Professor Abdullah Bhatti

صدقہ خیرات

اتوار کے دن میںگھر پر ٹھنڈے ٹھار میٹھے لال سرخ تربوز سے لفط اندوز ہو رہا تھا سرخ میٹھا تربوز بچپن سے میری کمزوری رہا ہے زمیندار خاندان سے تعلق کی وجہ سے جیسے ہی موسم گرما کا آغاز ہو تا تو ٹیوب ویل پر جا کر بڑے بڑے تربوز ٹیوب ویل کی ٹھنڈی ٹھار تیز پانی کی دھار کے نیچے ڈال کر پہلے تربوز وں کو ٹھنڈا کر تا ساتھ میں تیز دھار کے نیچے سر رکھ کر ٹھنڈے آبشاری پانی کا لطف اٹھاتا جسم کی گرمی کو زائل کرناپھر وہیں پانی کے حوض میںہاتھوں سے تربوز کھانا میرا دوستوں کے ساتھ پسندیدہ ترین مشغلہ تھا آج بھی میں بچپن جوانی کی یادوں کے ساتھ کالا نمک لگا کر تربوز پر حملہ آور تھا کہ ڈور بیل نے میری محویت اور تربوز کی چیر پھاڑ کو روکا فضا ڈور بیل کی ارتعاش سے لرز اٹھی میں بادل نخواستہ دروازے کی طرف بڑھا میں کسی بھی ملاقاتی سے ملنے اُس کا ڈپریشن داستان غم سننے کے موڈ میںنہیں تھا بلکہ میں تھوڑا سا ناراض غصے میںدروازے تک پہنچا کہ کس نے آکر میں پسندیدہ عمل میں رکاوٹ ڈالی ہے لیکن دروازہ کھولنے پر سامنے کھڑا چہرہ دیکھ کر میرا سارا غصہ اورآف موڈ کا فور ہو گیا دروازے پر میرے بچپن جوانی کا دوست اکرم بلا کھڑا تھا میںاُسے دیکھ کر آگے بڑھ کر گرم جوشی سے بغل گیر ہو گیا وہ بھی مجھے گھر پا کر خوش تھا گلے مل کر بولا جناب آپ توگھر پر ہیں میں تو بہت ڈرا ہوا آیا تھا کہ آپ چھٹی کے دن لوگوں سے نہیں ملتے لیکن میں نے رسک لیا کہ قسمت میںہوا تو ملاقات ہو جائے گی ورنہ گھر اور یار کے آستانے کو سلام کر کے واپس لوٹ جائوں گا کوئی اور ہوتا تومیں بلکل بھی خوش نہ ہوتا لیکن اکرم بلّے کو دیکھ کر مجھے واقعی دلی خوشی ہوئی تھی ہمارا ہائی سکول کا کلاس فیلو میڑک میںفیل ہوا تو پڑھائی چھوڑ کر تانگے پر سواری کر لی والد صاحب عرصہ دراز سے تانگہ چلاتے تھے جب اِس نے سکول چھوڑا کچھ عرصہ تو فارغ رہا پھر والد صاحب نے اپنے تانگے پر اِس کو بٹھانا شروع کر دیا میں تعلیمی سیڑھیاں چڑھتا آگے نکلتا چلا گیا لیکن اِس سے کبھی کبھار ملاقات ہو جاتی تو بہت خوشی سے ملتا اِس کا نام محمد اکرم تھا لیکن یہ ایسی حرکتوں کی وجہ سے بلاّ کے نام سے مشہور ہو گیا تھا ہم لوگ بچپن میں جس کھیل میں شریک ہو ئے یہ صف اول میں ہوتا طویل قامت خطرناک درختوں پر چڑھ جاتا حتیٰ کہ مشکل ترین آسمان کو چھوتے کھجور کے درخت پر بھی چڑھ جاتا گائوں میں چند ہی جوان ہو نگے جو لمبی آسمان کو چھوتے درخت کھجور پر چڑھ جاتے ہوں یہ لمحوں میںچھلانگیں لگاتا چڑھ جاتا نہر اور دریا پر سیدھی تیراکی کی بجائے الٹی