پیداوار کی اوسط میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ تاہم اس کے باوجود حکومت نے گندم کی پیداوار کا جو ہدف مقرر کیا تھا وہ پورا نہیں ہو سکا ۔ وفاقی کمیٹی برائے ایگری کلچرکے اعلامیے کے مطابق اس سال دو کروڑ 22 لاکھ ایکڑ سے زائد رقبے پر گندم کاشت کی گئی جس کی مجموعی پیداوار کا تخمینہ دو کروڑ 68 لاکھ ٹن لگایا گیا ۔ اگرچہ اس سال گندم کی پیداوار میں گزشتہ سال کی نسبت1.6فیصد کا معمولی اضافہ ہوا ہے لیکن پھر بھی یہ پیداوار اتنی نہیں کہ پاکستان کی مجموعی آبادی کی ایک سال کی ضرورت پوری ہو سکے۔ واضح رہے کہ پاکستان میں گندم کی کھپت سات سے دس فیصد سالانہ بڑھ رہی ہے۔ اس حساب سے دیکھا جائے تو گزشتہ سال یہ کھپت تین کروڑ تھی تو اس سال ہمیں تین کروڑ 32 لاکھ ٹن گندم درکار ہو گی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان کو اس سال بھی تقریبا 50لاکھ ٹن گندم درآمد کرنا پڑے گی۔ گندم کی پیداوار اور درکار مقدار میں یہ فرق گزشتہ پانچ سال سے جاری ہے لیکن اس کے باوجود ہم اس مسئلے کو مکمل طور پر حل نہیں کر سکے ۔
اکنامک سروے آف پاکستان کے مطابق 2017ء میں گندم کی پیداوار دو کروڑ ساٹھ لاکھ ٹن تھی۔ 2018ء میں گندم کی پیداوار دو کروڑ پچاس لاکھ ٹن رہی۔ 2019ء میں دو کروڑ 43لاکھ ٹن، 2020ء میں دو کروڑ 52لاکھ ٹن، 2021ء میں دو کروڑ ستر لاکھ ٹن، 2022ء میں دو کروڑ 64لاکھ ٹن اور اس سال گندم کی پیداوار کا تخمینہ دو کروڑ 68 لاکھ ٹن ہے۔ ان اعداد وشمار سے یہ واضح ہوتا ہے کہ رواں سال حاصل ہونے والی گندم کی پیداوار 2021ء کی مجموعی پیداوار سے بھی کم ہے۔ تاہم یہ بات خوش آئند ہے کہ گزشتہ سال آنے والے تباہ کن سیلاب کے باوجود رواں سال گندم کی پیداوار بہتر رہی ہے۔ اس کی بڑی وجہ سازگار موسم ہے کیونکہ گزشتہ چند سال سے گندم کی کٹائی کے وقت بارشوں اور ژالہ باری سے فصلیں خراب ہو جاتی تھیں لیکن اس سال کٹائی کے دوران زیادہ بارش نہیں ہوئی جس کی وجہ سے پیداوار اچھی رہی ۔ علاوہ ازیں گندم کی امدادی قیمت میں تقریباً دو ہزار روپے فی من اضافہ بھی اس کی ایک بڑی وجہ ہے جس کی وجہ سے کسانوں نے زرعی مداخل مہنگے ہونے کے باوجود گندم کاشت کرنے کو ترجیح دی ۔
دوسری طرف گندم کی پیداوار میں اضافے کے باوجود اس وقت ملک میں آٹے کی قیمت تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہے۔ مارکیٹ میں آٹا 125سے 150 روپے فی کلو تک فروخت ہو ا ہے جس کی وجہ سے محنت کش طبقے کیلئے دو وقت کی روٹی پوری کرنا بھی مشکل تر ہوتا جا رہاہے۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ گندم کی زیادہ پیداوار کے باوجود عام آدمی کیلئے آٹے کی قیمت کم ہونے کا کوئی امکان نہیں ۔ اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ اس سال امدادی قیمت گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً دگنا ہو چکی ہے۔ اس لئے حکومت کو اگر عام آدمی کو سستے آٹے کی فراہمی یقینی بنانی ہے تو اس کیلئے امدادی قیمت کے تعین کا فارمولہ تبدیل کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ امدادی قیمت بڑھنے سے آٹے کی قیمت خودبخود زیادہ ہو جاتی ہے۔ علاوہ ازیں گندم کی پاکستان سے افغانستان اسمگلنگ بھی آٹے کی قیمتوں میں بے جا اضافے کی ایک بڑی وجہ ہے۔ اگر حکومت اسمگلنگ کا راستہ مکمل بند کر دے تو ناصرف پاکستان میں آٹے کی قیمت کو مستحکم رکھا جا سکتا ہے بلکہ افغانستان کو درکار گندم یا آٹے کی قانون کے مطابق برآمد سے زرمبادلہ بھی کمایا جا سکتا ہے۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ پاکستان میں آٹے کی تجارت مارکیٹ کے اصولوں پر نہیں ہوتی جس کی وجہ سے گندم کی تجارت میں ملوث کارٹل یا مافیاز مارکیٹ پر اثر انداز ہو کر آٹے کی قیمت میں مصنوعی اضافہ کر دیتے ہیں۔ ایسی صورتحال میں ہونا تو یہ چاہئے کہ محکمہ خوراک کے ذریعے خریدی گئی گندم کو مارکیٹ میں لا کر آٹے کی قیمت میں مصنوعی اضافے کو روکا جائے لیکن ہوتا اس کے برعکس ہے۔ اس کی بڑی وجہ محکمہ خوراک کے نظام میں سرایت کر جانے والی کرپشن اور بدانتظامی ہے جس کی نشاندہی سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی خود بھی کر چکے ہیں۔
ان حالات کی وجہ سے ملکی ضرورت پوری کرنےکیلئے گندم کی درآمد پر حکومتی انحصار بڑھتا جا رہا ہے۔ وفاقی ادارہ شماریات کے مطابق پاکستان نے جولائی سے مارچ کے درمیان تقریباً ایک ارب ڈالر کی گندم درآمد کی ہے جو کہ گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 25فیصد زیادہ ہے۔ زرمبادلہ کے حوالے سے درپیش مسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے اگرچہ حکومت نے ملکی ضروریات پوری کرنے کیلئے بیرون ملک سے مزید گندم درآمد کرنے کی بجائے گندم خریداری مہم کے اہداف میں اضافہ کر دیا ہے لیکن اس کی وجہ سے کسانوں اور دیہات میں رہنے والی آبادی کی بڑی تعداد کو ضلعی انتظامیہ اور محکمہ خوراک کے اہلکاروں کی جانب سے ناروا سلوک کا سامنا ہے اور انتظامیہ اپنا ہدف پورا کرنے کیلئے لوگوں کے گھروں اور گوداموں پر چھاپے مار کر ذاتی استعمال کیلئے ذخیرہ کی گئی گندم ضبط کر رہی ہے۔ اس لئے حکومت کو چاہئے کہ گندم کی برآمد کرنے والا ملک بننے کے دعوے کرنے سے پہلے گندم کی پیداوار میں خود کفالت کا ہدف حاصل کرنے پر توجہ دے۔ اس کیلئے موسمیاتی تبدیلیوں کا بہتر مقابلہ کرنے کی صلاحیت کے حامل بیجوں کی تیاری اور زرعی مداخل پر آنے والی لاگت کو کم کرنے کے ساتھ ساتھ کاشت کاری کے جدید طریقوں کو اپنانے کی ضرورت ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں