arif nonari

بنیادی تعلیم سے محروم بچے

کسی بھی ملک کی ترقی کا راز اس کی تعلیمی ترقی پر ہے اگر ہم ترقی یافتہ ممالک کو دیکھیں تو وہاں ترقی معیاری تعلیم کی وجہ سے ممکن ہو ئی۔پاکستان میں تعلیمی پالیسیاں اور تعلیمی ڈھانچہ انتہائی ناقص ہے، کوالٹی ایجوکیشن کا نام و نشان تک نہیں ،یکساں تعلیمی نصاب ابھی تک نافذالعمل نہیں ہوا ،طبقاتی نظام تعلیم کی وجہ سے والدین اور بچے پریشان ہیں کہ اس سسٹم میں اعلیٰ تعلیمی اداروں کے بچے آگے نکل جاتے ہیں۔
والدین کی بے پروائی اور عدم دلچسپی کی وجہ سے 28ملین بچے اسکول سے باہر ہیں ۔’’ معیاری تعلیم سب کےلئے‘‘ نعرہ ہی نہیں نصب العین ہونا چا ہیے ۔ ریاست کا فرض ہے کہ ہربچے کے لیے بنیادی تعلیم کے حصول کو یقینی بنائے اور جو بچے اسکول نہیں جاتے ان کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کر نے کے لیے موثر اقدامات کرے ۔پاکستان میں جب تک ان بچوں کے اسکولوں میں انرولمنٹ کو یقینی نہیں بنایا جائے گا،ہم آگے نہیں بڑھ سکتے اور نہ ہی ملک ترقی کر سکتا ہے۔ بنیادی تعلیم سے محروم بچوں کے لئے ہمیں مثبت پالیسیاں بنانا ہوں گی۔ یونیسکو کے اعداد وشمارکے مطابق دنیا میں 24 کروڑ 40 لاکھ بچے اسکول نہیں جاتے جبکہ 77کروڑ 10 لاکھ افراد ایسے ہیں جنہیں بالکل بھی پڑھنا لکھنا نہیں آتا، اکنامک سروے 2022 ء کے مطابق پاکستان کی کل آبادی کے تناسب سے کل شرح خواندگی 62.8فیصد ہے جبکہ دیہی علاقوں میں54 فیصد اور شہری علاقہ جات میں 77.3 فیصد ہے، پاکستان میں اب بھی 6 کروڑ سے زائد افراد ایسے ہیں جو پڑھنے کی صلاحیت سے محروم ہیں۔ اگر صوبائی اعتبار سے دیکھا جائے تو پنجاب کی شرح خواندگی 66.3فیصد ، سندھ کی61.8 فیصد، خیبر پختونخوا کی55.1 فیصد اور بلوچستان کی54.4فیصد ہے۔پاکستان میں مردوں کی شرح خواندگی 72.5 فیصداور عورتوں کی51.8فیصد ہے۔ لیبر فورس سروے 2018 ء اور 2019 ء کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کی شرحِ خواندگی62.4 فیصد تھی جو 2021ء میںصفر اعشاریہ چارفیصد کے اضافے کے ساتھ62.8فیصد ہو گئی۔پاکستان میں 2 کروڑ 28لاکھ بچے (جن کی عمر 5 سے 16 سال کے درمیان ہے) اب بھی اسکولوں سے باہر ہیں جن میں 53 فیصد لڑکیاں جبکہ 47 فیصد لڑکے شامل ہیں، جنسی ، سماجی و معاشی حالات اور علاقائی رسم و رواج کی وجہ سے سندھ میں 58 فیصد لڑکیاں اور بلوچستان میں 78 فیصد لڑکیاں اسکولوں سے باہر ہیں۔ پاکستان میں شرح خواندگی کو بڑھانے میں پاکستانی حکومت پچھلے کچھ برسوں سے سنجیدہ نظر آئی ہے اور اب تک پورے پاکستان بشمول آزاد جموں کشمیر اور گلگت بلتستان میں نوجوانوں کے لیے ایک لاکھ 70ہزار 190 سے زائد تعلیمی مراکز قائم کیے گئے ہیں جن کے ذریعے 2002ء سے لیکر اب تک 39 لاکھ 80 ہزار نوجوانوں کو بنیادی تعلیم سے آراستہ کیا جا چکا ہے ان میں زیادہ تعداد خواتین کی ہے۔ حکومت پاکستان نے 2002 ء میں نیشنل لٹریسی ریسورس سینٹر کے نام سے اسلام آباد میں ایک سینٹر قائم کیا تھا جس کے تحت اب تک تعلیم، عملی زندگی میں کام آنے والی مہارتوں اور آمدنی پیدا کرنے کے طریقوں پر سو سے زائد کتابچے تحریر کیے جاچکے ہیں۔ زندگی کے تمام مسائل بشمول صنفی مساوات اور غربت کا بنیادی حل تعلیم کی مساوی فراہمی ہے۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کا مسئلہ صرف تعلیم کی فراہمی نہیں بلکہ ترقی یافتہ ممالک جیسی معیاری تعلیم کی فراہمی کا ہے۔
پاکستان میںحالیہ تباہ کن سیلاب کے بعد 20لاکھ سے زائد بچے اب بھی اپنے اسکولوں کی بحالی کے منتظر ہیں ۔ ملک کی تاریخ کے بدترین سیلاب نے تقریباً 27 ہزار اسکولوں کو جزوی یا مکمل نقصان پہنچایا ہےیونیسف کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ’’پاکستان کے لاکھوں بچے راتوں رات انتہائی تکلیف دہ حالات میں اپنے خاندان کے افراد، گھروں، ذاتی تحفظ اور تعلیم کی سہولت سے محروم ہو گئے۔اب انہیں ایک غیر یقینی صورتحال کا سامنا ہے کہ وہ اسکول واپس جاسکیں گے یا نہیں ، حالانکہ وبائی مرض کی وجہ سے انہیں اسکولوں کی جس بندش کا سامنا کرنا پڑا وہ دنیا کی طویل ترین بندشوں میں سے ایک تھی ،اوراب ان کے مستقبل کو مزید خطرات کا سامنا ہے ۔‘‘
پاکستان کے اکثر علاقوں کے تباہ کن سیلاب سے متاثر ہ اسکولوں کی بحالی کا کامکافی حد تک مکمل ہو چکا ہے۔ وزیراعظم پاکستان بین الاقوامی فورموں میں بھی سیلاب کے دوران تعلیمی نقصانات کی نشاندہی کر چکے ہیں اور کتنے بچے اسکول جانے سے محروم ہیں اور ان کے مسائل کیا ہیں اس پر بھی بریفنگ دے چکے ہیں ۔
تعلیم و تربیت کے علاوہ اسکول بچوں کی صحت کی دیکھ بھال، نفسیاتی مدداور حفاظتی ٹیکوں تک رسائی فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔اسکولوں کی بندش کے دورانیے میں اضافے سے ، بچوں کے تعلیم ترک کرنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے جس سے مزدوری اور کم عمری کی شادیوں پر مجبور ہونے کے علاوہ استحصال اور بدسلوکی کے امکانات میں بھی اضافے کا خدشہ ہے۔سیلاب سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے اضلاع پہلے ہی پاکستان کے سب سے زیادہ خطرات سے دوچار علاقوں میںشامل ہیں۔سیلاب سے قبل بھی متاثرہ علاقوں میں ایک تہائی لڑکے اور لڑکیاں اسکولوں سے باہر تھے اور 50 فیصد بچے غذائی کمی کا شکار تھے۔ طویل عرصے تک اسکولوں کی بندش سے ان محرومیوںمیں مزید اضافہ ہو ا ہے ۔
وبائی مرض کے عروج کے دوران بھی یہاں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ پاکستان بھر میں اسکولوں کومارچ 2020 اور مارچ 2022 کے درمیان مکمل یا جزوی طور پر 64 ہفتوں کے لئے بند کردیا گیا تھا ۔پاکستان میں حالیہ سیلاب میںچھ ماہ سے بھی کم عرصے کے بعد، شدید سیلاب کی وجہ سے ہونے والی تباہی کی بدولت اسکولوں کے بچے ایک بار پھر تعلیم سے محروم ہوگئے تھے۔ بجلی اور انٹرنیٹ کنیکٹوٹی سمیت بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والے شدید نقصان نے ریموٹ لرننگ کو بھی بڑی حد تک ناقابل رسائی بنا دیا۔
بچوں کوبنیادی تعلیم کی فراہمی کے لیے حکومت کو یونین کونسل کی سطح پر والدین کے لئے آگاہی سیشن کے انتظامات کرنے چاہئیں اور معاشرےمیں بھی ایسی کمپین شروع کرنے کی ضرورت ہے جس سے بچوں کی اسکولوں میں تعداد میں اضافہ ہو سکے۔ پڑھے لکھے طبقوں کو بھی اپنے ارد گرد لوگوں کو آگاہی دینے کا فریضہ ادا کرنا چاہیے ۔‘‘

اپنا تبصرہ بھیجیں