تیراکی کر جاتا ہیڈ بلوکی دریا پر پل کے اوپر سے چھلانگ لگا کر پل کے نیچے تیر کر نکل جاتا شکار کرتے ہوئے دریا جھیل میںشکار زدہ مرغابیوں کوتیر کر پکڑ لیتا چھوٹے قد پر مضبوط جسم والا جوان تھا جب اِس نے دو تین بار بھاگ کر جنگلی خرگوش کو ہاتھ سے پکڑا تو لوگوں نے اِس کانام بلا رکھ دیا کہ تو بلے کی طرح چست تیزی سے دوڑ اور کبڈی کا اچھا کھلاڑی تھا اِس کی پھرتی چالاکی ہر جگہ اِس کو نمایاں رکھتی تھی اپنی اِن حرکتوں کی وجہ یہ چھوٹا سا ہیرو تھا لیڈر تھا ہر کام میں بلا خوف کود پڑتا تھا اِس لیے یہ آس پاس کے دیہات تک میں مشہور ہو چکا تھا شکاری کتے رکھے ہوئے تھے جس سے شکار کرتا دیسی مرغ بھی رکھے ہوئے تھے کبھی کتوں کے دنگل کراتا تو کبھی دیسی مرغوں کے مقابلوں میں فلک شگاف نعرے مارتا نظر آتا اپنی اِن خوبیوں یا حرکتوں کی وجہ سے نمایاں تھا تانگہ رکھا ہوا تھا اِس لیے اکثر تانگے گھوڑے دوڑاتا نظر آتا میں پڑھ کر نوکری کرنے کے لیے کوہ مری چلا گیا لیکن جب کبھی بھی ملاقات ہوتی تو جوانی کے ایام اور شرارتیں یاد کرتے یہ لوگوں کو بڑے فخر سے اپنے کارنامے بتاتا کیونکہ اپنے کارناموں کی وجہ سے نمایاں تھا اِس لیے اِس نے اپنے بھرم کو قائم بھی رکھا حلال کا رزق کماتا میں جب بھی ملتا پوچھتا بلے کوئی کام کسی مدد کی ضرورت ہو تو بتانا تو بلا سینے پر ہاتھ رکھ کر بولتا جناب مولا کا کرم ہے اُس نے سب کچھ دے رکھا ہے بس جناب آپ خوش ہو کر مل لیا کرومیرے لیے یہی کافی ہے میں نے چند دوستوں سے بھی پوچھا کہ بلا کیسے کردار کا مالک ہے تو دوستوں نے غیرت اور انا کا بتایا کہ بلا ایک غیور انسان ہے حلال کی روزی کماتا ہے کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلاتا پھرمیں نے ایک دن بلے کو دیکھا یہ تانگے کی بجائے چنگ چی پر سوار نظر آیا تو بولا جناب چنگ چی تانگے کو کھا گئی ہے لہذا میں نے بھی مجبورا چنگ چی لے لی ہے اب یہی میرا تانگہ ہے اکرم بلا ایک مثبت سوچ خیال کا زندگی سے بھر پور انسان تھا جب بھی ملا چہرے پر پرسکون دوستانہ مسکراہٹ کے ساتھ کوئی شکوہ شکایت نہیں پر سکون مطمئن زندگی کے رنگوں سے بھر پور کیونکہ مشکل کام کرنے کی بچپن سے عادت تھی پیدائشی پھرتیلا کھلاڑی تھا اِس لیے کھلاڑیوں والی سپورٹس مین شپ سے بھی بھرا ہوا تھا آپ اگر کبھی فطری کھلاڑیوں سے ملیں تو محسوس کریں گے کہ وہ ہر بات کو مثبت انداز سے دیکھتے ہیں دوستانہ رویہ رکھتے ہیں حوصلہ دیتے ہیں دکھ بھری مایوسی والی باتیں نہ کرتے ہیں اور نہ ہی مد مقابل کو مایوسی کی تلقین کر تے ہیں مجھے ایسے لوگ بہت پسند ہیں جو