بعض حضرات یہ سوال کرتے ہیں کہ مطالعہ تو کرتے ہیں پر کچھ یاد نہیں رہتا، تو پھر مطالعہ کا فائدہ کیا_؟؟
شیخ سلمان العودہ اپنی کتاب “زنزانہ’ میں لکھتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے اپنے شیخ سے شکایت کی کہ میں نے ایک کتاب پڑھی، لیکن مجھے اس میں سے کچھ یاد نہیں رہا!
چنانچہ انھوں نے مجھے ایک کھجور دی، اور فرمایا:
لو_ یہ چباؤ۔ پھر مجھ سے پوچھا:
کیا اب تم بڑے ہو گئے؟
میں نے کہا: نہیں
فرمایا: لیکن یہ کھجور تمھارے جسم میں گھل مل گئی، چنانچہ اسکا کچھ حصہ گوشت بنا، کچھ ہڈی، کچھ پیٹھ، کچھ کھال، کچھ بال، کچھ ناخن اور مسام وغیرہ!!
تب میں نے جانا کہ جو کتاب بھی میں پڑھتا ہوں، وہ تقسیم ہو جاتی ہے۔
چنانچہ اس کا کچھ حصہ میری لغت مضبوط کرتا ہے، کچھ میرا علم بڑھاتا ہے، کچھ میرا اخلاق سنوارتا ہے، کچھ میرے لکھنے بولنے کے اسلوب کو ترقی دیتا ہے، اگرچہ میں اسکو محسوس نہیں کر پاتا ہوں۔