Taseer Naqvi

آج ناصر کاظمی کی 51 ویں برسی ہے

تاثیر نقوی
2۔ مارچ 1972 کی صبح اچانک دروازے پر دستک ھوئی۔ باصر کو دیکھا بس وہ یہی کہہ سکا ۔۔۔”پاپا آئے ہیں۔” اور پھر گلے لگ کر روئے ۔میں نے پاپا (اپنے والد ) کو بتایا ھم باصر کہ ساتھ باہر ایمبولینس تک گئے تو آگے اپنے گھر کی گلی جہاں ناصر کاظمی نے قیام _ پاکستان کے بعد سات برس گزارے تھے اور جس جگہ پر ناصر کاظمی ۔انتظار حسین ۔شیخ صلاح الدین ۔حنیف رامے گھنٹوں کھڑے باتیں کرتے تھے وہاں سٹریچر پر لیٹے سب کو دیکھ رہے تھے ایمبولینس میں مسز ناصرکاظمی ( میری پھوپھی اور والدین کی کزن ) سوگوار بیٹھی تھیں بھائی سے ملکر پرسہ لیا اور پھر کرشن نگر گھر روانہ ھوگیئں۔ ھم بھی الگ سے روانہ ھوئے ۔ دوپہر کو جنازہ کا جلوس قبرستان مومن پورہ کی طرف روانہ ھوا اور اس طرح سب عزیزوں دوستوں اور مداحوں نے روتی آنکھوں سے انھیں سپرد _ خاک کر دیا۔اس طرح ایک عظیم انسان اور شاعری کا ایک عہد اپنے اختتام کو پہنچا۔ آج 2 مارچ ھے اور صبح سے ہی طبیعت افسردہ ھے 2 مارچ 1972 کی تمام فلم آنکھوں کے سامنے ہے۔ وہ عظیم ہستی آج بھی زندہ ھے اپنی تخلیقات ۔ یادوں اور اس خدمت کی بدولت جو اس نے ادب کے لیئے اپنی تمام زندگی وقف کی ھوئی تھی ۔
1981ء میں ناصر کاظمی کے گوشہء ادب کرشن نگر میں انکے تحریر کردہ منظوم ڈرامے ” سُر کی چھایا ” کی تقریب اجراء منعقد کی گئی جس کا تعارف انکے بڑے صاحبزادے باصر کاظمی نے تحریر کیا تھا, اُس محفل میں بیگم شفیقہ ناصر کاظمی , باصر , حسن کے علاوہ انکے پیارے دوستوں شیخ صلاح الدین , سجاد باقر رضوی , محبوب خزاں , زاہد ڈار , بیگم انتظار حسین , راقم تاثیر نقوی , ساجد علی , محمود الحسن , زاہد مسعود اور دیگر نے شرکت کی یہ پوسٹ آج باصر کاظمی نے فیس بک پر شیئر کی تو یادگار محفل اور پیارے لوگ سب ہی تو نظروں کے سامنے تھے ۔
کیسی خوبصورت محفل کہ جس میں ناصر کاظمی کی روحانی شرکت کے ساتھ انکے بہت پیارے احباب بھی شریک تھے جو اُن سے مکالمہ کر رہے تھے , یہ واقعی یادگار لمحات تھے اور دیکھیں تو اًس میں سے ناصر کے کتنے پیارے انکے پاس پہنچ چکے ہیں جو وہاں بھی اِس طرح مکالمے میں مصروف ہوں گے ۔ یقیننا” فنکار کا فن بولتا ہے مگر جس فن کی آبیاری ناصر کاظمی جیسے تخلیق کار نے خون جگر سے کی ہو تو اسکے ساتھ اسکا فن بھی زندہ رہتا ہے یہی وجہ ہے کہ آج عالم فانی سے رخصت ہوئے ناصر کاظمی کو 51 برس ہو گئے مگر وہ اور انکا فن آج بھی زندہ ہے اور ہمیشہ زندہ رہے گا ۔ اللہ کریم انکے درجات بلند فرمائے ۔ آمین

اللہ انکی مغفرت فرمائے ۔احباب اور ادب دوستوں سے گزارش ہے کہ ایک مرتبہ سورہ فاتحہ اور تین مرتبہ سورہ اخلاص کی تلاوت فرما کر مرحوم کی ایصال فرمائیں ۔۔۔شکریہ ۔۔۔تاثیر نقوی ۔۔۔

“تو جہاں چند روز ٹھہرا تھا ۔
یاد کرتا ھے تجھ کو آج وہ گھر۔۔۔
ناصرکاظمی

اپنا تبصرہ بھیجیں