اللہ کی موجود نعمتوں کا شکر ادا کرتے ہیں جو حال میں موجود ہوتے ہیں جو ماضی کی ناکامیوں پر ماتم کرتے نظر نہیں آتے نہ ہی مستقبل کے اندیشوں میں گھرے نظر آتے ہیں جوموجود ہے اُس کو بھرپور طریقے سے جیتے ہیں آج بھی بلا میرے پاس آیا تو میں بہت حیران تھا کیونکہ بلا کبھی بھی لاہور مُجھ سے ملنے گھر نہیں آیا تھا میں نے پہلے تو اُس کی تواضع لال سرخ میٹھے تربوز سے کی پھر گھر اچھے کھانے کا کہا کہ میرا قریبی دوست آیا ہے اِس کے لیے اچھی دعوت والا کھانا تیار کیا جائے بلے نے مجھے بہت روکا کہ کھانے کی ضرورت نہیں لیکن میں نے کہا آج بہت عرصے بعد مل کر کھاتے ہیں تو بلا مان گیا اب میں تجسس بھری نظروں سے بلے کی طرف دیکھ رہا تھا کیونکہ وہ کسی خاص کام یا وجہ سے آیا تھا یہ عام ملاقات نہیں تھی کوئی خاص کام یا مجبوری بلے کو میرے گھر لائی تھی اب میں مختلف بہانوں سے اُس کو ٹٹول رہا تھا لیکن بلا بتا نہیں رہا تھا کہ وہ میرے پاس کیوں آیا ہے لیکن میں جانتا تھا یہ عام ملاقات نہیں ہے اُس کی وضع داری انا غیرت اُس کو اجازت نہیں دے رہی تھی وہ اپنی غیور طبیعت کی وجہ سے بتا نہیں رہا تھا ورنہ اِس مہنگائی کے عوام کش دور میں بلے جیسا سفید پوش کرایہ خرچ کر کے میرے پاس نہ آتا اِسی دوران کھانا آگیا بلے نے خوب دل بھر کر کھایا جب وہ کھا رہا تھا تو میں خوش ہو رہا تھا کھانے کے بعد چائے آگئی اب بلا صوفے پر پہلو بدل رہا تھا وہ بھی جانتا تھا کہ چائے کے بعد اُس کے بیٹھنے کی وجہ نہیں رہے گی اِس لیے وہ اُس پل صراط سے گزرنے کی کو شش کر رہا تھا جس تکلیف یا مجبوری میں وہ مبتلا تھا میں نے بھی اُس کا حوصلہ بڑھانے کی کو شش اور پوچھا یار بتائو میں تمہارے کسی کام آسکتا ہوں تو وہ انکار کر تا رہا لیکن آکر مجبور ہو کر بولا یار سنا ہے تم اور تمہارے دوست صدقہ خیرات بھی کرتے ہیں غریب لوگوں کی مدد بھی کرتے ہیں پھر اُس کی جسم پر رعشہ طاری ہوا اُس نے کانپنا شروع کر دیا پھراپنے رومال صافے کو اپنی آنکھوں پر رکھ کر رونا شروع کر دیا ہچکیاں لینا شروع کر دیں بڑی مشکل سے بولا یار مہنگائی بہت ہو گئی ہے بیوی کے آپریشن پر چنگ چی بیچ دی تھی آجکل کر ائے کی چلاتا ہوں مہنگائی ہمارے جیسوں کو کھا گئی ہے یار صدقہ خیرات مجھے بھی دے دیا کرو پھر وہ تیزی سے اٹھا میرے روکنے کے باوجود چلا گیا میں اُس کو جاتے دیکھ کر سوچ رہا تھا مہنگائی کا ناگ کتنے بلوں کو کھا گیا جو بیچارے صدقہ خیرات پر آگئے ہیں کیا آپ کے آس پاس کوئی بلے جیسا تو نہیں اُس کی مدد کریں پلیز ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں