پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

روشن آنکھیں

مسلسل بارشوں اور مون سون کی آمد کی وجہ سے گرمی کی حدت کم ہو کر موسم خوشگوار ہو گیا تھا قریبی پارک مسلسل بارشوں کی وجہ سے پانی میں ڈوب چکا تھا واکنگ ٹریک بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھا نہ ہی ادھورے ٹریک پر واک ہو سکتی تھی میں شدت سے واک کو مس کر رہا تھا جیسے ہی گلی کی سڑک پانی سے صاف ہوئی میں نے جو گر پہنے اور گلی میں واک کر نا شروع کر دی ساتھ میں موبائل فون آن کیا تاکہ خواہش مند وں کے فون سن سکوں اِس طرح میں میرے قدم واک جبکہ سماعت لوگوں سے باتوں میں مصروف تھے آدھا گھنٹہ گزر گیا کہ میں جب واپس مُڑا تو گھر کے پاس بہت بڑی مہنگی جیپ کو کھڑے پایا میرا واک کا کوٹہ ابھی ادھورا تھا اِس لیے میں نظر انداز کر کے موڑ کے پاس سے گزر گیا جب دوتین بار پاس سے گزرا تو تجسس کی دیوی بیدار ہو گئی کہ سائل تو بے صبرا بے چین بے قرار ہو تا ہے یہ کون صاحب ہیں جو آرام سے آرام دہ گاڑی میں آرام فرما رہے تھے اِس بار پاس سے گزرا تو جب کار کے اندر جھانکا تو نظر آیا ڈرائیونگ سیٹ پر جوان شخص جب کہ ساتھ والی نشت پر ایک بوڑھی عورت موجودتھے دونوں میری طرف دیکھ رہے تھے لیکن دونوں نے نہ اشارہ کیا اور نہ ہی نیچے اتر کر ملنے کی کوشش کی تو میں نے آگے جا کر سیکورٹی گارڈسے پوچھا کہ یہ کون لوگ ہیں کس سے ملنے آئے ہیں تو سیکورٹی گارڈ بولا سریہ دو تین دن سے آپ سے ملنے آرہے ہیں آپ کا شیڈول پتہ کر کے گئے تھے آج بھی یہ آئے تو ہم نے بتایا آپ واک کر رہے ہیں تو بولے ہم اُن کو دوران واک بلکل بھی ڈسٹرب نہیں کریں گے جب وہ فارغ ہو جائیں گے تو مل لیں گے لہذا جناب یہ آپ کا انتظار کر رہے ہیں دونوں کے انتظار کر نے کے انداز نے مجھے متاثر کیا کہ اِس طلسماتی ہو شربا مادیت پرستی کے دور میں جب بے چینی بے قراری مطلب پرستی جلد بازی ہڈیوں تک سرایت کر گئی ہے یہ کس جزیرے سے برآمد ہو ئے ہیں کہ آرام سے بیٹھے انتظار کر رہے ہیں کیونکہ میرے ملاقاتیوں میں اکثریت بے چین بے قرار جلد باز روحوں کی ہو تی ہے جو اِس بات سے بلکل بے خبر مجھے مشین یا کوئی پراسرار قوتوں کاملک جن سمجھ کر آتے ہیں اتنی جلد بازی بے چینی نفسیاتی بے قراری آتے ہیں مُجھ عاجز پر انڈیل دیتے ہیں یہ دیکھے بنا کر میری طبیعت بھی ٹھیک ہے کہ نہیں ان کو صرف اور صرف اپنی بات پریشانی کی پڑی ہو تی ہے بھائی آپ ضرور اپنی پریشانی شئیر کریں لیکن تھوڑا شائستہ رویہ یا مہذب انداز اپنا لیں گے تو کونسی قیامت آجائے گی یہ تو بے شمار دفعہ میرے ساتھ ہو چکا کہ میں شدید بیمار بخار میں مبتلا ہو ں گھر جانے لگتا ہوں یا کسی دوست یا عزیز کی وفات یا جنازے پر جانے لگتا ہوں تو کوئی بے چین جلد باز روح مُجھ سے آکر ٹکراتی ہے میںاگر کہوں کہ بیماری کی وجہ سے یا کسی جنازے میں جا رہا ہوں آپ کل پرسوں مل لوں گا تو وہ میرے درداور مصروفیت کو نظر انداز کر کے کہتے ہیں سر میرا کام کب ہو گا سر میرے مسئلے کا حل بتائیں سر مجھے تھوڑا سا وقت دے دیں سر میں بہت دور سے آیا ہوںسر میں بہت مجبور پریشان ہوں جب تک وہ اپنی بات بتائے گا نہیں جائے گا نہیں وہ اِس بات کو بلکل بھی محسوس نہیں کرے گا کہ میں بیمار ہوں یا کسی عزیز کے جنازے پر جا رہا ہوں یا ذاتی کام کے لیے جا رہا ہوں ایسے جلد بازوں کی مجھے عادت سی ہو گئی ہے میں خود کو سمجھا لیتا ہوں کہ کوئی بات نہیں بیچارہ بہت پریشان ہو گا اِس لیے یہ جلد بازی کر رہا ہے اِسے متوالوں کی موجودگی میں ایک امیر زادہ آرام سے انتظار کر رہا تھا یہ میرے لیے حیرت کی بات تھی کیونکہ امیر زادے ہر چیز کو پیسے سے خریدنے کی کو شش کر تے ہیں یا مہنگی گاڑی موبائل یا مہنگی گھڑی یا لبا س دکھا کر شو کرتے ہیں کہ میں معاشرے کا ایک خاص بااثر بندہ ہوں میں کوئی عام ملاقاتی نہیں ہوں کیونکہ میں سپیشل ہوں اِس لیے مجھ سے فوری طور پر ترجیحی بنیادوں پر ملا جائے کیونکہ ایسے لوگ دولت کے بل بوتے پر ہر کام کرنے کے عادی ہو تے ہیں اِس لیے اِن کو انتظار کی عادت نہیں ہوتی جبکہ یہ جوڑا امیر ہونے کے باوجود آرام سے انتظار کی سولی پر لٹکا ہوا تھا میں نے ایک دو چکر اور لگائے لیکن شفقت نرم دلی مُجھ پر غالب آگئی کہ کوئی تمہارا انتظار کر رہا ہے اور تم واک پر لگے ہوئے ہو لہذا میں نے واک کو ختم کرنے کا ارادہ کیا اور جہازی مہنگی گاڑی کی طرف بڑھ گیا مجھے اپنی طرف آتا دیکھ کر ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا جوان جلدی سے دروازہ کھول کر نیچے اُتر ا اور میری طرف آکر سلام بولا میں نے بھی شائستگی خوشدلی سے جواب دیا اور بولا بتائیں جناب میں آپ کی کیا خدمت کر سکتا ہوں تو جوان مہذب لہجے میں بولا سر پہلے تو میں آپ سے معافی چاہتا ہوں بنا وقت لئے آپ سے ملنے چلے آئے لیکن یہ مجبوری تھی میں اسلام آباد میں کام کرتا ہوں بزنس کی وجہ سے مختلف شہروں بلکہ ملک سے باہر رہتا ہوں دو دن پہلے لاہور آیا تو آپ سے ملنے کا پروگرام بنا یا سر اندر گاڑی میں میری جنت میری ماں بیٹھی ہوئی ہے جو فالج کا شکار ہے چل نہیں سکتی اِس لیے ہم کار میں بیٹھے تھے سر یہ میری دنیا میں سب سے قیمتی چیز ہے سر آپ سے دعا لینے آیا ہوں کہ یہ تندرست ہو جائیں سر میں اِن کو بیمار نہیں دیکھ سکتا سر میں اِن کی صحت کے لیے کروڑوں روپیہ لگا سکتا ہوں اپنی ساری دولت جائیداد اِن کی صحت کے لیے خرچ کر سکتا ہوں سر یہ میری ماں نہیں ہیں میں بچپن میں یتیم ہو گیا تھا یہ میری آیا تھیں جنہوں نے مجھے پال کر جوان کیا میرے والد صاحب کے جانے کے بعد میںنے اِن کو اپنی سگی ماں کی طرح رکھا ہوا ہے اِن میںمیری زندگی ہے سرانہوں نے مجھے زندگی دی میں اِن کو زندگی دینا چاہتا ہوں جوان کا نام عبدالباسط تھا وہ اپنی ماں کی صحت کے لیے منتیں تر لے کر رہا تھا یہ اُس کی سگی ماں نہیں تھی لیکن جس ملازمہ نے آیا بن کر پالا اُس کو سگی ماں کا مقام دے دیا اور یہ رشتہ باتوں کی حد تک نہیں اصل میں نبھا رہا تھا میںکار کا دروازہ کھول کر ڈرائیونگ سیٹ جب کہ باسط پچھلی سیٹ پر بیٹھ گیا بوڑھی ماں فالج کی وجہ سے خاموش تھی وہ پیار بھری نظروں سے میری طرف دیکھ رہی تھی میں نے ماں کا ہاتھ پکڑ کر چوم لیا بہت ساری دعائیں دیں ماں کو پیار کیا جس نے ملازمہ ہو کر سگی ماں بن کر دکھایا پھر ذکر اذکار بتا کر نیچے اُتراتو باسط بہت ممنون روشن نظروں سے میری طرف دیکھ رہا تھا میں قدرت پر حیران تھا باسط نے آیا کو ماں بنا کراعلیٰ عبادت کی ایسی عبادت جس کا نور اُس کی آنکھوں میں چمک رہا تھا لوگ بہت عبادت کے بعد یہ روشنی نہیں پاسکتے جو روشنی باسط کی آنکھوں سے پھوٹ رہی تھی کاش ایسی حقیقی عبادت ہمیں بھی نصیب ہو جو روشنی بن کر ہماری آنکھوں کو روشن کر دے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں