chana-sabut-kala

🔷 کالے چنے​ 🔷

​چنوں کا شمار اہم ترین دالوں میں کیا جاتا ہے۔ چنے برصغیر ہند میں زیادہ استعمال کئے جاتے ہیں۔ چنوں کا تعلق مغربی ایشیا سے بیان کیا جاتا ہے​۔
​ہندوستان سمیت دنیا کے بیشر ممالک میں چنے وسیع پیمانے پر کاشت ہوتے ہیں۔ چنوں کو بھون کر، سالن پکا کر اور بھگو کر استعمال کیا جاتا ہے۔ ان کا مزاج خشک گرم ہوتا ہے​۔

​غذائی صلاحیت:​
​ چنے میں​
​پروٹین 25 فیصد​
​غذائی ریشے 72 فیصد​
​کابوہائیڈریٹس 9۔60 فیصد​
​پوٹاشیم 28 فیصد​
​آئرن 42 فیصد​
​میگنیشیم 66 فیصد​
​وٹامن بی15 6 فیصد​
​سوڈیم 38 ملی گرام​
​کیلشیم 13 فیصد​
چنے کی غذائی صلاحیت 341 کیلوریز ہے​۔

​شفاء بخش صلاحیت:​
1۔ امام علی رضا علیہ السلام فرماتے ہیں: چنے کمر درد کے لیے مفید ہیں۔ آپؑ طعام سے پہلے اور بعد میں چنے منگواتے تھے۔ وسائل الشیعہ، جلد25، ص126، حدیث 31403۔

2۔ ​چنے بلغمی لوگوں کے موٹاپے کو کم کرتے ہیں​۔

3۔ ​چنے خواتین کی روکی ہوئی ماہواری کو جاری کرتے ہیں​۔

4۔ ​چنے سپرم پیدا کرتے اور کمی کو پورا کرتے ہیں​۔

5۔ ​چنے بلڈ شوگر کو نارمل رکھتے ہیں​۔

6۔ ​چنے کا شوربہ پیشاب کی زیادتی کو کنٹرول کرتا ہے۔

7۔ ​چنے خون میں ریڈ سیل کی بہت مفید ہوتے ہیں​۔

8۔ ​چنے سبزی خوروں کے لئے پروٹین کا بہت بڑا ذریعہ ہے​۔

9۔ ​چنے انتڑیوں میں روکی ہوئی گیس کا اخراج کرتے ہیں​۔

10۔ ​چنے کا شوربہ سردی کے زکام اور چھینکوں کا اچھا علاج ہے​۔

11۔ ​چنے زبردست جنسی قوت پیدا کرتے ہیں​۔

12۔ ​چنے بالوں کو جلد سفید ہونے سے روکتے ہیں​۔

13۔ ​چنے جسم میں قوت مدافعت کو بڑھاتے ہیں​۔

14۔ ​چنے رات بھر پانی میں بھگو کر استعمال کرنا اعصابی لیکوریا کے لئے مفید ہوتا ہے​۔

15۔ ​چنے کا استعمال حاملہ خواتین کے لئے آئرن کا قدرتی ذریعہ ہے.

اپنا تبصرہ بھیجیں